تانیثی شعور اور خالدہ حسین کا افسانہ ” نام رکھنے والے ” : اقرا نواز

خالدہ حسین جدید اردو افسانے کا معتبر حوالہ ہیں۔وہ انسان کے ذہن میں اٹھنے والی بے ہنگم سوچوں کو منطقی مناظر میں ڈھالتے ہوئےجو سوچ/فکر/تصور تمام سوچوں پر حاوی ہو اسے موضوع بناتے ہوئے فکشنائز کرتی ہیں۔اس طرح سے موضوع کو بیان کرتی ہیں کہ اس سے انسانی داخلی کیفیات کا اظہار قرطاس پر سرایت کر جاتا ہے۔عام مشاہدے کی بات ہے،انسان اگر اپنے ذہن کے نہاں خانوں میں سر اٹھانے والی سوچوں کے ملغوبے کو پرکھنا چاہے تو وہ خود پر اس سوچ کو مسلط دیکھے گا جس کا اس شخص کے حالات زندگی سے براہ راست تعلق ہو گا۔خالدہ حسین جدید افسانہ نگار ہیں جن کے زیادہ تر افسانے وجودیت کے زیر اثر لکھے گئے ہیں تاہم ان کے اس افسانے “نام رکھنے والے” میں گہرا تانیثی شعور موجود ہے۔اس افسانے کا مرکزی کردار ایک بچی ہے جسے گھر سے باہر اس نصیحت کے ساتھ بھیجا جاتا ہے کہ باہر کسی سے بات نہیں کرنی،باہر چند لوگ جب اس کے سامنے اس کے باپ کا نام لیتے ہیں تو وہ ان کو بتاتی ہے کہ ہمارا گھر وہاں ہے،وہ انھیں اپنے گھر لے جاتی ہے۔وہ بچی ان کے ساتھ تانگے میں بیٹھ کر مہمانوں کو گھر لے آتی ہے۔جب اس کی ماں دیکھتی ہے تو وہ سخت نالاں ہوتی ہے کہ اسے منع کیا تھا کسی سے بولنا نہیں اور یہ مہمان کہاں سے لے کر آ گئی ہے۔اس کا بچی کا باپ مہمانوں کے سامنے اپنے بیٹوں کا تعارف کرواتا ہے۔تو وہ سوچتی ہے کہ میرا تعارف بھی کروایا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوتا،اس سوچ میں وہ احساس کمتری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسے اپنی شناخت ختم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔افسانے میں افسانہ نگار کی یہ شعوری کوشش محسوس نہیں ہوتی بلکہ یہ کہانی میں جڑ کر واقعات سامنے آتے ہیں۔افسانہ دراصل اس امتیاز کو واضح کرتا ہے جو بیٹی اور بیٹے میں روا رکھا جاتا ہے۔ خالدہ حسین کا یہ وصف ہے کہ ان کے افسانوں میں نہ نظریہ کی چھاپ نظر آتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے فیمینسٹ ہونے کا عمومی طور پر اظہار کرتی ہیں۔لیکن ان کے افسانوں کی زیریں سطح تانیثی شعور سے متشکل ہوتی نظر آتی ہے۔ تانیثی شعور کے مطابق خواتین کو ہرحوالے سے بطور انسان تسلیم کیا جائے نہ کہ جنس کی بنیاد پہ تخصیص کی جائے۔خالدہ حسین کا افسانہ “نام رکھنے والے” کا آغاز ایسے ہوتا ہے کہ اس کا مرکزی کردار ایک کم عمر لڑکی ہے جو گھر سے نکلتی ہے اور گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہی اس کو کئی سوچوں نے آن گھیرا ہے۔کبھی وہ یہ سوچتی ہے کہ فراک ساتھ دوپٹہ کیسا لگتا؟فراک ساتھ دوپٹہ لینا کیوں ضروری ہے؟تو کبھی گرجا گھر جاتی لڑکیوں کو دیکھتی اور اپنے آپ سے سوال کرتی ہے کہ لڑکیاں کیوں چلے جا رہی ہیں؟کبھی ان کو مکتی فوج قرار دیتی ہے،جس کے بارے میں اسے سکول میں پڑھایا جا رہا تھا تو کبھی سوچتی ہے وہ مکتی فوج کا مطلب نہیں جانتی۔غرض وہ اپنے اندر اٹھنے والے سوالات میں کھو جاتی ہے۔وہی باتیں اس کے ذہن میں امیجز بن کر ابھرنے لگتی ہیں جو اس کے ذہن میں انڈیلی گئی ہوتی ہیں۔وہ اس راستے کے بارے سوچتی ہے جو اس کے لیے مخصوص اور محدود ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو:
