خواب سَر ا کا آدمی : شاہد ماکلی

نوید صادق کی غزل کی مابعد الطبیعیات کو سمجھنے کے لیے ہمیں نوے (۹۰) کی دہائی میں جانا پڑے گا۔
نوے (۹۰) کی دہائی کئی حوالوں سے بیسویں صدی کی اہم ترین اور عظیم ترین دہائی قرار پاتی ہے ۔ اس عشرے میں کئی اہم عالم گیر تبدیلیاں رونما ہوئیں جنھوں نے نہ صرف یہ کہ دنیا کی سیاسیات و سماجیات ، معاشیات و اقتصادیات ،نفسیات و بشریات، خیالات و نظریات ، سائنس اور ٹیکنالوجی ، علوم و فنون ، اور شعریات و ادبیات وغیرھم کو ایک نیا رخ دیا بلکہ ان رجحانات کی بنیاد بھی رکھ دی، جنھوں نے آگے چل کر اکیسویں صدی کے اوائل میں ایک نئے عالمی منظر نامے کے خدوخال کو متعین کرنا تھا ۔
اصل میں نوے (۹۰) کی دہائی کو تبدیلیوں کی دہائی نہیں ، تبدیلیوں کے نقطۂ آغاز کی دہائی کہنا زیادہ مناسب ہو گا ۔ دنیا نے دوسرے ملینیم (Millenium)کے پہلے عشرے میں جس قدر ثمرات سمیٹے ، ان کی تخم کاری کم و بیش نوے (۹۰) کے عشرے ہی میں ہو چکی تھی ۔ مثلاً انٹرنیٹ ، موبائل فونز اور سوشل میڈیا، جن پر کام کا آغاز تو نوے (۹۰) کی دہائی ہی سے ہو چکا تھا مگر یہ چیزیں تیزی سے عام ہوئیں، اکیسویں صدی کے اوائل عشرے میں آکر۔ اس کے علاوہ سب سے اہم نائن الیون کا واقعہ ہے جس نے پوری دنیا اور بالخصوص عالم اسلام کو شدید متاثر کیا ۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ نائن الیون کے ڈانڈے بھی نوے (۹۰) کی دہائی سے جا ملتے ہیں۔۱۹۹۳ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے بیسمنٹ میں بم دھماکہ ہوا تھا، اُس وقت کسے معلوم تھا کہ ٹھیک آٹھ سال بعد اسی سلسلے سے جڑا ہوا نائن الیون کا واقعہ رونما ہوگا جو دنیا بھر کے منظر نامے کو تبدیل کر کے رکھ دے گا ۔ عالمی سطح پر اس دہائی کا ایک اور اہم واقعہ سوویت یونین کا ٹوٹنا ہے ۔ یہ دراصل ایک ملک کا نہیں ایک نظریے کا انہدام تھا جس سے پاک و ہند کے کئی ادبا و شعرا کی جذباتی و فکری وابستگی قائم تھی ۔ نوے (۹۰) کی دہائی میں چیزیں از سرِ نو ترتیب پا رہی تھیں ۔ یہ دہائی پرانا اور نیا طرزِ زندگی رکھنے والوں کے مابین ایک پُل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ نوے (۹۰) سے پہلے کے لوگ اس طرزِ زندگی اور طرزِ احساس سے آشنا ہی نہیں تھے جو خیر سے آج ہماری ڈیجیٹل ایج کی جنریشن کو نصیب ہے ۔ مجھے اِس وقت نوے (۹۰) کی دہائی میں مشہور برطانوی پوپ گروپ جیسس جونز کے گائے ہوئے گیت کی لائن یاد آ رہی ہے :
I saw the decade in, when it seemed the world could change at the blink of an eye.
تخلیق کار کے زمانے اور زندگی سے آگاہی تخلیق کی بہتر تفہیم میں معاون ہوتی ہے ۔ پھر یہ کہ ہم اس تناظر میں نوید صادق کی غزل کا بہتر مطالعہ کر سکتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے گردوپیش میں ہونے والی تبدیلیوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ اثر قبول کرتا ہے ۔ سچ بات تو یہ ہے کہ نوید صادق روحِ عصر اور اس کی حسیات و نفسیات سےجڑا ہواایک نیا آدمی ہے جو اپنے انداز میں دنیا کو دیکھتا ، سوچتا ، جانچتا پرکھتا اور ان کی بنیاد پر نتائج اخذ کرتا ہے ۔ تیزی سے تبدیل ہوتا ہوا سماجی ، تہذیبی اور تخلیقی منظر نامہ اس کے طرزِ احساس میں ایک واضح تبدیلی پیدا کرتا اور اس کے اظہاریے میں پورے رچاؤ اور سبھاؤ کے ساتھ جگہ پاتا ہے ۔ اس کے ذہن میں ایک کرید اور ایک تجسس ہے جونہ صرف اسے لمحہ بہ لمحہ مضطرب اور بے چین بلکہ آگے سے آگے رواں دواں بھی رکھتا ہے ۔ اس کی شاعری ہجوم سے کٹے ہوئے اور اپنی تنہائی اور اداسی سے جڑے ہوئے فرد کی شاعری ہے۔ وہ معدوم ہوتی ہوئی تہذیب،پامال ہوتی ہوئی اقداراور قصۂ پارینہ ہوتی ہوئی ثقافت کا نوحہ گر ہے ۔ اس کی غزل میں تنہائی اوراداسی کا احساس نفسیاتی اور روحانی کشمکش کےاندر انعکاس پذیر محسوس ہوتاہے۔ بین السطور کئی استعجابیہ اور استفہامیہ پیرائےکےساتھ سوالیہ نشان ہیں جو قاری کو ایک عمیق حزن و حیرت سے دوچار کر دیتے ہیں :

