جدید غزل کی روایت میں محسن نقوی کا مقام : سیدہ ہما شیرازی

دکن کی سرزمین سے پروان چڑھنے والی غزل تاریخی سفر طے کرتے ہوئے دہلی میں خدائے سخن میر تقی میر کے دور میں داخل ہوئی وہاں پختگی کے مراحل سے گزرنے کے بعد غالب کے دور میں اپنے عروج کو پہنچی
اکیسویں صدی میں غزل کے اظہار کے جدید طریقے اپنائے گئے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ کلاسیکی شعور کے ساتھ جدید فکر کو اپنایا گیا
حسرت موہانی کو اس کا نقطہ آغاز کہا جاتا ہے ان کے ہاں جدید غزل کے ساتھ ساتھ کلاسیکی غزل کا شعور بھی بھرپور طریقے سے موجود ہے ان کے بعد کئی شعرا نے اس میں طبع آزمائی کی جن میں فراق گورکھپوری، ناصرکاظمی ،جون ایلیا ،فیض احمد فیض ،احمد فراز، امجد اسلام امجد، حبیب جالب ،پروین شاکر، افتخار عارف اور محسن نقوی جیسے شعرا نے ا س کو اظہار کا ذریعہ بنایا
شاعری کی اہمیت کو کسی بھی دور میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے یہ انسانی حس جمالیات کو تروتازہ رکھنے کے لئے اسی طرح ضروری ہے جیسے انسانی جسم کے لئے آکسیجن ۔ ۔ شاعری میں تخیلات کی پرواز کی کوئی حد نہیں ہوتی جو شاعر جتنی بلند تخیل رکھتا ہے وہ اتنی ہی عمدہ شاعری کرتا ہے اور ایک اچھا شاعر ہمیشہ ہی حدود قیود کی پرواہ کیے بنا افکار و خیالات کو لامحدود اڑان بخشتا ہے اردو شاعری میں اس طرح کے بے شمار بڑے بڑے نامور شعراء پائے جاتے ہیں جن کا کلام صدیوں اور دہائیوں کے بعد بھی آج زندہ ہے ان شعراء میں سے ایک اہم نام سید محسن نقوی شہید کا ہے
محسن نقوی نے ادب کے کئی اصناف کو اظہار کا ذریعہ بنایا اس میں غزل، نظم، قطعہ، مرثیہ ،رباعی وغیرہ شامل ہیں محسن نقوی نے غزل کے میدان میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا ان کی غزلوں میں کئی طرح کے پہلو موجود ہیں محسن نقوی نے رومانی شاعری میں غزل کی کلاسیکل اٹھان کو نہ چھوڑا اور اس کو ایک نئی جدت عطا کی
کیٰ الجھی رتوں کے بعد آیا
تیری زلفیں سنور جانے کا موسم
محسن نقوی کے موضوعات کو دیکھا جائے تو ان کی شاعری میں انسانیت اور معاشرے میں موجود تلخ حقیقتوں کا بیان سماجی زیادتی ،معاشرتی بے حسی اور عالم انسانیت کے امن کو موضوع بنایا گیا اس کے علاوہ ان کی غزلوں میں محبت ہجروفراق کے نشیب و فراز کے روایتی موضوعات کو جدید انداز میں پیش کیا گیا
ان کی غزلیں آج بھی محسن کی انسانیت دوست سوچ کا واضح ثبوت ہیں
َََّّّکرب محسن کی مسافت کے خداوند جلیل
خاک زادوں کو صدا بخت سکندر دینا
جیسا بڑا اور اعلی دعائیہ شعر جوکہ تمام انسانوں کے لئے تھا محسن نقوی جیسا بڑا شاعر ہی لکھ سکتا ہے
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیی
حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ
اس طرح کی لاتعداد غزلیں آج بھی اس دور کے جبر اور کٹھن حالات کو بیان کرتی دکھائی دیتی ہیں
ایک شاعر اس وقت پختگی یا بلوغت کی سطح پر پہنچتا ہے جب وہ اپنی ذات کے غم اور حادثات سے باہر نکل کر معاشرے اور انسانیت کو موضوع بناتا ہے اسی منفرد اسلوب و بیان نے ان کو عہد حاضر کے شعرا میں یکسر مختلف اور بلند مقام بخشا ان کی غزلیں ،غزلیں نہیں بلکہ رزم گاہ میں ٹہلتے ہوئے شیر کی بے چینی ہے تاریخی اور تہذیبی شعور سے مسلح نعرہ مستانہ ہے
