توصیف تبسم کی شاعری میں فطرت کا کردار : توقیر عباس

انسان ازلی طور پر فطرت سے وابستہ ہے ۔ زمین پر زندگی کی ابتدا بھی پھل کھانے کی پاداش میں سزا کے طور پر ہوئی ۔یہ بھی طے ہے انسان جہاں رہ رہا ہو وہ فطرت سے جڑا ہوتا ہے اور وہاں کی فضا ، ماحول ، موسم اور اس کی شدت سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے ۔ لیکن ذرا غور کریں تو یہ ثابت کرنا ہر گز مشکل نہیں رہتا کہ فطرت ثقافتی اور دانش ورانہ مظہر ہے جس کا اظہار ہر دور کی شاعری میں ہوتا رہا ہے ۔ فارسی میں بہاریہ قصیدوں کی بہتات ہے ، انگریزی میں شیکسپیر کے دور میں لوگ فطرت کی شاعری بہت پسند کرتے تھے ، ورڈز ورتھ کو شاعرِ فطرت کہا جاتا ہے ۔ امریکی ادب میں رابرٹ فراسٹ سب سے زیادہ پڑھا جانے والا کامیاب شاعر تھا ۔ اس کا بھی بنیادی موضوع فطرت ہی تھا ۔ اردو شاعری بھی اس دانشورانہ مظہر کے اظہار میں ہر گز پیچھے نہیں ہے ۔ موضوعی نظموں کے مشاعروں میں اکثر فطرت سے متعلق موضوع دیے جاتے تھے یہ الگ بات ہے کہ وہ شعرا ان نظموں میں بہت سامنے کی اور عام باتیں کرتے تھے ۔ فطرت ہر شاعر کے لیے ایک تصور ، خیال ، خیال کی لرزش، نظریہ اور افکار کا باعث رہی ہے۔ ہر شاعر کسی نہ کسی طرح فطرت کو اپنا موضوع بناتا ہے ۔ اس کے پیچھے بھی شاید یہی بات ہے کہ وہ فطرت میں خدا کی موجودگی کو دیکھنے کی تمنا کرتے ہیں یا انھیں خدا کی موجودگی کا فطرت میں احساس ہوتا ہے ۔ میں یہیں’’ کوئی اور ستارا‘‘ کا اولین نقش ’’ مناجات کو درج کرتا ہوا آگے بڑھوں گا تا کہ بات کرنے میں آسانی رہے :
اے خالقِ حسنِ بزمِ عالم

