توصیف تبسم کا ’’کوئی اور ستارہ‘‘

مضمون نگار: سید حامد یزدانی

بات یہ ہے کہ شروع ہی سے رنگ میری کمزوری رہے ہیں، تصویریں میری محبت اوراظہار میری مجبوری رہاہے۔ نصابی اور غیر نصانی کتابوں، مُلکی اور غیر مُلکی رسالوں میں ورق ورق چمکتی تصویروں اور ان کے رنگوں کی دل کشی کب تصویری فن پاروں کی نمائشوں کی سیر کے معمول میں ڈھلی، مجھے ٹھیک سے یاد نہیں۔ شاید جرمنی میں مقیم میرے لاہوری فن کار دوست امجد علی کی رفاقت کی دین ہے۔ کالج کے دنوں میں وہ ’’ التفاتاََ‘‘مجھے لاہور میں ہونے والی نمائشوں میں لے جاتا اور میں ’’ انتقاماََ‘‘ اسے مشاعروں میں لے جاتا۔وہ شاعری میں مناظر ڈھونڈتا رہتا اور میں مناظر میں شاعری۔ یہ سلسلہ لاہور اور پاکستان کی حدود پار کر کے جرمنی، ہالینڈ، بیلجیم، برطانیہ اور یورپ کے دوسرے فنی و ثقافتی مراکز آرٹ گیلریز تک پھیلتا چلاگیا۔ اس دیوانگی میں اس دوران میں ایک اور دیوانہ بھی آ شامل ہوا؛ بنگلہ دیش کا شاعر، ادیب اور براڈکاسٹر جاہد الحق۔ ’’ دوسے بھلے تین‘‘ !
افسوس،اب امجد اور جاہد کے بغیر ہی مجھے کینیڈا شمالی امریکہ میں یہ مہم سر کرنا پڑتی ہے۔ کلاسیکی اور جدید فن پاروں کی نمائشیں اب بھی میرے ذوق کی تسکین کا باعث ہیں۔
ہاں، کبھی کبھی یہ تسکین مجھے کسی شعری مجموعے سے بھی حاصل ہو جاتی ہے جس میں شاعر نے لفظوں سے تصویر کشی کی ہوتی ہے، منظر تراشے ہوتے ہیں،لافانی فن پارے تخلیق کیے ہوتے ہیں۔انھی میں سے جب کوئی آنکھ میں ابھرتا اجنبی منظر سینے میں کھلنے لگے تو میری داخلی کیفیت وجد آشنا ہونے لگتی ہے۔ اب حال ہی میں جب رنگا رنگ تخلیقی فن پاروں سے آراستہ ایک بہت قیمتی شعری مجموعہ مجھے برادرم نوید صادق سے موصول ہواتو دل واقعی جھوم جھوم اٹھا۔ نگاہ کے سامنے جنابِ توصیف تبسم کا ’’ کوئی اور ستارہ‘‘ کیا کُھلا ،رنگ و تخیل کا ایک ارژنگ بابِ تحیر کی طرح وجدان پروَا ہوتا چلا گیا۔شعر در شعر، مصرع در مصرع ڈوبتے اُبھرتے مناظر دید کی حدوں کو پار کر کے کب دل کی گہرائی میں جا اُترے ،کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ایک اعلیٰ فن کار کا کمال یہی ہے کہ وہ غیر محسوس طور پر ہماری زندگی، ہماری سوچ اور ہمارے احساسات کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہ’’ کوئی اور ستارہ‘‘ محض ستارہ نہیں ایک مکمل دنیا ہے ، ایک پورا جہان ہے۔ وہ جوانگریزی کے کلاسیکی شاعر جان ڈن نے کہا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے اندر ایک جہان( آباد) ہے اور ہم میں سے ہر ایک (اپنے آپ میں) ایک جہان ہے، قطعی قابلِ فہم ہے۔ اصل مسئلہ تو اس جہان کی دریافت ہے، اس دنیا کی دریافت یا شاید اپنی دریافت ، اپنا ادراک ، اپنی پہچان، اپنا دیدار ! عجیب مرحلہ ہے، یہ عجب تمنا ہے:

پے بہ پے میں نے تمناؤں کو پیکر بخشے

اس تمنا میں کہ خود کو نظر آؤں کیسے!

