“جب کھیت جاگے “از کرشن چندر… تنقیدی تاثرات: ڈاکٹر عبد العزیز ملک

کرشن چندر نے ناولوں،افسانوں اور رپورتاژوں کے توسط سےجس تخلیقی وفورکا مظاہرہ کیا اس نے انہیں اُردو کے صف اوّل کےتخلیق کاروں میں لا کھڑا کیا ہے۔ویسےتودہ نومبر2014میں پنجاب کے شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے لیکن بچپن کے بیشتر ایام کشمیر میں گزارےجو اُن کے رگ و ریشے میں اتر گیا، کشمیر کا خطہ دل پذیر ان کے لاشعور سے ایسا جُڑا کہ ان کی تخلیقات میں رنگ بدل بدل کر ظاہر ہوتا ہے۔ان کے ناولوں اور افسانوں کے مجموعوںکی فہرست خاصی طویل ہے لیکن جن ناولوں نے ان کی ناول نگاری کو اعتبار اور معیار بخشا ان میں” شکست”،” غدار “،”سمندر کے کنارے “،دادر پل کے بچے ” اور” جب کھیت جاگے” وغیرہ قابل ذکر ہیں۔رومان اور حقیقت کے امتزاج سے تشکیل پذیر ان کا فکشن مقصد حیات کی جانب قاری کو مائل کرتا ہے ۔کرشن چندر سماجی ناہمواریوں کو نرم پیرائے میں اس طرح بیان کر دیتا ہے کہ سخت سے سخت حقیقت تلخ محسوس نہیں ہوتی۔” جب کھیت جاگے” کسانوں کی سیاسی کشمکش کی روداد ہے اس کا مرکزی کردار بائیس سالہ نو جوان رگھو راوہےجو اپنے طبقے کے لیےجدو جہد کرتا ہے اور اس جرم کی پاداش میں پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ ناول کی کہانی اس کی زندگی کی آخری رات سے شروع ہوتی ہے اور واقعات اس کے ذہن کے پردے پر ایک ایک کرکے گزرتے چلے جاتے ہیں۔ فلیش بیک تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ناول نگارقاری کو اس کے ماضی سے آشنا کراتا ہے۔ ناول میں واقعات جس انداز سے رگھوراوکے ذہن پر اتر رہے ہیں اُ سے اگر شعور کی رو سے مماثل قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔مذکورہ تکنیک ان کے ہم عصر ناول نگاروں کے ہاں بہت کم ملتی ہے مگر کرشن چندرمہارت کے ساتھ اس تکنیک کو استعمال میں لائے ہیں۔ بیان کنندہ گزشتہ زندگی کے واقعات کوسکّوں سے تشبیہ دے رہا ہے جنھیں اٹھا اُٹھا کر وہ دیکھ رہا ہے اور کھوٹے کھرے میں تمیز کرتا جا رہا ہے۔ واقعات اس کےذہن کے پردے پر رات بھراُ بھر تے اورمعدوم ہوتے رہتے ہیں۔ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اسے پھانسی کے پھندےپر چڑھا دیا جاتا ہے۔
ناول کی کہانی بظاہر بہت معمولی ہےجس میں راگھو راو کوبطورمرکزی کردار پیش کیا گیا ہے اس کا باپ ویریّاکھیت مزدورہے۔راگھو کی ماں کی وفات کے بعد اُس کے باپ نے اسے لاڈ پیار سے پالا ہے۔ناول کے مطالعہ سےقاری کو محسوس ہوتا ہے کہ راگھو کے جسم میں زندہ انسان کا دل دھڑکتا ہے جس نے ایک لڑکی سے پیار کیا ہے، اس میں آزادی کی خواہش اُبھری ہے ،اس کی آنکھوں نے انصاف کے خواب دیکھے ہیں اور بالائی طبقے کےغصے کو نہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ مزاحمت کا راستہ اپناتے ہوئے تلنگانہ اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں مقیم کسانوں کا نمائندہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس نے اپنی جدو جہداور مسلسل کوشش سے ثابت کیا ہے کہ وہ اس دھرتی کا سپوت ہے۔اس کے سینے میں عوام کادل اورانسان سے محبت کا جذبہ موجود ہے۔قاری جب اس ناول کو پڑھتا ہےتو اسے راگھو راو سے ہمدردی اور محبت محسوس ہونے لگتی ہے۔