حُسن کیا ہے(آخری قسط)۔..ڈاکٹر وزیرآغا کے افکار: ڈاکٹرشبیر احمد قادری

ڈاکٹر وزیر آغا (١٨ مئی ١٩٢٢ ٕوزیر کوٹ،سرگودھا ۔ ٧ ستمبر ٢٠١٠ ٕلاہور)، کا شمار اردو کے ممتاز شاعروں اور نقادوں میں ہوتا ہے،اردو اور پنجابی شاعری،تنقید،انشاییوں،خود نوشت،سفر ناموں،یاد نویسی،فکروفلسفہ،اور مکاتیب پر مشتمل بیسیوں کتب سے ادب کا دامن مالا مال کیا۔مولانا صلاح الدین احمد کے ساتھ ” ادبی دنیا” میں شریک مدیر رہے ،١٩٦٦ ٕ میں اپنا ادبی رسالہ” اوراق” جاری کیا۔
” حسن کیا ہے”! بحث و نظرکے زیرِعنوان “ادبی دنیا”کے دَورِ پنجم کے شمارہ ہفتم میں شایع ہوا۔
ڈاکٹر وزیر آغا اپنے مضمون کی اِبتدا کاینات اور زندگی کی دو سطحوں کے بیان سے کی ہے:
١۔ انتشار،تفریق،اُلجھاٶ اور بے ترتیبی کی سطح،
٢۔داخلی تنظیم،توازن اور ایکتا کی سطح۔
اِسی بنیاد پر وزیر آغا نے حُسن کی دو صورتوں کی نشان دہی کی ہے :
١۔لکیروں،لہروں اور رنگوں وغیرہ کی صورت جو خارجی مظاہر میں متشکل ہوتی ہے،
٢۔اُن لکیروں،لہروں اور رنگوں کے اِمتزاج سے اُبھری ہوٸی ایک لطیف سی نُورانی صورت جو گویا حُسن کو اپنے آغوش میں لیے ہوتی ہے۔
آگے چل کر مصنِّف نے حُسن کے ارضی اور غیر ارضی رخ کی بات کی ہے،اُن کی راۓ میں:
” حُسن اپنے ارضی خدوخال کے علاوہ ایک لطیف سے روحانی اور جمالیاتی پرتو کو بھی جنم دیتا ہے تاہم یہ پرتو اُس دل اور اُس آنکھ تک ہی پُوری طرح منتقل ہوتا ہے جس میں اس کا خیر مقدم کرنے کی صلاحیت اور سکت ہوتی ہے”(ص٢٢٠)،
وزیر آغا حُسن کے ارضی رخ کو یکسر نظرانداز نہیں کرتے،حُسن کے اِس پہلو کے حوالے سے وہ اِس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ شاید اُسے آنکھ اور دِل کا آیینہ نہ مل پاۓ ،وہ حُسن کو ایک ڈولتی ہوٸی کیفیت کا نام دیتے ہیں جس کا ایک سِرا اُن کے نزدیک رنگوں،لہروں اور لکیروں سے اور دُوسرا سِرا پرستارِ حُسن کے تارِ نظر سے بندھا ہوتا ہے۔
وہ توازن اورتناسب کو حسن کا لازمہ سمجھتے ہیں،اسے وہ ایک مثال سے واضح کرتے ہیں یعنی دوپہر کی چکا چوند کے مقابلے میں نِصف شب کی دُودھیا چاندنی میں کہیں زیادہ جاذبیت اور حُسن ہے،اِسی طرح ایک سفید سے پِھیکے بادل کی نسبت رنگین جھالر والے بادل میں زیادہ رعناٸ ہے۔فی الاصل خارجی مظاہر کی بُو قلمونی،رنگا رنگی،توازن،تناسب اور یک جہتی ایک طرح کی سِحر انگیز کیفیت پیدا کر دیتی ہے جو ناظِر کو اس طور متاثر کرتی ہے کہ اُس کی نظر کسی اور طرف جا ہی نہیں سکتی۔حُسن کا دوسرا نام اِسی لیے “جادو” ہے”(ص٢٢٠)،
وزیر آغا پہاڑوں اور جنگلوں میں اپنی بہار دکھانے والے پُھولوں کو حُسن کی ایک نامکمل صورت قرار دیتے ہیں جنہیں کبھی انسانی آنکھ نے نہ دیکھا ہو۔گویا وہ منظر اور منظور کے لیے ناظِر کی موجودگی ضروری خیال کرتے ہیں۔وہ اسے ایک مثال سے واضح کرتے ہیں :
” آدم کا ہیولا یقینًا خوبصورت تھا لیکن جب تک اس میں روح نہیں پھونکی گیی،یہ حُسنِ مکمل کی صورت میں نمودار نہیں ہوا۔یہ واقعہ حُسن کی اس خاصیت کو پیش کرتا ہے کہ ناظِر کے بغیر یہ ایک بے جان پیکر کے سوا اور کچھ نہیں۔دراصل ناظر خود حُسن کو ” زندہ ہونے” اور اپنے باطن کی روشنی کو ناظر تک پہنچانے کی تحریک دیتا ہے۔کوہِ طُور کی روشنی مُوسیٰ کے بغیر وجود میں آ ہی نہیں سکتی تھی کہ موسیٰ خود اُس روشنی کے لیے سب سے بڑی تحریک تھے ۔”(ص٢٢١)،