“کلکتہ کا بازار دیکھو، بارہ من کی دھوبن دیکھو، ایک ٹائر والی سائیکل دیکھو آپ کا دل آپی آپ دھڑک دھڑک کے کانول سے باہر نکل رہا ہوتا ہے ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ جاتی ہیں۔یہی معاملہ ان دنوں سڑکوں کے ملاپ کا تھا جہاں سے آگے جانے کی ان کو اجازت نہ تھی۔اس سہ پہر وہ اس لکیر سے واپس پلٹ کر اپنی دبلی پتلی صاف شفاف وارث روڈ پر واپس آرہی تھی۔”
ہمارے سماج میں بیٹیوں کے حوالے سے یہ رویہ ہر گھر میں پایا جاتا ہے کہ انھیں گھر تک محدود کر دیا جائے،یعنی وہ سماجی زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہ کر سکیں اور نہ انھیں یہ موقع دیا جائے۔وہ اپنی مرضی سے ایک قدم اپنے لیے مخصوص کی گئی حدود سے باہر نہیں رکھ سکتیں کیوں کہ ایسا کرنے سے انھیں سزا دی جائے گی۔یہ حدود و قیود ہمارے سماج میں اس لیے ہیں چونکہ مرد کی اجارہ داری ہے تو مرد ہی متعین کرتے ہیں۔جیسے چاہے جو چاہے حد بندی ان پہ لاگو کر دیں کیونکہ وہ خواتین اور بیٹیوں کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔انھیں بطور انسان دیکھنے کے بجائے بطور جنس دیکھتے ہیں نتیجتا بیٹا اور بیٹی میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔افسانے میں موجود یہ کردار ہمارے سماج کی ہر لڑکی کی نمائندگی کر رہا ہے۔جس کو بچپن سے ہی یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ اس کی زندگی کا راستہ متعین کر دیا گیا ہے۔جس پر اسے چلنا ہے۔یہ راستہ بچپن سے لے کر تا عمر اس کے لیے مخصوص کردیا جاتا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی اہم فیصلہ ہو اسے اسی راستہ پہ ہی چلنا ہے اس کو انتخاب کا کوئی حق نہیں۔ اس کے کھیل،اس کا پہناوا سب محدود کردیا جاتا ہے۔حالانکہ بچپن میں وہ جنسی تخصیص کی معنویت سے آگاہ نہیں ہوتی ہے۔لیکن انھیں اس ماحول میں ڈھالا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب ایسے یہ چھوئی موئی صنف نازک پروان چڑھتی ہیں جو تمام عمر استحصال کا شکار ہوتی ہیں مگر مزاحمت کی ہمت نہیں رکھتی۔ان کے اندر خود اعتمادی نہیں رہتی ہے۔وہ ذہنی طور پر دباؤ کا شکار ہوجاتی ہیں۔افسانے میں بچی وہیں سے واپس گھر کی طرف مڑ آتی ہے جہاں سے آگے جانا اس کے لیے ممنوع ہے اتنے میں ایک ٹانگہ اس کے قریب آ کر رکتا ہے۔پھر سے اس کے اندر سوچوں کا بھونچال شروع ہوجاتا ہے وہ ماں کی نصیحتیں یاد کرنے لگتی ہے،کسی سے راستے میں بات نہیں کرنی،یہ نہیں کرنا وہ نہیں کرنا۔اسی کشمکش میں وہ ہوتی ہے کہ وہ اس سے اسی کے گھر کا پتہ پوچھتے ہیں جیسے ہی اسے لگتا ہے کہ ٹانگے والے نے اس کے گھر جانا ہے وہ بھی ان کے ساتھ ہو لیتی ہے اور ان کو راستہ بتاتے اپنے گھر تک لے جاتی ہے۔اس سارے منظر میں وہ مسلسل ان سوچوں کے چنگل میں ہوتی ہے اسے اپنے اطراف کی کچھ خبر تک نہیں رہتی۔وہ اپنے اندر اپنی محرومیوں سے مسلسل جنگ لڑ رہی ہے۔وہ ٹانگے والوں سے باتیں کرنا چاہتی ہے،اظہار کرنا چاہتی ہے،بولنا چاہتی ہے کیونکہ اسے گھر میں اظہار کی اجازت نہیں ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو:
“دونوں جانب بیٹھنے والوں نے اسے بڑی فیاضی سے جگہ دی۔عجب بات تھی چونکہ یہ لوگ ابا سے ملنے آئے ہیں لہذا ڈرنے کی کوئی بات نہ تھی۔اس نے دل ہی دل میں کہا، گھر تو جانا ہے مگر راستے میں انھیں اور بھی بہت کچھ بتانا تھا۔”