غالباً اسی خواہشِ خود بینی کے تحت انسان نے پتھروں کو صیقل کیا تھا اور آئنہ بنایا تھا۔۔۔اور پھروہ عکس کی صورت اسی میں قید ہو کر رہ گیا تھا:

ٹھہر گیا ہے سرِ آئنہ مِرا پرتو

مِرے سوا کوئی شائد یہاں نہ رہتا ہو

پھریوں ہوا کہ ایک دن آئینہ اس کے چہرے سے روٹھ گیا اور ایک چہرہ در بدر ہو گیا:

آئنہ روٹھ گیا چہرے سے

اس مکاں میں نہیں رہتا کوئی

اپنے چہرے کی اسی دربدری کے زمانے میں خود کو دیکھنے کے لیے اس نے یکسوئی کو ڈھونڈ نکالا۔ اپنے وجود کے ارد گرد ایک دیوار کھڑی کر لی مگر یہاں اُس کا تعارف ایک اور دکھ سے ہوا:

پہلے دیوار اٹھائی تھی کہ خود کو دیکھوں

اب نہیں کوئی یہاں دیکھنے والا مجھ کو

چھپ جانے اور ڈھونڈے جانے کی خواہش بھی عشق کے جاں گسل مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے اور عشق کا ہر مرحلہ دکھ سے عبارت ہے۔ ہاں، دکھ دکھ میں فرق ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک اچھے فن کار اور ایک سچے فن کار کے دکھوں اور خوابوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ایک بہت لطیف سا فرق۔جتنا بڑا دکھ ہوتا ہے اتنابڑا خواب اور جتنا بڑا خواب اُتنی بڑی شاعری۔ اچھا فن کار نئی راہیں تلاشتا ہے جبکہ سچا فن کار نئی راہیں تراشتا ہے۔اس کے بے چین دل میں ہمہ وقت ایک نئی جہت دریافت کرنے کی، ایک ایسا نیا جہان آباد کرنے کی تمنا کروٹیں لیتی رہتی ہے جس کی کُل آبادی محض اُسی پر مشتمل ہو۔ایک نئی سمت، ایک نئی راہ کی کھوج ۔ شاید اسی اچھوتی تخلیقی راہ کوامریکی شاعر رابرٹ فراسٹ نے استعارتاََ ’’The Road Not Taken‘‘ سے تعبیر کیا تھا۔اس خواہش کے حوالے سے جنابِ توصیف تبسم توہمیں ایک قدم اور بھی آگے دکھائی دیتے ہیں:

جہت اک اور جہاں میں ہوں،اورکوئی نہ ہو

اک اور سمت ا سی چار سُو کے ہوتے ہوئے

اس بڑے تخلیق کار کی خواہش کے درپردہ مثبت اور تعمیری فکر کارفرمامحسوس ہوتی ہے۔وہ موجودکی نفی کرکے اپنی تمنا کااثبات نہیں چاہتا۔ وہ وسعت کا، ترقی کا قائل ہے مگر اس کے لیے تباہ کن انقلاب کے بجائے بتدریجی ترقی اور تبدیلی کا حامی لگتاہے۔
افقِ خیال پر اسی نئی سمت اور ان جانی جہت کی تلاش کے دوران میں کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ تخلیق کار ’’ کوئی اور ستارہ‘‘ دریافت یا تخلیق کر لیتا ہے جہاں ہر منظر اس کے وجدان اور مشاہدے کی تصویر ہوتا ہے۔کبھی شام کی طرح دھندلا اور کبھی دن کی طرح واضح۔۔۔اور جہاں وہ کہہ سکتا ہے:
پھول ، خوشبو نظر آتا ہے مجھے
اور:
سب سے اونچی شاخ پہ جیسے کھلتا پھول، پرندہ ہے
جہاں:
آباد روشنی کا نگر پانیوں میں ہے
اور کبھی وہ دیکھتا ہے کہ