کھلتا ہوا پھول تیرا پرچم
جھکتی ہوئی شاخ ہر شجر کی

ہے سجدہ گزار تیرے در کی
بادل جو ہیں دوش پر ہوا کے

قاصد تری ذاتِ کبریا کے
آتے جاتے ہوا کے جھونکے

اُڑتے ہوئے پیرہن گلوں کے
ہے سب پہ محیط ذات تیری

ہم تیرے یہ کائنات تیری
ذرے ذرے کے دل کے اندر

ہے زیست کا ڈولتا سمندر
گلشن میں تو رنگ ہے نہ بُو ہے
تو بیج ہے، شاخ ہے، نمو ہے
مجھے یہاں تجزیے کا انداز نہیں اپنانا ہے صرف چند گزارشات پیش کرنا ہیں ۔ پرچم کسی بھی قوم،قبیلے ،نسل ، ملک اور مذاہب کی پہچان ہوا کرتے ہیں اور ان میں مختلف رنگ اس قوم کی ثقافتی،سماجی ، تمدنی اور وہاں آباد مختلف طبقات کی زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں توصیف تبسم کے ہاں پھول کا پرچم ،کسی قہاری صفت کے بجائے ، نازکی ، محبت ، رنگ ،زندگی اور اس کی پتیاں مختلف طبقوں کی نمائندہ ہیں ۔ گویا دوسرے لفظوں میں خدا حسین، حسن کا خالق اور نرم خو ہے اور آخری سطر ’’ تو بیج ہے شاخ ہے نمو ہے‘‘ کہہ کر فطرت کی مدد سے خدا کا مختلف نشانیوں میں ظہور کرنا سجھایا ہے ۔ ’’میں ناہی سب توں ‘‘یا’’ دجلے میں قطرہ اور قطرے میں دجلہ‘‘ دیکھنے دکھانے کا عمل ہے۔خالق ،مخلوق، ابتدا،پیدائش ، انتہا ، ازل اور ابداسی کی صورتیں ہیں۔ میں نے اوپر کہا تھا کہ لوگ فطرت میں خدا کی موجودگی کو محسوس کرتے ہیں اس لیے ان کا رجحان فطرت کی طرف زیادہ ہوتا ہے ۔ دوسرے، شاعر تصورِ حُسن سے خدا کو سمجھنے میں آسانی محسوس کرتا ہے کیوںکہ شاعر چیزوں کو مثالی حیثیت سے دیکھتا ہے اور حُسن پرست ہوتا ہے اس لیے ،فطرت کی طرف اس کا جھکائو رہتا ہے ۔
کچھ عرصے سے شاعری بھی سائنسدانوں کے زیرِ مطالعہ ہے وہ اسے ماحولیاتی تناظر میں لسانی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ یوں اب شاعری سائنس کا موضوع بنتی جا رہی ہے ۔ فطرت پر کوئی گفتگو ،ثقافتی ، لسانی ، اور اخلاقی بنیادوں پر ، کسبی بھی شخص کو بین العلومی نظری پیش قدمی تک لے کر جاتی ہے۔ زبان کا ماحولیاتی مطالعہ اور ماحولیات کے لسانی مطالعوں کی بنیاد ہی اصل میں فطرت پسندی اور ثقافت کے مباحث سے پڑی ہے ۔ توصیف تبسم کے ہاں فطرت کے مظاہر براہِ راست شامل نہیں ہوتے یا وہ فطرت کو براہ ِ راست موضوع نہیں بناتے ہیں بلکہ وہ ان عناصر کواپنا ،اپنی ذات کا اور اپنے ارد گرد کا ماحول سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور فطرت کے وحشی روپ کو سامنے لا کر،اپنے ماحول اوراپنی باطنی کیفیات کی تصویر کھینچتے ہیں۔ گویا فطرت اور ان کا باطن ایک دوسرے کا عکس بن جاتے ہیں۔ مجھے یہاں اپنی بات کے اثبات کے لیے ان کی نظم ’’زمستان کی آخری رات ‘‘ کے چند ٹکڑے پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ وہ کیسے فطرت کے عناصر کو اپنی باطنی کیفیات کے لیے عکس کرتے ہیں:
برف زاروں سے زمستاں کی ہوا چلتی ہے/شب کے سناٹے میں چلاتی ہے۔۔۔یوں روتی ہے /
بین کرتی ہو درختوں سے لپٹ کر جیسے۔۔۔/تیرگی۔۔۔جیسے ہزاروں شمعیں/
آخری خونِ تمنا رو جائیں /راستے جس طرح آوارہ خیال/پشتِ اندیشہ سے لگ کر سو جائیں