ان کی غزلوں میں تلوار،جنگ، میدان،مقتل،قتل، فرات،پیاس وفا، عشق،دشت، عہد، قبیلہ، چراغ اور خیمہ وغیرہ کے استعارے اور تشبیہات کا استعمال بدرجہ اتم موجود ہیں جو کہ ان کی شاعری کی پہچان ہیں
محسن کی غزلوں کے اشعار ہر بار پڑھنے پر معنی کی ایک نئی دنیا میں لے جاتے ہیں ان کے اشعار میں ایک عجیب سامعنوی نظام موجود ہے غالب کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ ان کی شاعری میں یہ خصوصیت موجود ہے کہ ان کے اشعار کو جتنی بار پڑھا جائے وہ ایک نیا معنی دیتے ہیں ان کی غزلوں کو پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ منظر سامنے چل رہا ہے یعنی ان کی غزلوں میں الفاظ کے ذریعے تصویر کشی کی جاتی ہے جو کہ بڑے فن کی دلیل ہے
اک جنازہ اٹھا مقتل میں عجب شان کے ساتھ
جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے
اس شعر میں اس طرح سے تصویر کشی کی گئی ہے کہ قاری کے ذہن میں سارا منظر وارد ہو جاتا ہے اور اسے سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے جنازے کو فاتح کی سواری کے ساتھ تشبیہ دی گئی اس طرح کی عمدہ تشبیہات محسن کے ہاں ہی ہ میں ملتی ہیں
محسن کی غزلوں میں ولی کی جمالیاتی حس، سودا کی قصیدہ نگاری کا رنگ،میر درد کا تصوف، میر تقی میر کا اجتماعی شعور اور غم،غالب کی معنی آفرینی اور جدت کا رنگ پورے شعور کے ساتھ موجود ہیں
عمدہ ادب کی خصوصیت ہے کہ وہ جس دور میں تخلیق ہوتا ہے وہ اس دور کے سماجی اور سیاسی حالات آئینہ دار ہوتا ہے محسن کی غزلوں میں اس دور کے سماجی اور سیاسی حالات بولتے ہیں ان کی غزلوں میں ظلم وجبر کے خلاف رو یہ نظر آتا ہے ان کی شاعری میں حاکم وقت کے خلاف مزاحمتی رنگ موجود ہیں
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کرکے
ایک اچھا شاعر ایک سطح پر ایک اچھا مورخ بھی ہوتا ہے محسن نقوی کے ہاں ہ میں تاریخ کا بیان ایک منفرد انداز سے شاعری کے طور پر ملتا ہے
انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے
گھر کا ہر اک چراغ بجھا میرے سامنے
ان کی غزلوں میں موجود کچھ اشعار سہل ممتنع کی عمدہ مثال ہے
شہر والوں کبھی اعزاز جو تقسیم کرو
مجھ کو شیشے کا لبادہ اسے پتھر دینا
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کی شاعری روایت کے بہترین شعور کے ساتھ جدید رنگ لیے ہوئے ہے ان کے ہاں موضوعات سے لے کر فن تک ایک شاعرانہ پختگی نظر آتی ہے جو کہ بڑے شاعر ہونے کی دلیل ہے یہ الگ بات ہے کہ ان کو اردو ادب میں وہ مقام دینے سے گریز کی گئی جس کے وہ مستحق تھے تنقید نگاروں اور اہل ادب کی اہم لوگوں نے ہمیشہ ان کو نظرانداز کیا لیکن جدید غزل میں اور ادب کی دوسری اصناف میں محسن نقوی نے جو حصہ ڈالا وہ آج بھی اردو ادب کی روایت میں زندہ ہیں
عمر اتنی تو عطا کر میرے فن کو خالق
میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post