یہاں وزیر آغا ایک اہم سوال کرتے ہیں کیا حُسن کا اِدراک صرف انسانی آنکھ یا انسانی دِل تک ہی محدود ہے یا ” زندگی” اپنی بعض دوسری صورتوں میں بھی اُس سے متاثر ہوتی ہے ! اِس سوال کا جواب بھی وہ خود دیتے ہیں کو سائنس کے جدید اِنکشافات نے ثابت کیا ہے کہ درخت بھی محسوس کرتے ہیں اور غم اور مسرّت کے مراحل سے گزرتے ہیں۔پھر یہی درخت رنگوں ، شُعاعوں وغیرہ سے بھی اثرات قبول کرتے ہیں اور اس سے ہر وہ کیفیت یا شے جو درخت کی بقا کے لیے مُمِد ہو ،اُس کے لیے” جاذبِ توجہ” اور ” خوب” ہے” (ص٢٢١)،
وزیر آغا جانوروں میں احساسِ حُسن کو نسبتًا زیادہ واضح قرار دیتے ہیں۔اس ضمن میں وہ پرندوں کے “نغمے” اور چوپایوں کے ” پُرمسرّت لمحے” کی جانب اشارہ کرتے ہیں ۔تاہم وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اِنسان میں حُسن سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔وہ حُسن کو ریاضی کےکُلیے کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ حسنِ لازوال اُن کی راۓ میں :
” بے ترتیب اشیا اور مظاہر سے تشکیل پذیر ہوتا ہے جیسے جنگل میں اُگے ہوۓ بے ترتیب درخت،سمندر کے کٹے پھٹے کنارے ،اِنسان اور حیوان کے بے ڈھنگے اعضا وغیرہ وغیرہ۔” (ص٢٢١)،
اشیا و مظاہر کے بے ڈھنگے خارجی پہلو کے ساتھ اُن کی داخلی ترتیب کی جانب بھی توجہ دلاتے ہیں،جو خارجی سطح کو دلکش بنا دینے کا موجب ہوتی ہے اِسی سے وہ مَلکوتی حُسن سامنے آتا ہے جس کی ہر صاحب ِ نظر ستایش اور تعریف کرتا ہے،وزیر آغا یہاں ایک اہم بات یہ کرتے ہیں کہ داخلی ترتیب کی عدم موجودگی اشیا و مظاہر کے خارج میں بھی کشش باقی نہیں رہنے دیتی۔مضمون کی آخری سطور میں وزیر آغا فنونِ لطیفہ کی بات کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں :
” جب کوٸ فن پارہ اصل(اور اصل فطرت کی دین ہے)کو بعینہ پیش کرتا ہے اور اس کے خارجی تناسب کے علاوہ اُس کے داخلی توازن کو بھی رنگوں،لفظوں یا مجسّموں میں منتقل کر دیتا ہے تو گویا فن میں “حُسن” کی تخلیق کرتا ہے۔ایسی تخلیق میں خارجی ترتیب کے ساتھ ساتھ ایک داخلی اِبہام ، ایک چُھوٸی مُوٸی کی سی کیفیّت بھی وجود ہوتی ہے جو گویا حُسن کی روح ہے اور جس کے بغیر کوٸ تخلیق بھی ازلی و ابدی کیفیت کی حامل نہیں ہو سکتی ۔”(ص٢٢١۔٢٢٢)،
ڈاکٹر وزیر آغا خارجی حُسن کی داخلی حُسن سے ہم آمیز کرکے ہی اُس کی حقیقی صُورتوں کی تکمیل پر یقین رکھتے ،ایک کے بغیر وہ دُوسرے کو ادھورا سمجھتے ہیں۔وزیر آغا جو فِکروفلسفہ کو اپنے مطالعات میں خاص اہمیت دیتے ہیں ،اپنے تصوراتِ حُسن کو بھی اِسی رنگ و آہنگ کے ساتھ زیبِ قرطاس کیا ہے ۔

You might also like
  1. ریاض احمد قادری says

    بہت خوب۔کمال ہے۔ زبردست تحریر

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post