ہر کھڑکی میں پھول کھلے ہیں، پیلے پیلے چہروں کے
اور یہاں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے کہ:
دھوپ میں اس کے چہرے پر لٹ اور سنہری لگتی ہے
سورج غروب ہوتے ہوتے شاعر کو ایک دل کش منظر سونپ دیتا ہے:
سورج ڈوب گیا ہے لیکن سارا دشت سنہرا ہے
اور ایسے میں شاعر کو:
گھر تانبے کے لگتے ہیں اور جھیل سنہری لگتی ہے
کیوںکہ شاعر کے نزدیک یہ دن کی زرد آنکھ یعنی ڈھلتے سورج کے عکس ہیں:
پانیوں میں ڈوبتی جاتی ہے دن کی زرد آنکھ
اس زرد آنکھ کے سنہری عکس سے تشکیل پاتے دل نشیں مناظر کو دیکھ کر شاعر اسے ایک عظیم مصور قرار دے دیتا ہے:
بڑا عظیم مصو ر تھا ڈوبتا سورج
تاہم شاعر کو شہر کے کچھ اداس اور بجھتے ہوئے روزن اب بھی عکس کے حسن سے محروم دکھائی دیتے ہیں تو وہ حیرت اور تشویش سے کہہ اٹھتا ہے:
شفق کے رنگ مگر بجھتے روزنوں میں نہ تھے
’’ کوئی اور ستارہ‘‘ میں جا بجا اجاگر ہوتے شعری مناظر اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ شاعر کو فطرت سے بہت لگاؤ ہے ۔ وہ اس کے مظاہر سے تحریک پاتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اس کا گلہ مند بھی ہوتا ہے۔ صاف لگتا ہے کہ جبر اور محرومی اسے پسند نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ خیر اور حسن کی تقسیم کرتے ہوئے انسان ہی نہیں فطرت کو بھی لحاظِ مساوات رکھنا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ حسین مناظر سے لطف اندوز ضرور ہوتا ہے مگر ان میں کھو کر نہیں رہ جاتا۔ وہ زندگی کی علامت ان ابھرتے ڈوبتے مناظر کے ممکنہ اثرات اور آثارکو انسانی وجود اور اور اس کے ارد گرد بکھری محرومیوں سے منسلک کر کے بھی دیکھتا ہے اور اس کے لفظوں کا مو قلم خیال کے متنوع رنگوں کی آمیزش میں مصروف ہو جاتا ہے اور پھر وہ اپنے اظہار کے کینوس پر احساس کی کتنی ہی اَن دیکھی داخلی تصویریں بھی ابھارتا چلا جاتا ہے۔
کہیں کہیں تو وہ فطرت ہی نہیں قدرت سے بھی گلہ کرتامحسوس ہوتا ہے۔ اسے انسانی وسائل ہی نہیں بلکہ ادراک کی محدودیت بھی ناگوار محسوس ہوتی ہے۔ وہ حدِ بصارت سے آگے دیکھنا چاہتا ہے۔ دیوارِ ادراک سے ورا اِمکان کو جاننا چاہتا ہے ۔شاید اسی لیے ہستی کی کھڑکیوں سے دکھائی دیتے محدود آسمان اور ٹوٹتے ستارے کا منظر اسے اداس سا کر دیتا ہے :
محدود آسماں پر ، اک ٹوٹتا ستارہ !

ہر شب وہی ہے منظر، کمرے کی کھڑکیوں سے
یہاں ان کے ہم عصراحمد ندیم قاسمی صاحب اور ان کا دکھ کتنا مشترکہ لگتا ہے۔ ندیم صاحب کہتے ہیں:
میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں !
تاہم کبھی کبھی ہمارے شاعر کو یہ منظر بھی غنیمت لگتا ہے اُسے دیکھنے والی آنکھ کی طلب کا احساس بھی ہے اورمنظر کی خواہش کا ادراک بھی۔ اسی لیے تو اسے یہ فکر بھی دامن گیر ہے:
منظر سے کیسے خواہشِ منظر جدا کریں !
جیسا کہ عرض کر چکا ہوں یہ ’’ کوئی اور ستارہ‘‘ ایک پورا جہان ہے جس میں سانس لیتے انسان ہیں، دھڑکتے ہوئے مناظر ہیں، ڈوبتے ابھرتے دن رات ہیں، خوشیاں ہیں، غم ہیں،پرندے ہیں،پھول ہیں، پیڑ ہیں،راستے ہیں، دریا ہے، پانی ہے،دھوپ ہے، چھاؤں ہے،رنگ ہیں،آنسو ہیں،شور ہے، خامشی ہے،باغ ہے، صحرا ہے اور صحرا میں ایک بہت اہم کردار ہے؛ ایک البیلا، آوارہ بگولا ۔۔۔ شاعر کا ہمزاد بگولا،کبھی اس کے دوش پر اور کبھی اس کی آنکھوں سے وہ لمحہ لمحہ ستارہ گردی کرتا ہے۔ میرے خیال میں اس بگولے سے شاعر کی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ صحراکے بلاوے پر وہاں پہنچا تھا:
…….کہ صحرا ہیں بلاتے مجھ کو
آگے کا منظر کچھ یوں بیان ہوتا ہے:
وحشت میں جب ہاتھ اُٹھا کر میں نے رقص آغاز کیا