ہمارا عہد غلط تھا کہ ہم غلط تھے نوید
قدم قدم پہ ہوا سانحہ ہمارے ساتھ

ایسے نظر فریب اُجالے تھے ہر طرف
خوش فہمیوں نے گھیرے رکھا، ہم جدھر گئے

بہت اداس ہوں، خود سے مکرنا چاہتا ہوں
میں اگلوں پچھلوں کی تردید کرنا چاہتا ہوں

شکوہ کروں تو کس کا میں، رنج کروں تو کیا کروں
کون سمجھ سکا مجھے، کس کو سمجھ سکا تھا میں

دکھائی دے گی ہمیں خاک شکلِ آیندہ
ہمارا ماضی غلط ہے ، ہمارا حال غلط

مگر یہ بات کسی اور سے نہیں کہنا
ہمارا ربط نہیں رہ سکا ہمارے ساتھ

طے ہو نہ ہو ، یہ رنجِ سفر کھینچتے رہو
یوں بھی نظر میں اور کوئی راستہ نہیں

دم سادھے بیٹھ رہیے نوید اپنے آپ میں
دنیا کو اپنے حال کی مطلق خبر نہ ہو

لطف کی بات یہ ہے کہ شاعر کی شخصیت اور متکلم کی شخصیت ایک ہیں ۔ وقت کی نیم روشن (یا نیم تاریک) راہ داریوں میں سفر کرتا ہوا شاعر ایک حقیقی فرد ہے جو دن بھر کی تھکا دینے والی تیز رفتار زندگی کےمیکانکی اور یکساں معمولات سے فراغت پاکرشام کے شور انگیز ہنگاموں سے گزرتا ہوا گھر کا رخ کرتا ہے ، رنگ و روشنی کی چکا چوند میں ڈوبی ہوئی اور غبار و غل میں اٹی ہوئی شاہراہوں ، مسلسل بجتے ہوئے ہارنوں کی آوازوں ، دفتروں اور دکانوں سے آنے وا لے۔ ۔ ۔ اور بازاروں، ریستورانوں اور تفریح گاہوں کو جانے والے جمِ غفیرسے ہوتا ہوا ۔۔۔، نیم روشن ذیلی گزرگاہوں اور (پرچھائیوں اور سایوں سے بھری ہوئی)گلیوں سے گزرتا، گلیوں کے دائیں بائیں مکانوں کو دیکھتا، معلوم و نامعلوم منظروں اور شبیہوں کو دیدہ و دل میں اتارتا ، کئی موڑ کاٹتا ہوا جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو وقتی طور پر یک گونہ آسودگی تو محسوس کرتا ہے مگر جوں ہی بستر پر دراز ہوتا ہے ، تو کئی نادیدہ تمثالوں اور نا شنیدہ آوازوں میں گھر جاتا ہے :