یہ سماجی،انسانی اور اخلاقی المیہ ہے کہ خواتین کے پاس اظہار کا بھی اختیار نہیں ہے۔وہ بولنے کا بھی اختیار نہیں رکھتیں یعنی اگر وہ اپنی مرضی سے کچھ کہنا چاہیں تو انہیں خاموش کر دیا جاتا ہے۔اتنی قدغنیں ہیں ان پہ کہ وہ کھل کر ہنستی ہیں تواس کھوج میں نکل پڑتے ہیں یہ ہنس کیوں رہی ہیں۔ مگر انسان کی سوچوں پہ کوئی قفل نہیں لگ سکتا۔خواتین بھی سوچتی ہیں اور اپنے اندر صلاحیتیں رکھتی ہیں لیکن ان کی صلاحیتوں کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں بیٹوں کو مکمل آزادی دی جاتی ہے۔انسانی شعور اس تخصیص کو گوارا نہیں کرتا۔افسانے کا مرکزی کردار لڑکی مسلسل اپنے ساتھ پیش آنے والے رویوں کو سوچ رہی ہوتی ہے اور الجھ رہتی ہے کہ یہ سب کیا ہے کیوں ہے۔اسی کشمکش میں وہ سوچتی ہے گھر جاکر سب کو بتائے گی وہ مہمانوں کو گھر کا راستہ بتاتے ہوئے گھر تک لے آئی ہے۔مگر اس کی یہ خواہش بھی پوری نہیں ہوتی۔مزید جبر یہ کہ اسے سزا کا مستحق ٹھہرایا جاتا ہے کہ مہمان کہاں سے لے آئی ہے۔
“وہ سب سے پہلے اچھل کر اتری حالانکہ اسے ٹانگے کے پائیدانوں سے سخت ڈر لگتا تھا۔ مگر اسے تو اندر جا کر بتانا تھا کہ بہت سے لوگ ابا سے ملنے بہت دور سے آئے ہیں اور گھر کا راستہ اس نے ان کو بتایا ہے مگر ہمیشہ کی طرح امی نے پہلے ہی ٹانگہ دیکھ لیا تھا اور اندر برقی تار دوڑا دی تھی کہ چھوٹی بہت سے مہمان نجانے کہاں سے لے کر آ گئی ہے اس کی ٹھکائی کی جائے۔”
اس کی ماں نے اس کو سمجھا کر بھیجا تھا کسی سے بات نہیں کرنی مگر اس نے سوچا ٹانگے والے اس کے ابا کا نام لے رہے ہیں تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں مگر اس کی اس سوچ کو کون سنے گا؟ انتہائی پرکاری سے مصنفہ نے ایک جملے میں پورے سماجی رویہ کو مقید کر دیا ہے جو کہ خواتین ساتھ روا رکھا جاتا ہے چاہے وہ عمر کے جس حصے میں ہی کیوں نہ ہوں.” چھوٹی بہت سے مہمان نہ جانے کہاں سے لے کر آگئی ہے لہذا اس کی ٹھکائی کی جائے”۔
اس کے لیے تو براہ راست ٹھکائی کا حکم صادر ہوگیا یے یعنی اسے پھر سے ڈانٹ ڈپٹ سے نصیحتیں یاد کروائی جائیں گی جو وہ بھولی ہی نہیں تھی۔اسے اپنی سوچ کے اظہار کا بھی لمحہ نہیں دیا جائے گا کہ وہ بتا سکے اس نے ایسا کیوں کیا۔اس کیفیت سے گزرتے ہوئے ایک بات بھی ذہن میں آتی ہے اس کی ماں ایسا کیوں کر رہی ہے کیونکہ اس کی ماں بھی اسی سماج سے ہے۔اس کا شعور بھی پختہ نہیں ہے کہ اپنی بیٹی کے اندر اعتماد پیدا کر سکے۔دوسرے لفظوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری عورتوں کو بھی اپنے استحصال کا علم نہیں،اور نہ وہ تانیثی شعور کی حامل ہیں۔وہ ماں اپنی بیٹی کی صلاحیتوں سے ناواقف ہے اس لیے ہے کیونکہ اس نے خود اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کیا ہوتا۔ اسے خود ایسا ہی ماحول ملا ہے جیسا وہ اپنی بیٹی کو دے رہی ہے۔
ہماری خواتین میں تانیثی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی بیٹیوں کو بھی مکمل انسان سمجھیں انھیں اس قابل بنائیں کہ وہ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کر سکیں۔اپنے بچوں میں بیٹی بیٹے کو برابر کا درجہ دیں۔خالدہ حسین کا یہ افسانہ اس ضمن میں اہم ہے.