ایک بگولا اٹھ کر بولا : تجھ سے صحرا گرد بہت
مجھے یاد آیا اس بگولے سے کچھ کچھ میں بھی واقف ہوں۔ اس سے میرا تعارف جناب یزدانی جالندھری نے بہت پہلے یہ کہہ کر کروایا تھا:
بگولوں کی حقیقیت صرف اتنی سی ہے یزدانیہمارے دل کی وحشت دوشِ صحرا پر سوار آئی
اب یہ بگولا ہمارے شاعر کوستارے میں اُڑائے لیے پھرتا ہے:
راہ بے سمت ہے، افتاد ہے منزل اپنی

خاکِ صحرا ہوں، اُڑاتا ہے بگولا مجھ کو
دل چسپ بات یہ ہے کہ اس ہم سفری اور قرب میں انعکاسِ ذات و صفات کا عمل بھی رونما ہونے لگتا ہے اور شاعر دھیرے دھیرے خود بھی بگولا صفت ساہونے لگتا ہے اور اسی تناظر میں وہ دوسروں کو بھی دیکھنے لگتا ہے:
مِر ا قدم ہی نہیں ہجر میں بگولا صفتبچھڑ کے مجھ سے تِرا غم بھی در بدر ہے بہت
اب یہ بگولا صفت منظر منظر بٹی زندگی کا مشاہدہ کرتا ہے ۔ اُسے زندگی اپنے تمام تررنگوں کے ساتھ اس ستارے پر جلوہ گر دکھائی دیتی ہے ۔اب وہ فنی جبلت کے تحت ہمیں بھی اپنے مشاہدے اور تجربے میں شامل کرنے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے۔ وہ ہمیں کچھ ان الفاظ میں دعوتِ نظارہ دیتا ہے:
زمیں کے پھول، لب و رُخ کے استعارے ہیں

عجیب سیر ہے ، گھر سے نکل کے دیکھو تو

اور پھر کیا کیا منظر چشم ِ تماشا پر کُھلنے لگتے ہیں:

نظر کے سامنے اک خواب کا سا منظر ہے

ہَوا پکارتی ہے ، دشت بولتا ہی نہیں

نشیمن میں ہے اک منقار، دو وحشت زدہ آنکھیں

دھواں پھیلا ہوا چاروں طرف جلتے پروں کا ہے

کُھلا کہ خود ہی چمکتے ہیں ریت کے ذرّے

پس ِ غروب بھی اک روشنی ہے ٹیلوں میں

سفینے ہو بھی چکے تہہ نشیں، مگر دریا

سمیٹتا نہیں دامانِ پر شکن اپنا

شوقِ تعمیر بسائے گی خرابے کیا کیا

آدمی ہے تو ہر اک شہر میں صحرا ہو گا

اس سفر میں ایک مرحلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ کچھ منظر تو چشم ِ تماشا پر ظاہر ہو جاتے ہیں مگر کچھ دکھائی دے کر بھی دکھائی نہیں دیتے۔اُبھرتے بھی ہیں تو ایک رمز کی طرح۔ ہمارا فن کارشاعر یہاں ہماری رہنمائی کے لیے کہتاہے:

کسی منظر کا حصہ بن کے دیکھو

نہیں کھلتا نظارہ دیکھنے میں

اور پھر وہ خود بھی کبھی منظر بنتا دکھائی دیتاہے اور کبھی نظر…….اور پھر ایسے لگتا ہے جیسے پل پل بدلتے ہوئے منظر، لحظہ لحظہ تبدیل ہوتی زندگی،ورق ورق کروٹیں لیتے اظہار،کینوس کینوس تغیر آشنا نقوش سے اس کا جی اوبھنے لگا ہو ۔ یہاں ایک اور خواہش جنم لیتی ہے:

کوئی منظر تو اے دل! دائمی ہو

ہمارے شاعر کواس ستارے کی سیر مکمل کرنا ہے، سفر مکمل کرنا ہے، مٹتے بنتے منظروں میں کسی دائمی منظر کو پانے کا سفر۔اب اس کے سفر کی رفتار کا یہ عالم ہے کہ اپنا نقش ِ پا اسے وجود سے کہیں آگے دکھائی دینے لگتا ہے:

کیا خبر لمحہ ٔ موجود ہو فردا میرا

مجھ سے آگے ہے بہت نقش ِ کفِ پا میرا

اس دوران میں جہاں وہ اور بہت کچھ پاتا ہے وہاں وہ موسموں کے دوش پر فطرت کا مقدس پیغام بھی پا لیتا ہے:

پڑھو، تمھارے لیے ہی شجر سے اترا ہے

ورق ورق یہ صحیفہ عبارتوں کے بغیر

اس صحیفے کو پا لینے کے بعدگویا اسے ایک دائمی منظرکی خبر مل جاتی ہے۔ اتنے رنگوں میں اسے ایک رنگ بھا جاتا ہے:

اتنے رنگوں میں کیوں تم کو، ایک رنگ من بھایا ہے؟

وہ خود سے، اپنے دل سے ہم کلام ہوتاہے:

فقط جبیں کا لہو ہاتھ کا مقد ر تھا

ہر ایک رنگ مِری دسترس سے باہر تھا

اسی رنگ سے اس نے نقش کاری کا آغاز کردیا:

اب ایک رنگ ہے تصویر ہو کہ پتا ہو

اسے شاید اپنی سمت دکھائی دینے لگی، نئی جہت نگاہ میں روشن ہو نے لگی مگر اس کی انا کو ترکِ سفر قبول نہیں ۔ کوئی سرگوشی کررہا ہے:

پاؤں میں لپٹی ہوئی ہے سب کے زنجیرِ انا

سب مسافر ہیں یہاں، لیکن سفر میں کون ہے

وہ اس سرگوشی کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھتا جاتا ہے کیوںکہ اسے بگولے کا چیلنج یاد ہے ’’۔۔۔ تجھ سے صحرا گرد بہت‘‘ ۔
سو وہ پھر سے رقص آغاز کر دیتاہے،پھر سے سفر جاری کر دیتاہے۔کہیں بیٹھتا نہیں، کہیں رکتا نہیں یہاں تک کہ وہ شکستگی کے باعث گر جاتا ہے۔ وہ اس شکستگی کا بھی ممنون ہے جس نے اس کی ہمت اور عزم کی لاج رکھ لی:

شکستگی کا بھلا ہو، سفر تمام ہوا

اگر نہ گرتا تو کچھ دیر بیٹھ جاتا میں

انسانی عزم و ہمت کی شکست اسے قبول نہیں۔ اس کے تخیل کی یہ خواب ناک ، پر تاثیر اوراور دل گدازستارہ گردی بالآخر کنارِ دشتِ فن تمام ہوتی ہے جیسے ان دیکھے حُسن کی تلاش میں ٹینی سن کی ’’ The Lady of Shallott‘‘ کا سفر برفیلے پانیوں کے ساحلِ مقصود پر مکمل ہوتا ہے:

ان دیکھے ساحلوں کی لگن بھی عجیب تھی

سب کو خبر تھی جاں کا خطر پانیوں میں ہے

تاریخ گواہ ہے کہ فن کا سفر ختم ہو کر بھی ختم نہیں ہوتا، منزل مل کر بھی نہیں ملتی، خواب پورا ہو کر بھی پورا نہیں ہوتا۔ ہونے اور نہ ہونے کا یہی تذبذب اور ادھورے پن کا احساس فن کار کے اندر اس شوق کو پوری طرح زندہ رکھتا ہے جو اس کے سدا بہار تخلیقی سفر کا ضامن ہوتاہے۔ جنابِ توصیف تبسم کی شاعری کا سفر ایک بھرپور اور زندگی افروز سفر نامہ ہے جو ہم سب کو ’’ کوئی اور ستارہ‘‘تخلیق کرنے کی تحریک دیتا ہے ؛ ایک ایسا ستارہ جو ماضی کے دھندلے دھندلے منظر کی روشنی میں ہمیں حال کی روشن روشن تصویربھی دکھائے اور فردا کے رنگا رنگ خواب بھی۔جب تک کوئی اور ستارہ افقِ فردا پر روشن نہیں ہوتاآئیے ایک بار پھر جنابِ توصیف تبسم کے پر کشش تخلیقی ستارے کی سیر کر آتے ہیں۔
جی، جی، میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا وہاں :

مہکتے ہیں جہاں خوشبو کے سائے

تصور بھی وہاں تصویر سا ہے
………………………………..

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post