تصویروں، مزدوروں میں دن کٹ جاتا ہے، رات گئے
کل کیا ہو گا، سوچتے سوچتے گھر واپس آ جاتے ہیں

یہاں سے وہ ورق گردانی شروع کردیتا ہے، اُس ہفت رنگ بیاض کی، جس میں اس کی کئی باتیں درج ہیں ، کئی یادیں، کئی خواب ، کئی امیدیں ، کئی ارادے اور کئی تصویریں موجود ہیں جن کا انسلاک بیک وقت اس کےعصر سے بھی ہے او ر اس کے گزرے ہوئے کل اور آنےوالے کل سے بھی ۔۔ ۔ یہیں سے وہ ایک شہرِ طلسمات (یا اپنے شہرِ آرزو)میں قدم رکھتا اور اُن رمزیہ و حزنیہ کیفیات سے دوچار ہوتا ہے جو داستانوں کے ایک آدمی کے ساتھ پیش آتی ہیں۔ نوید صادق بنیادی طور پر داستانوں کا آدمی ہے ، اُن مکانوں کا آدمی ہے جہاں ہماری تہذیبی اقدار سانس لیتی تھیں ۔ اُن زمانوں اور جہانوں کا آدمی ہے جو ہم سے کھو گئے ہیں:

وہ شہر ، وہ گلی تو مرے دل پہ نقش ہے
صدیاں بھی کم پڑیں گی اُسے بھول جانے میں

سمیٹنا ہے ابھی داستاں میں کیا کیا کچھ
بکھر گیا ہے مرا آسماں میں کیا کیا کچھ

آگے پیچھے، دائیں بائیں، صرف سائے اور ہم
یہ گلی بھی خیر ایسی جانی پہچانی نہیں

وہ شام، وہ ہم، وہ تم ۔۔۔ زمانہ
دورانیہ مختصر رہا ہے

میں ایک عام آدمی
کہاں کہاں نہیں گیا

کس خواب سرا کا آدمی تھا
کس راہ گزر پہ آ گیا ہوں

اپنی تمہید ہی غلط ٹھہری
یہ الگ بات، داستاں تھے ہم

اُس خواب سَرا میں کون ہو گا
میں خود سے بچھڑتا جا رہا ہوں

کہیں کہیں تو یونہی ذائقہ بدلنے کو
میں داستاں میں ترا ذکر چھیڑ دیتا ہوں

وہ گلی، وہ جانی پہچانی گلی
ہو گئی اِک داستاں ، افسوس مَیں

وہ جو کردار میرے دھیان میں ہے
زندگی! تیری داستان میں ہے

نوید صادق کی غزل میں ایک بدلتی ہوئی دنیا کا احساس ملتا ہے ۔ جس طرح پچاس کی دہائی میں تخلیق پانے والی غزل کا بنیادی استعارہ ہجرت سے جڑی ہوئی یاد تھی۔ ساٹھ کی دہائی ادبی تحریکوں اور ہنگاموں کی دہائی تھی ۔ افسردگی اور پژمردگی کے ردِّ عمل میں خوشی اور امید کی تلاش اس دہائی کا امتیازی نشان تھی ۔ ستر کی دہائی اساطیری علامات اور گم گشتہ اسلامی تہذیب و روایات کی بازیافت کی دہائی تھی ۔ اسّی کی دہائی مزاحمت اور کلاسیکی شعری بازیافت کی دہائی تھی ۔ پھر نوے (۹۰) اور ما بعد کی دہائی آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے صورتِ احوال یکسر تبدیل ہوئی۔ملٹی کلچر ازم، گلوبلائزیشن، صارفیت ، تشہیر و تماشا اور سوشل میڈیا کا بول بالا ہونے لگا ۔ دنیا بھر میں سرمایہ کاری اور مصنوعات کی ترسیل ہونے لگی ۔ ترقی یافتہ ممالک ، ترقی پزیر ممالک سے سستی ترین لیبر منگوانے اور پھر اپنی مصنوعات انھی ممالک میں مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ۔ امیگریشن کے نام پر پاکستان جیسے ترقی پزیر ملکوں کو ان کے ہنر مند ، پیشہ وَر اور سرمایہ دار افراد سے خالی کیا جا نے لگا ۔ ہم روز بہ روز مزید تہی داماں اور بے سروساماں ہوتے گئے ۔ تہذیبوں کےتصادم کا ڈھنڈورا پیٹ کے تہذیبوں کا اتصال کیا جانے لگا ۔ چھوٹی تہذیبیں بڑی تہذیبوں میں ضم ہو نے لگیں ۔ مقامی کلچر کی جگہ عالمی کلچر کا تصور پروموٹ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہماری نسلیں اپنے کلچراور اپنی اقدار سے دور ہوتی گئیں۔ گلوبلائزیشن نے سب سے کاری وار ہمارے سماجی انفراسٹرکچر پر کیا ۔ ہم ہر شعبۂ حیات میں تیزی سے انحطاط پزیر ہوتے گئے۔ آج ہمارے افکار، گفتار اور کردار میں بے معنویت، لایعنیت اور لا سمتیت اس طرح سرایت کر گئی ہیں کہ فرد اور جماعت اپنی شناخت کھو چکے ہیں۔ نتیجے میں ایک نا مختتم خارجی و داخلی بے نظمی، بے ترتیبی ، باطنی شکست و ریخت ، نفسیاتی پیچیدگی، مایوسی، تنہائی ، خوف اور اداسی نے جنم لیا ہے ۔اس ساری گمبھیرتا میں نوید صادق کی غزل ظہور کرتی ہے اور ایسی مابعد النفسیات کے ساتھ صورت پزیر ہوتی ہے جو سیاسی، سماجی اور تہذیبی سطح پر ہماری عدم شناخت کا نوحہ ہے۔ ( اور یہی نوے (۹۰) کی دہائی کا امتیاز و انفراد ہے ) :