مہمان گھر پہنچتے ہیں ان کا استقبال کیا جاتا ہے مگر وہ اپنے اندر انہیں سوچوں کے گرداب میں پھنسی ہے۔اس کے ساتھ اب کیسا سلوک کیا جائے گا۔اس کے بھائیوں کو مہمانوں سے نہایت خوشی سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ان کے نام بتائے جاتے ہیں جن میں قافیہ آرائی کی گئی ہے. ان کے نام کس نے رکھے، کیسے رکھے گئے،ان کی پڑھائی کی کیا صورتحال ہے،تمام باتوں کا مہمانوں سے اس کا باپ فخر سے ذکر کرتا ہے۔وہ سوچتی ہے شاید اس کا بھی بتایا جائے گا وہ بھی تو اس گھر کی بچی ہے،اسی باپ کی بیٹی ہے۔وہ یہ سارے سوالات خود سے کر رہی ہے۔اور یوں ہی سوچوں کے دائرے میں مقید ہے۔اور تمام مناظر دیکھ رہی۔اقتباس ملاحظہ ہو ۔
“اب شاہ صاحب کے چہرے پر عجب فخر بھری مسکراہٹ تھی۔
“لوبھئی شاہ صاحب، یہ رہا امتیاز، یہ اقتدار اور یہ افتخار۔۔۔”
شاہ صاحب نے باری باری سب سے ہاتھ ملایا اور برابر بولتے چلے گئے۔” ارے بھئ کچھ معلوم بھی ہے تمہارے نام میں نے رکھے تھے”
اور میرا نام؟ اس نے وہاں کونے میں کھڑے کھڑے پوچھنا چاہا۔اچھا سب کچھ اس کی سمجھ میں آرہا تھا۔ وہ تینوں بڑے دیوان پر بیٹھے شاہ صاحب کو اپنی پڑھائی کی جھوٹی سچی داستانیں سنا رہے تھے. وہاں دہلیز میں کھڑے کھڑے اس کے پاؤں سن ہونے لگے۔اس نے دیکھا بالکل کونے میں کھڑی ہے شاید اس لیے اتنے مچھر اس کے پاؤں پہ حملہ آور ہو رہے تھے۔اب تینوں بھائی بھی اندر واپس جا چکے تھے۔ابا اور شاہ صاحب بڑی سنجیدگی سے کسی بات پر غور و فکر کر رہے تھے۔پھر جیسے اچانک چونک پڑے بھئ کمال ہے شاہ صاحب آپ نے گھر کیسے اچانک ڈھونڈ لیا۔”
ہاں بھئ یہ کمال کی بات ہے. امداد غیبی سمجھ لو، اتفاق کہہ لو،کہاں ہے وہ ہاں یہ بچی۔۔۔
ابا نے گھوم کر اسے دیکھا.
اور یہ بچی کون ہے؟
وہ حیرت سے بولے اور پوری کائنات اس ایک سوال میں ڈوب گئی۔ ”
خالدہ حسین نے اسی اقتباس پہ اپنے افسانے کا اختتام کیا ہے. اس بچی کا وجود جوکہ ایک عورت کا وجود ہے مکمل طور پر اس کے پیدا کرنے والے ہی اس سے غافل ہو چکے ہیں۔اسے اس کا وجود اس قدر سماجی طور پر بے وقعت ہوگیا ہے کہ اس کا ذکر کہیں بھی نہیں ہوتا۔ اس انتظار میں بچی کے پاؤں سن ہوجاتے ہیں مگر اس کا باپ اس کا نام تک نہیں لیتا،بچی کو اپنی شناخت منہدم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔اس کا نام رکھنے والے ہی اسے بھول جاتے ہیں کیوں کہ ہمارے ہاں بیٹیوں کا نام لینا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔جبکہ انسانی ذہن چاہے وہ بیٹی کا ہی کیوں نہ ہو یہ سوال اٹھاتا ہے بیٹی ساتھ ہی ایسا کیوں؟ کیا وہ کسی سے کم ہے ہرگز نہیں اگر اس کو مکمل اعتماد اور آزادی ساتھ پروان چڑھایا جائے۔ اسے اپنے دفاع کے لیے اپنی صلاحیتوں کا استعمال سکھایا جائے، اسے بیٹوں کے برابر درجہ دیا وہ کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہے۔مگر ہمارے سماج میں ایسا نہیں ہوتا. تانیثیت ہی ایک ایسا نظریہ ہے جو یہ شعور دیتا ہے کہ خواتین بھی مکمل انسان ہیں۔جب سے پدرسری نظام رائج ہوا ہے خواتین کو ہر لحاظ سے کم تر قرار دیا گیا ہے مگر اس کے خلاف کسی نہ کسی صورت میں آواز بھی بلند ہوتی رہی اور تانیثی ادب بھی اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے.افسانے کا عنوان دیکھا جائے جو کہ اپنے اندر کئی جہتیں لیے ہوئے ہے، “نام رکھنے والے”، اسے پڑھتے ہی افسانہ پڑھنے کی طرف رغبت ہوتی ہے اور پڑھنے والا چونک جاتا ہے اسی طرح افسانہ آغاز سے اختتام تک قاری کو اپنی گرفت میں لیے رکھتا ہے.خالدہ حسین کا یہ افسانہ عورت کی شناخت کو قائم کرتا ہے۔