یہی کردار ناول میں آگے چل کر شجاعت، محنت، لگن ،ایثاراور عملِ مسلسل کا استعارہ بن جاتا ہے۔ اس کردار کے عقب میں آندھرا مہاسبھا اور تلنگانہ کی کمیونسٹ پارٹی کی وہ جدو جہد موجود ہے جب ان کی کوششوں سے لاکھوں ایکڑ اراضی پر کسان قابض ہو گئے تھے۔نظام کی فوج اور رضاکاروں نےتلنگانہ کے کسانوں پر حملہ کیا، انہوں نے بھرپور مزاحمت کی ،حملہ آوروں نے کھل کر پروپیگنڈا کیا اورکسانوں کو غاصب اورظالم ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،حالاں کہ صورتِ حال اس کے برعکس تھی۔ اس لڑائی کے دوران میں انیس سو سینتالیس آگیا، ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہو گیا، کانگریس کی حکومت قائم ہوئی۔ وہ کانگریس جواہنسا کے اصول پر سیاست کرتی آئی تھی،کسانوں نے اس کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا اور یہ یقین کر لیا کہ اب انھیں کانگرس کی فوجیں نظام اور رضاکاروں سے محفوظ رکھیں گی مگر انہیں کیا خبر کہ کانگریس نےنظام شاہی سے سازباز کر لی ہے اور وہ ان پر حملہ آورہو جائیں گے۔کسان جو آزادی کا خواب دیکھ رہے تھے وہ چکنا چور ہوگیا آزادی کے ساتھ ہی جاگیردار اورساہوکار واپس آ گئے ،کسانوں سے زمینیں لے کر جاگیرداروں اور ساہوکاروں کو لوٹا دیں گئیں اور جس نے اسے تسلیم نہیں کیا وہ غنڈا، دہشت پسند اور کمیونسٹ قرار پایا۔ جنگلوں، کھیتوں اور جیلوں میں کسان مارے جانے لگے۔وہ جوجدید ہتھیاروں سے لیس تھے، جمہوریت اور امنِ عامہ کے نمائندہ قرار پائے اور جو اپنے حقوق کے لئے جانیں قربان کر رہے تھے وہ دہشت گرد قرار دیے گئے۔پریس نے بھی اس دور میں بالائی طبقے کا ساتھ دیا اور کمیونسٹوں کو تہذیب اور سماج کے دشمن قرار دیا۔آئندہ انعقادپذیر انتخاب میں کسانوں نے کمیونسٹوں کو ووٹ دے کر ثابت کیا کہ” کسان بیج کی طرح ہے اگر تم اُسے دفن کرو گے تو وہ فصل بن کر اُبھرے گا اور ساری زمین پر چھا جائے گا” علی سردار جعفری نے اس ناول کے حوالے سے دیباچے میں لکھاہے:
“کرشن چندر نے اس عظیم الشان داستان کے صرف ایک گوشے سے نقاب اٹھائی ہے لیکن اس کی تابناکی آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی ہے۔یہ ایک بائیس سال کے کسان راگھو راو کی کہانی نہیں ہے بلکہ تلنگانہ کی عظمت،آبرو اور وقار کی کہانی ہے۔یہ ہندوستان کی موجودہ جمہوری تحریکِ آزادی کے حال اور مستقبل کی کہانی ہے”
ناول میں راگھو راو زیریں طبقے کی ایک ایسی علامت بن کر سامنے آیا ہے جو ظلم اور تشدد کے خلاف عمل آرا ہے،وہ نفرتوں سے نفرت کرتا ہے اور سچ اور محبت کا آئینہ دار ہے، اس حوالے سے ناول کا اقتباس ملاحظہ ہو :
“اگر ظلم سے مدافعت کرنا تشدد ہے، اگر اپنی جان کی حفاظت کرنا ،اپنی ماؤں کی عزت بچانا، اپنے گاؤں کے کھیتوں کی سنہری بالیوں کی حفاظت کرنا تشدد ہے تو پھر خود جینا بھی تشدد ہے اور سانس لینا بھی تشدد ہے اور دل کا دھڑکنا بھی تشدد ہے”(ص:127)
مذکورہ بالا خیال مرکزی کردار کو داخلی تقویت فراہم کرتا ہے۔ وہ خود کو مطمئن محسوس کرنا شروع کر دیتا ہےاور اس کی روح آسودگی محسوس کرتی ہے یوں وہ موت کو خندہ پیشانی سے قبول کر لیتا ہے۔اب راگھوراویریّا کا بیٹا نہیں بلکہ اس دھرتی کا سپوت بن کرابھرتا ہےجس کےلیے اس نے اپنی جان قربان کی ہے۔
