انورگوئندی ۔۔۔ سرگودھا کی ادبی تاریخ کاایک اہم نام : یوسف خالد

آج سرگودھا کے ادبی منظر نامہ کے ایک اہم تخلیق کار محترم انور گوئندی کی برسی ہے
سرگودھا کی ادبی تاریخ میں انور گوئیندی کا نام ایک معتبر حوالے کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا –
انورگوئندی 1922 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئےاور 11 ستمبر 1974 کو سرگودھا میں وفات پائی – 52 سال کی عمر میں اس جہان سے رخصت ہونے والا یہ خوبصورت شاعر ، ادب کے فروغ میں غیر معمولی خدمات پیش کرنے والا ایسا تخلیق کار تھا جس نے صرف 18 سال کی عمر میں کامران مشاعروں کی بنیاد رکھی، پہلا کامران مشاعرہ 1940 میں منعقد ہوا- کامران مشاعروں کا یہ سلسلہ اتنا مقبول ہوا کہ پورے برصغیر سے شعرا اس میں حصہ لینے کے لیے اس کی تاریخوں کا انتظار کرتے – آج یہ بات شاید نا قابلِ یقین لگے مگر یہ حقیقت ہے کہ ان مشاعروں میں لوگ باقاعدہ ٹکٹ خرید کر شریک ہوتے تھے – اس بات سے جہاں سرگودھا کے لوگوں کی ادب دوستی اور علم پروری کا پتا چلتا ہے وہاں انور گوئندی اور ان کے رفقائے کار کی محنت کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے -ان مشاعروں کو جس اہتمام سے منعقد کیا جاتا تھا اس کی مثال کم کم ملتی ہے – اپنی زبان ،اپنے وطن اور اپنی تہذیب سے بے پناہ محبت کے بغیر ایسی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہوتا – انور گوئندی کی شبانہ روز محنت کے سبب ان مشاعروں نے سرگودھا کے ادبی ماحول میں ایسی جان ڈالی کہ سرگودھا پورے برصغیر میں علمی و ادبی مرکز کی حیثیت حاصل کر گیا –
سرگودھا کی ادبی تاریخ میں ڈاکٹر وزیر آغا اور انور گوئندی کے احوال میں ایک مماثلت پائی جاتی ہے دونوں تخلیق کار ایک ہی سال یعنی 1922 میں پیدا ہوئے اور ایک ہی ماہ یعنی ستمبر ان کی وفات کا مہینہ ہے -گویا ادبی سفر میں یہ دونوں تخلیق کار ہم عصر تھے –
انور گوئندی نے 1952 میں نظام نو کے نام سے ایک پرچہ نکالا اور پھر 1955 میں کامران رسالہ کا اجرا کیا جو 1971 تک باقاعدگی سے چھپتا رہا- اہم ترین بات یہ ہے کہ اس رسالے کی مجلسِ مشاورت میں ڈاکٹر وزیر آغا، جناب سجاد نقوی، ڈاکٹر سہیل بخاری، جناب غلام جیلانی اصغر اور مفتی طفیل گوئندی شامل تھے اس رسالے میں
برصغیر کے نامور ادباء و شعرا کی تخلیقات شائع ہوتی تھیں – کامران میں شامل ان ادباء کی تحریروں سے رسالے کے ادبی معیار کو سمجھا جا سکتا ہے –
ادب کے ایک بے لوث خدمت گزار کو ہم سے بچھڑے 46 سال ہو گئے ہیں – یہ بات بڑی تقویت کی حامل ہے کہ اس عظیم تخلیق کار کی بیٹی منزہ گوئندی اپنے والد کی خدمات کا نہ صرف ذکر کرتی ہے بلکہ اس نے ان کی بہت سی یادیں سنبھال رکھی ہیں – جس میں کامران مشاعروں اور کامران رسالہ کی دستاویز شامل ہیں – میں یہاں چند تصاویر احباب کے لیے پیش کر رہا ہوں جن سے اس عہد کی ادبی فضا ، تہذیب اور معاشرت کا پتا چلتا ہے – سرگودھا کا یہ اختصاص ہے کہ یہاں کے تخلیق کار نہ صرف ادبی طور پر زرخیز ہیں بلکہ ان کے ہاں ایک تہذیبی رکھ رکھاؤ بھی موجود ہے جو تسلسل سے اس شہر کی ادبی فضا میں شامل ہوتا رہا ہے اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے
سرگودھا کی ادبی تاریخ پر بھرپور تحقیقی و تنقیدی کام کی ضرورت ہے کہ اس شہر میں تخلیق ہونے والے ادب نے پورے اردو ادب کو متاثر کیا ہے – جدید رجحانات کو اپنانے میں اس شہر نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے – یہاں کی ادبی محافل میں آج بھی تربیت کا ایک مضبوط نظام جاری ہے – سرگودھا رائٹرز کلب اس حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے کہ کم و بیش تین دہائیوں سے یہ کلب نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہا ہے –
نوجوانوں کی کثیر تعداد اس کلب سے منسلک ہے نوجوان باقاعدگی سے ہر اجلاس میں شریک ہوتے ہیں اور اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں ، سینئر تخلیق کار ان کی راہنمائی کرتے ہیں –
اس کلب کے ذریعے سرگودھا کی ادبی سرگرمیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے – اور ہر اہم موقع پر اہم تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے – وہ لوگ جنہوں نے اس شہر میں ادب کے فروغ کے لیے کام کیا اور اب وہ ہم میں نہیں ہیں انہیں یاد رکھا جاتا ہے اور ان کی خدمات کے اعتراف میں تقاریب منعقد کی جاتی ہیں
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ انور گوئندی کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کی بیٹی منزہ انور گوئندی کو اپنے والد کے مشن کو جاری رکھنے کی ہمت عطا فرمائے –

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post