پتے گرتے ہیں مسلسل۔۔۔پیہم۔۔۔/پتے گرتے ہیں تو ہر آہٹ پر /
چونک اٹھتا ہے سکوتِ بے حس۔۔۔/یوں نظر آتے ہیں بے برگ صنوبر جیسے/
میری تخئیل کا اک عکس تھی آوارہ بہار
یہ سطریں ایک خارجی عمل کی تشکیل کر رہی ہیں ۔فطرت کا یہ ظاہری لیکن وحشت ناک روپ جس ماحول کی منظر کشی کر رہا ہے وہ آخری سطر میں نہایت تاسف اور حد درجہ افسوس کے ساتھ بیان ہو ا کہ میری تخئیل کا اک عکس تھی آوارہ بہار ، گویا تمام عناصر کی وحشت کو شاعر نے اپنے باطن ، خیالات اور افکارکی عکس بندی کے لیے استعمال کیا ہے۔یہ خارجی عناصر شاعر کے باطنی خلفشار کا آئینہ تھے لیکن ابھی معاملہ یہاں تک نہیں ہے چوںکہ نظم کا عنوان زمستاں کی آخری رات ہے، اس لیے ابھی رات کے عناصر باقی ہیں چانچہ اگلی سطروں میں جہاں شاعر خود موجود ہے وہاں کا منظر کچھ یوں ہے :
نظریں کچھ ڈھونڈتی ہیں دیر سے خاکستر میں/بجھتے انگاروں کی سرخی ہے مرے چہرے پر/
نیند آنکھوں میں یہی کہتی ہے: /سو جا !۔۔۔ سو جا !/وقت کے پھیلے ہوئے صحرا میں /
غم، پرِ کاہ ہے سو جا۔۔۔سو جا/سو جا اے کشتہء احساسِ جمال /
اور باہر وہی سرما کی ہوا چیختی ہے /جیسے یہ تیز ہوا جانتی ہو/جانتی ہو کہ ہر اک خوابِ جمیل /
چور دروازہ ہے نارستہ تمنائوں کا/رات اک مادرِ مشفق کی طرح/
لوریاں دیتی ہے کس پیار سے سمجھاتی ہے :/اے ستاروں کی تمنا میں بھٹکنے والے !/
تو مری کوکھ سے پھوٹا ، مری تاریکی میں پروان چڑھا /میں ترا درد سمجھتی وں /
میں تیری ماں ہوں/تری آنکھیں تہَ گرداب سفینے جیسے /تری پیشانی /
تری مردہ امنگوں کی لحد کا کتبہ /درد کی ٹھہری ہوئی لہر ، لبِ پیوستہ
ان سطروں میں شاعر کی پوری کیفیت کھل کر سامنے آ گئی ہے ،یہاں اس نے ایسا ماحول تشکیل دیا ہے جس سے رات کا سیاہ اور مکروہ چہرہ بھی مادرِ مشفق کی طرح شاعر کو محسوس ہونے لگا ہے ۔ شاعر کے خارج کا ماحول اس قدر وحشی ،تلخ اور پُر جبر ہے کہ رات اسے مہرباں محسوس ہونے لگی ہے اور اسے ماں کی طرح لوریاں دے کر سلانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے ۔پہلے کمرے میں آگ تھی اور دہکتے کوئلے تھے ، لیکن وہ بجھ رہے ہیں ، اور راکھ میں بدل رہے ہیں ، شاید یہی شاعر کے لیے توانائی کا ذریعہ تھے ۔ اور شاعر نے یہ بات محسوس کر لی ہے :
سامنے حدِ نظر کمرے کی جامد دیوار /ٹوٹی کھڑکی کے شکستہ شیشے /
ابھی اک جھونکا اسی راہ سے در آئے گا /اور یہ راکھ/
یہ چنگاریاں۔۔۔تمثیل مرے ارماں کی /دور تک فرش پہ بچھ جائیں گی
یہاں شاعر نے کمال ہنر مندی سے ، فطرت کے وحشی عناصر جو اس کی باطنی کیفیات کو ظاہر کر رہے تھے ، اچانک جدا کر کے ، ولین کا روپ دے دیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہ سکتے ہیں کہ شاعر بین السطور میں خود کو بھی اس کا قصور وار سمجھ رہا ہے اور اس بکھرائو کے عمل میں خود بھی شریک ہوگا ۔
فطرت کے عناصر کا یوں استعمال کرنا اردو میں بہت کم کم نظر آتا ہے ۔ رابرٹ فراسٹ کی شہرہ آفاق نظم Stopping by woods on a snowy Evening میں اسی قسم کے مناسبات اور قرینے نظر آتے ہیں ۔ سرد منجمد جھیل ، برف کے اڑتے گالے ،سرد اور گہری شام جیسی علامتیں نظم کے ماحول کو مرگ آلود کرتی ہیں ۔ توصیف تبسم کی نظم ’’ زمستان کی آخری رات‘‘ میں بھی مرگ کے سائے بین السطور رینگتے محسوس ہوتے ہیں ۔کیوںکہ لفظ ’’آخری‘‘ میں تیقن کی صورت موجود ہے ۔ موسموں کا سائیکل تو تغیر پزیر ہے جو کبھی نہیں رکتا ، شاعر کو اپنی زندگی کی بے یقینی کا یقین ہو چکا ہے، اسی لیے لفظ’’ آخری‘‘ برتتا ہے ۔ لیکن یہاں فطرت کے عناصر کا وحشی روپ ان کی کیفیات کی تجسیم بھی کرتا ہے ۔
فطرت کا عمل دخل تو عالمی ادب تک میں موجود ہے دنیا کے بڑے بڑے اذہان فطرت کی مدد سے کئی اہم مسائل سلجھانے میں کامیاب ہوئے گویا یہ بھی ذہانت کا اہم ماخذ ہے ، نیوٹن کی مثال ہمارے سامنے ہے ، جس نے گرتے سیب کو دیکھ کر یونی ورسل گریویٹی کا قانون قائم کیا ، فرینکلن نے چمکتی بجلی سے lightening Rodبنالی ۔ ہم ان جیسے ذہین اور عقل مند نہ سہی لیکن فطرت سے بہت کچھ اخذ کرتے ہیں ، یہ انسانی دانش کا اہم ذریعہ ہے ۔ ایک شاعر جو اپنی پوری عمر کسی بڑے شہر میں گذار دیتا ہے وہ بھی فطرت کی خوبصورتی اور دلکشی کو بیان کرتا ہے، کبھی کبھی اس کا وحشی روپ بھی دکھاتا ہے اور کبھی کبھی اس سے حیات و ممات کا فلسفہ بھی اخذ کر لیتا ہے اور کبھی از سرِ نو پیدائش ، نئی زندگی ، لوگوں کا آنا جانا ، جینا مرنا ، رسم و رواج تک کو فطرت کے مظاہر کی مدد سے سمجھتا ہے گویا وہ ان کا علامتی استعمال کرتا ہے ، اور اپنی نظموں میں پُر اسراریت پیدا کرتا ہے ۔ نظم’’ دوشیزگی‘‘ ایک نظر دیکھتے ہیں :
یہ رت۔۔۔یہ کونپلوں کی جاگتی مٹھاس/فضا میں گرد باد بن کے ناچتی/
یہ کنج میں چمن کے، سرسراہٹیں /یہ آہٹیں ۔۔۔کہ بج اٹھے ہوں جل ترنگ