نگاہِ شوق! ترے انتشار کے دن ہیں
وگرنہ چاند اُسی بام پر نکلتا ہے

ہم سے پہلے بھی کوئی تھا، کیا تھا
سوچیے ، سوچنے سے کیا ہوگا

نوید خوب رہا آپ کا معاملہ بھی
تمام شہر میں اک شخص آشنا نہ ہُوا

میں نام کمانا چاہتا تھا
پہچان گنواتا جا رہا ہوں

شہر کا شہر مضطرب ہے نوید
کوئی دیوانہ حسبِ حال نہیں

یہ رَت جگوں کا تسلسل، یہ اضطراب، نوید
کوئی تو دیکھے، مرے دل پہ کیا گزرتی ہے

میں اپنے حواس میں نہیں ہوں
وہ میری مثال دے رہا ہے

ہم پریشاں ہیں ایک مدت سے
کیوں پریشان ہیں ، بتائیں کیا

ہر گھڑی مضطرب گزرتی ہے
زندگی کس کا بین کرتی ہے

ایک آزارِ مسلسل ہوں شب و روز نوید
مسئلے اپنے لیے روز اٹھاتا ہوں بہت

مرا قیام یہاں مختصر ہے اور مجھے
ہزار مسئلوں کے حل تلاش کرنا ہیں

جوازِ ہست ضروری ہے اس قدر تو نوید
کبھی کبھار کوئی مسئلہ اٹھاتے رہو

اوّل اوّل، سبھی سے ربط رہا
آخر آخر، ترا یقیں بھی نہیں

میرے کچھ اپنے مسئلے ہیں نوید
تم خدا جانے کس خیال میں ہو

روش تو دیکھ ذرا عہدِ فتنۂ نو کی
ہم ایسے سادہ دلوں کی بھی خاک اُڑاتا ہے

ہمارے سلسلے کے لوگ
دکھائی دے رہے ہیں کم

اے وقت! میں تیری مملکت سے
کچھ تیز نہیں گزر گیا ہوں!

گھر والے کہاں یہ جانتے ہیں
خود کو میں حنوط کر گیا ہوں

آئنہ توڑ کر خیال آیا
اس سے بہتر بھی ایک صورت تھی

میں نے کہا کہ داستاں، صرف ہے ایک داستاں
اچھے دنوں کا ولولہ، اچھے دنوں کو کھا گیا

چپ چاپ اِدھر اُدھر گیا ہوں
میں اپنی کمی سے بھر گیا ہوں

نویدصادق کی غزل میں سب سے اہم بات اس کی غزل کی وہ تاثراتی فضا ہے جو آسانی سے گرفت میں نہیں آتی ۔یہ ایک چونکا دینے والی فضا ہے جیسے شاعر کچھ اورکہتے کہتے کچھ اور کہہ جاتا ہے ۔۔۔کچھ بتاتے بتاتے کچھ چھپا جاتا ہے ۔۔ ۔ بات سےبات جوڑتے جوڑتے اس کا سلسلہ اچانک توڑ کرکہیں ایسی کڑی سے جوڑ دیتا ہے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ۔ یہ ایک ایسی فضا ہے جو خود تو گرفت میں نہیں آتی مگر ہمیں پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔یہ کوئی بہت ہی پُر اَسرار فضا ہے ۔۔۔نیم روشن یا پھر نیم تاریک ۔۔۔ یہ فضا بیک وقت ہمارے شعور کو متحیر اور لا شعور کو متحرک کرتی ہے :

سننے کو کچھ رہا نہیں، کہنے کو، خیر چھوڑیے
گزرے دنوں کے مسئلے، گزرے دنوں نپٹ گئے

یہ تاثراتی فضا اپنے ابلاغ کے لیے جس اسلوب کی متقاضی ہے وہ اسے آزاد تلازمے کے قریب لے جاتی ہے ۔ نوید صادق کی غزل میں آزاد تلازمے کی موجودگی کا سراغ حیرت انگیز ہی نہیں نشاط خیز بھی ہے ۔اگرچہ نوید صادق کے ہاں اس نوع کی شاعری کی کمیت بہت کم ہے مگر دل آویز ہے اور وقیع بھی۔دل آویزی کا سبب وہ کیفیت ہے جس سے ان کی غزل متصف ہے اور جس کے زیرِ اثر ان کے تاثر (Impression) اوراظہار (Expression) میں ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے۔ وقیع اس لیے کہ ان کی شاعری کا یہ حصہ باقی شاعری کے مقابلے میں زیادہ رمزیت بھرا ، کثیر الجہات اور کثیر المعنویت ہے ۔ایسی شاعری اپنی معنوی تفسیر میں محدود نہیں ہوتی بلکہ اس سے مختلف زمانوں اور مختلف تناظر میں مختلف مفاہیم بر آمد ہوسکتےہیں ۔اس میں قاری کے ذوق اور تفہیم کی سطح بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔آزاد تلازمے کی شاعری سے نوید صادق کودو فائدے اور بھی حاصل ہوئے ہیں۔ ایک توتازگیِ لفظ ہاتھ آئی ہے اور دوسرے معنیِ بیگانہ تک رسائی ممکن ہو ئی ہے ۔ اگرچہ صائب نے کچھ اور شکوہ کیا تھا :