 

You might also like
  1. Moin Khan says

    Bohat khuub.

  2. Moin Khan says

    Beti hony pr jo uska phla haq ni ada hota wo ye k aksr log usko paidaish pe khushi krna darknaaar,,,Ulta afsoos wala munh bna lety🙄
    Is cheez ko haqeeqtan badlny ki zaroort hai✅

  3. Asifa khan says

    ماشاءاللہ بہت خوب پیاری

  4. گمنام says

    ہمارے معاشرے کا سچ۔۔بہت عمدہ تحریر ہے محترمہ ۔۔اللہ آپ کو کامیابیاں عطاء کریں۔۔۔

  5. اقراء عمران says

    ہمارے معاشرے کا سچ۔۔بہت عمدہ تحریر ہے محترمہ ۔۔اللہ آپ کو کامیابیاں عطاء کریں۔۔۔

  6. عمر سیال says

    خالدہ حسین کے مزاج کو سمجنے کی اچھی کوشش ہے اور افسانے کا بہت عمدہ تجزیہ ہے۔۔
    مالک لم یزل آپ کے علم و عمل اور زورقلم میں برکتیں اور وسعتیں نازل فرمائے آمین

  7. گمنام says

    خوب است

Reply To گمنام
Cancel Reply

Leave Your Comments for this Post