یہ بیل چھو رہی ہے اس طرح بلند شاخ کو /کہ جیسے کوئی راز ہو۔۔۔کہ جس طرح /
نفس نفس کی آنچ سے گداز ہو /یہ خود بخود گلوں کی پتیوں میں ایک تھرتھری

سلگ رہا ہے شاخ شاخ جو /بہار کا کنوار پن اچھوتا پن/
بھڑک اٹھے نہ یک بیک /خنک ہوا کے لمس سے
تین بندوں پر مشتمل یہ چھوٹی سی نظم ، قاری کے لیے حد درجہ خوشی اور مسرت کا باعث بنتی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے امیجز جن کو قاری آنکھوں کے سامنے متحرک دیکھتا ہے ،ایک پراسرار کیفیت سے گزرتا ہے جیسے منٹو کے افسانے ’’ بلائوز‘‘ میں مومن ابتدائے شباب میں جو کیفیات محسوس کرتا ہے ، اگر چہ پورے افسانے میں قاری کو یہی توقع ہوتی ہے کہ یہ لڑکا جس کی مسیں بھیگ رہی ہیں اور جوان ہو رہا ہے، کسی بھی لمحے پھسل سکتا ہے ، ’’دوشیزگی ‘‘ کی قرات سے ، آخر میں قاری انھی اندیشوں کا شکار ہو جاتا ہے جو چڑھتی جوانی کبھی رنگ لایا کرتی ہے ۔ شاعر نے کس خوبصورتی سے فطرت کے عناصر سے ، انسانی کیفیات ، احساسات اور محسوسات کو بیان کیا ہے ۔ بہار آنے کا یہ منظر صرف توصیف تبسم کی آنکھ نے دیکھا لیکن اسے علامتی پیرائے میں یوں بیان کیا ہے کہ ابتدائے شباب کی نفسیاتی صورتِ حال تصویر ہو گئی ہے اور قاری بھی سوچنے پر مجبور ہے ۔ یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب ہر چیز انوکھی محسوس ہوتی ہے اوربے قراری طاری رہتی ہے ،جنگل کی یہ ہوا کسی بھی وقت بے سمت ہو سکتی ہے ۔
توصیف تبسم کے ہاں بیشتر نظموں میں ، فطرت کے عناصر کی مدد سے ہی دانش کا اظہار ہوتا ہے ، اس اظہار میں علامتیں ماحول کو پوری طرح قائم رکھتی ہیں ، دوسرے الفاظ میں عناصرِ فطرت کا استعمال وہ گرد پوش یا پردہ ہے جسے جب تک اٹھا کر نہیں دیکھتے ، مدعائے شاعر سمجھ نہیں پاتے ہیں اور یہی کام علامت کا ہوتا ہے اور اختصاص توصیف تبسم کا بھی ہے جو ’’کوڑے کا ڈھیر‘‘ ، ’’وصال ‘‘ ، ’’ کتبہ‘‘ ، شب زادگان سے‘‘ اور ’’ خزاں کی آ خری دعا‘‘ جیسی نظموں میں قائم رہتا ہے ۔
گمانِ غالب یہ ہے کہ توصیف تبسم مرگ و حیات اور غمی خوشی کے معانی فطرت سے ہی اخذ کرتے ہیں اور فطرت کے عناصر سے ان کے حواس اور محسوسات فطرت کے لیے ترحم اور وحشت کے جذبات رکھتے ہیں لیکن ان کا ویژن سائنسی رہتا ہے ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post