دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں (سیماب اکبر آبادی) : اسلم ملک

عُمرِ دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں
سیماب اکبر آبادی کا یہ شعر یوں سمجھیں حبیب ولی محمد نے بہادر شاہ ظفر کا بنادیا .
انہوں نے اسے اسی زمین میں ظفر کی غزل میں شامل کرکے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر کیا گایا کہ اب لوگ یقین ہی نہیں کرتے کہ یہ سیماب کا ہے. انہوں نے ’’ لائی تھی ‘‘ کے بجائے ’’ لائے تھے‘‘ کردیا۔
سیماب اکبر آبادی کی اسی غزل کے مزید دو اشعار
تم نے تو ہاتھہ جوروستم سے اٹھا لیا
اب کیا مزہ رہا ستم روزگار میں
اے پردہ دار، اب تو نکل آ کہ حشر ہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
سیماب کے چند اور شعر
یہ کس نے شاخِ گل لاکر قریب آشیاں رکھہ دی
کہ میں نے شوقِ گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھہ دی
محبت میں اک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگِ جاں پر
کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے، اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے
ہر چیز پر بہار، ہر اک شئے پہ حسن تھا
دنیا جوان تھی مرے عہد شباب میں
میں ہوں اک مستقل عنوان ہستی کے زمانے میں
مجھے تاریخ دہراتی رہے گی ہر زمانے میں
آنکھوں کو اپنی چوم لوں امکاں ہو اگر
ان میں مزہ بھرا ہے تیرے انتظار کا
نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی
کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی
تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں
نظر آخر نظر ہے ، بے ارادہ اٹھہ گئی ہوگی
سیماب اکبر آبادی کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ 5 جون 1880 کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، محمّد حسین صدیقی بھی شاعر تھے۔ 17 برس کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا جس کی وجہ سے ایف اے کے آخری سال میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ 1898 میں ملازمت کے سلسلے میں کان پور گئے اور وہیں فصیح الملک داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے۔ 1921 میں ریلوے کی ملازمت چھوڑ کر آگرہ میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور قصرِ ادب کے نام سے ادبی ادارہ قائم کیا۔ ملازمت کے دوران ماہنامہ مرصع ، ماہنامہ پردہ نشین اور آگرہ اخبار کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ قصرِ ادب ادارے سے ماہنامہ پیمانہ جاری کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا۔
ساغر نظامی، سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔
علامہ سیماب اکبر آبادی کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جن میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں قران مجید کا منظوم ترجمہ”وحی منظوم” بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے آئی۔
انہوں نے انیس سو چوالیس کے شروع میں ایک ہی بحر میں یہ ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور دس ماہ میں مکمل کر کے علما کی خدمت میں پیش کر دیا۔ سیماب نے مثنوی مولانا روم کا اسی بحر میں اردو میں منظوم ترجمہ کرکےاس کا نام ’’الہام منظوم‘‘ رکھا۔ مولوی فیروز الدین کے بقول انہوں نے مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہ امیر مینائی سمیت کئی نامور شاعروں کے سپرد کرنا چاہا مگر یہ مشکل کام ان میں سے کسی کے بس کا نہ تھا ۔
سیماب نے ہندؤوں کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا کے کچھہ حصوں کا منظوم ترجمہ ’’کرشن گیتا‘‘ کے نام سے کرکے شائع کیا۔انیس سو پچاس میں شیخ عنایت اللہ کی درخواست پر سیرت نبی پر مختصر اور انتہائی جامع کتاب ڈیڑھ ماہ کے مختصر عرصے میں لکھہ کر پیش کردی۔
سیماب کا پہلا مجموعہِ کلام “نیستاں” 1923 میں چھپا تھا۔ 1936 میں دیوان کلیم عجم شائع ہوا اور اسی سال نظموں کا مجموعہ کار امروز منظر عام پر آیا۔ سیماب کے تقریباً ڈھائی ہزار شاگرد تھے جن میں راز چاندپوری، ساغر نظامی، ضیاء فتح آبادی، بسمل سیدی، الطاف مشہدی اور شفا گوالیاری کے نام قابل ذکر ہیں۔ سیماب اکبر آبادی کو “تاج الشعرا”، “ناخدائے سخن” بھی کہا گیا۔ داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی سیماب کو جانشینِ داغ کہا کرتے تھے۔
علامہ سیماب اکبر آبادی کا کراچی میں31 جنوری 1951 کو انتقال ہوا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post