یاراں تلاشِ تازگیِ لفظ می کنند
صائب تلاشِ معنیِ بیگانہ می کند

یہ وہی صائب تبریزی ہیں جو فارسی غزل میں سبکِ ہندی کے اہم ترین شاعرہیں ۔ بیدل نے صائب کی تقلید میں اپنا نظامِ تشبیہ پیدا کر کے سبکِ ہندی کو انتہا تک پہنچایا۔ اختر حسین جعفری نے بیدل کے نظامِ تلازمہ سے استفادہ کرتے ہوئے شاعری کو آزاد تلازمے کی نئی جہات سے روشناس کیا اور بقول محمد ارشاد ، وہ اُردُو زبان میں آزاد تلازمہ کی شاعری کے سب سے بڑےتمثال کار اور پیکر ساز ہیں۔۔۔جب کہ ن م راشد اور میرا جی آزاد تلازمے کی شاعری کے شیوخ الطائفہ ہیں ۔ ۔۔لیکن اردو غزل ہنوزاس جمالیات سے تہی داماں ہے ۔ اگر آزاد تلازمے کی یہ پُرامکان روِش نوید صاد ق کی غزل میں وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوجائے تو بلا شبہ ان کی غزل اسلوبیاتی و جمالیاتی سطح پر ایک نئے ذائقے اور نئے زاویے کا نقش قرار پا سکتی ہے :

نگاہ داریِ آئینہ میں گزرتی ہے
حیات میرے تساہل پہ بین کرتی ہے

تھک ہار کر نوید! مرے دائیں ہاتھ پر
کاسہ بدست وقت مری نیند سو گیا

خواہش کا طواف کر رہا ہوں
آواز میں چہرہ دیکھتا ہوں

ایک خوشبو تھی کہ آغوش کُشا تھی ہر وقت
ایک لہجہ تھا کہ تحسین طلب ہوتا تھا

میں اپنی دھوپ لیے پھر رہا تھا گلیوں میں
ہزار شکر ، مرا اُس کا سامنا نہ ہُوا

سڑکیں، بلند بام عمارات اور میں
کچھ دن چلے گا اور ابھی یہ مکالمہ

رنج و الم ہوں کم سے کم ، موجِ سپردگی میں ہم
دشتِ نفس کو چھوڑ دیں ، دہر سے رابطہ نہ ہو

میں روشنی کے تناظر میں بات کرتا ہوں
نقوشِ رفتہ مری آنکھ سے ہُویدا ہیں

دن بھر کے کام کاج، یہ آہن سرشت خشت
خاموش، بے تمیز! ذرا دیر تخلیہ

کہیں یہ دھوپ تسلسل نہ ہو ستاروں کا
کہیں یہ رنج بھی توسیعِ انبساط نہ ہو

میں زخم زخم جسم لیے آ گیا ہوں پھر
شوقِ نگارشات پرانا نہیں ہوا

یہ رنگ میرے تصرف میں بھی رہے ہیں نوید
یہ چاند میرے تصور میں بھی چمکتا ہے

ہم نے عمر اَکارت کی اندیشوں میں
رنگ ہمیں بے کار دکھائی دیتے ہیں

کوئی چراغ پی گیا مرا لہو
کوئی دیا تو روشنی نگل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like
  1. Shabbir Ahmad Qadri says

    کیا کہنے ماکلی صاحب، نوید صاحب کی شاعری کے مختلف رنگوں کا عمدہ جایزہ لیا ہے آپ نے ۔مجھے ان کے افکار سمجھنے میں مدد ملی ہے ۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post