ناول میں ریشم کا لباس،بنکُو، کھیت،جیل اور پالکی کی علامات اسے تہہ دار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ریشم کے لباس کے حصول میں جس طرح اس کا باپ تگ و دو کر تا ہےاوراس کی جدو جہد میں پورا گاوں شریک ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ کوشش انفرادی سے اجتماعی جدوجہد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ریشم طبقاتی تضاد کی علامت بن کر قاری کے سامنے آتا ہے:
“ریشم وٹیوں کے لئے نہیں ہے، سارا گاڑھا اِدھر ہے اور سارا ریشم ادھرہے ،ساری بھوک اِدھر ہے اور سارا اناج ادھر ہے،ساری بے حرمتی ادھر ہے اورساری عزت ادھر ہے، باپو تیرے لڑ کے کا گناہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اُس نے ریشم کے تھان کو چھونے کی کوشش کی ہے ۔”(ص:131)
جس طرح طبقاتی تضاد کو نمایاں کرنے کے لیے ریشم کو علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہےاسی طرح زمیندار کا محل(بنکُو) ناول کے صفحات پر طبقاتی تضاد کی علامت بن کر سامنے آیا ہے جس میں زیریں طبقے کے افراد کا داخلہ ممنوع ہے۔راگھو راوراس کا باپ جب پہلی بار اس میں لائے جاتے ہیں تو راگھو راو اس کا بغور مشاہدہ کرنے کا خواہاں ہے لیکن اس کا باپ اُ سے اس عمل سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔نظریں اُٹھا کر دیکھنا جاگیردار کے آداب کے خلاف ہے جس پر اسے سزا بھی ہو سکتی ہے۔اس کا باپ بیٹے کو اس سزر سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے مگر اسے کیا خبر کہ آگے چل کر اس کا بیٹا اس سزا کا مرتکب ہوگا۔مزید براں جیل،پالکی ،رات ،سورج اورکھیت جیسی علامات بھی ناول کی معنوی تہہ داری میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
کرشن چندر کے ناول “جب کھیت جاگے”کو علامتی،استعاراتی اوراسلوبی سطح پر اچھا ناول کہا جاسکتا ہے جس میں اس نے بیانیہ کی متعدد تکنیکوں میں سے شعور کی رو کو منتخب کیا ہے اور مرکزی کردارکی ذہنی کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واقعات کو ایک ایک کر کے قاری کے سامنے یوں پیش کیا ہے کہ ان میں بے ربطگی محسوس نہیں ہوتی اور واقعات کی رو میں راوی کے ساتھ ہم سفر ہو جاتا ہے۔

 

You might also like
  1. Usman khalid says

    کرشن چندر کا بطور ناول نگار بہت عمدہ تعارف…

  2. شبیر احمد قادری - فیصل آباد - says

    “جب کھیت جاگے” میں ایک اور طرح و طرز کاکرشن چندر سامنے آتا ہے ، پسے ہوۓ افراد اور انہیں درپیش گونوگوں مسائل و مصائب سے بحث کرتا ہوا ، رومان پرور فضاؤں میں سانس لینے والے کرشن چندر کے اس شاہکار کے خدوخال ، ڈاکٹر صاحب ، آپ نے بہ حسن و خوبی ابھارے ہیں ۔
    ” خیال نامہ” کے نثری خزینے میں ایک اہم مضمون کا اضافہ ۔

    1. گمنام says

      حوصلہ افزائی اور محبت کا ممنون ہوں ، ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔

    2. ڈاکٹر عبدالعزیز ملک says

      حوصلہ افزائی اور محبت کا ممنون ہوں ، ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔

Reply To گمنام
Cancel Reply

Leave Your Comments for this Post