بے لفظ کہانی کا آخری وارث ۔۔۔ سلیم آغا ! : ذوالفقاراحسن

(نجمہ منصور کی نظم”بے لفظ کہانی کا آخری وارث“کا تجزیہ)

بے لفظ کہانی کا آخری وارث۔۔۔ سلیم آغا!

تم نظم کی جس کھڑکی میں بیٹھے ہو
وہاں سے سے سارا منظر صاف نظر آتا ہے
لفظوں کی رنگ برنگی تتلیوں کے ساتھ
تم بچپن سے ہی کھیلتے آئے ہو
اپنے باب کی انگلی تھام کر
جو تمھیں کہتے
انھیں چھونا مت
ورنہ ان کے رنگ
’سارے نقش او ربیل بوٹے‘
تمھاری انگلیوں کی پوروں پر
بے لفظ کہانیاں لکھ دیں گے
”سلیم آغا!
جان لو کہ تم اس بے لفظ کہانی کے آخری وارث ہو
لیکن کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی
بلکہ کہانی کے اندر سے ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے
کئی اسرار اپنے اندر سمیٹے ہوئے
لفظ
کبھی نظم، کبھی افسانہ، کبھی انشائیہ کی صورت
تمہارے اندر ہمکتے ہیں
سلیم آغا!
اپنے بابا کے لفظوں کی اقلیم
”اوراق“ کے گرد پوش کو چھو کر
اس کے اندر کی
انوکھی کتھا کو تم ہی پڑھ سکتے ہو
ان لفظوں کی گرہ کو تم ہی کھول سکتے ہو
لیکن نہ جانے کیوں
تم لفظوں کا دو شالہ اوڑھ کر
چپ چاپ پڑے ہو
اٹھو
آؤ کہ
زندگی کے ”اوراق“ کب سے تمھاری راہ دیکھ رہے ہیں!!“
٭٭
نظم”بے لفظ کہانی کا آخری وارث“کا تجزیہ
نجمہ منصور کی نظموں میں دکھ، درد، کرب اور المیے مختلف علامتوں، استعاروں، تشبیہات کی صورت موجود ہوتے ہیں جو قاری کو پوری طرح جکڑ لیتے ہیں۔ دراصل نجمہ نے جب بھی کوئی نظم لکھی ہے۔ کسی زندہ کردارکو اپنی نظم میں پینٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی چہرے کے خدو خال، پینٹ کرتے ہوئے وہ اس کے باطنی رنگوں کو بھی کینوس پر اتارنے کی سعی کرتی ہیں۔ وہ اس کردار کو سرسری نہیں لیتیں بلکہ اس کردار کے اندر کے دکھ کو بھی محسوس کر لیتی ہیں۔ نجمہ منصور کی آنکھیں دراصل ایکسرا مشین کی طرح کام کرتی ہیں وہ کرداروں کے اندر، دل میں بجھی حسرتوں، ناکام تمناؤں اور ان خواہشات کو بھی دیکھ لیتی ہیں جو کسی طرح پوری نہ ہوں تو دل حسرتوں کی لحد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسی لحد جس پرنہ کوئی دیا جلانے والا ہوتا نہ کوئی کہانی لکھنے والا موجود ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم آغاقزلباش پر لکھی نظم ”بے لفظ کہانی کا آخری وارث“کا عنوان ہی انتہائی اہم اور معنی خیز ہے۔لفظ ”آخری وارث“پر غور کیا جائے تو اس میں بھی ایک دکھ کی طویل داستان موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ وزیر آغا کی اولادوں میں ایک بیٹا سلیم آغا قزلباش اور ایک بیٹی وقار النساء ہیں۔ سلیم آغاقزلباش نے اپنے والد کے مشن کو جاری و ساری رکھا۔ ان کی یاد میں تقریبات کا اہتمام بھی کروایا۔ مختلف کتابیں اور رسائل میں ان کے بارے مضامین و مقالات کی اشاعت کا بندوبست بھی کرتا رہا۔ سلیم آغا نے بڑی حد تک وزیر آغا کی رحلت کے بعد محبان وزیر آغا کو آپس میں جوڑے رکھا اور ان کی کمی کو کسی نہ کسی حد محسوس نہ ہونے دیا۔ سلیم آغا کی تین شادیاں ہوئیں لیکن اللہ تعالی نے انہیں اولاد جیسی نعمت سے سرفراز نہ کیا۔ یہ ایک ایسا دکھ ہے جس کو سینے میں دبائے وزیر آغا بھی دنیا سے رخصت ہوئے اور سلیم آغا قزلباش کے انتقال کے بعد محسوس ہوا کہ وزیر آغا اب موت واقع ہوئی ہے۔ نجمہ منصور نے اسی لیے اسے ”آخری وارث“ قرار دیا ہے۔ وقار النساء سے یہ توقع نہیں کہ وہ اپنے باپ او ربھائی کے ادبی کام اور مشن کو جاری رکھیں یہ وقت نے ثابت کر دیا کہ وقار النساء نہیں بلکہ آخری وارث سلیم آغا ہی تھا۔اس حقیقت کو نجمہ منصور کی دور اندیش نظروں سے بھانپ لیا تھا۔
سلیم آغا کی پر ور ش پر بہت زیادہ توجہ دی گئی اسے عام بچوں کی طرح نہیں بلکہ بہت ہی خاص بچوں کی طرح سلیم کی طرح ٹریٹ کیا گیا۔ اسے دھوپ چھاؤں سے بچایا گیا۔ سردی گرمی سے محفوظ رکھا گیا۔ اسے کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، گلی ڈنڈا ایسی کھیلوں سے دور رکھا گیا۔مٹی میں نہیں کھیلنا، دیکھو گندی چیزیں نہیں کھانی، یوں نہیں کرنا، اسے کھانے پینے کے لیے بھی سو سو طرح کی ہدایات تھیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ بڑے ناز ونخرے سے جوان ہوا۔شہزادوں کی طرح زندگی بسر کی۔اس کی ایک خواہش پر سو سوطرح کے پکوان حاضر ہو جاتے۔سلیم کے شایان شان کپڑوں، جوتوں، گاڑیوں رہائشی مکانوں تک کا اہتمام کیا گیا۔اس کے لیے لاہور میں عالیشان کوٹھی بنوائی گئی۔نوکر چاکر ہمہ وقت اس کی خدمت میں رہے۔ اسے شروع سے ہی لفظوں سے واسطہ رہا۔اس نے آنکھ کھولی تو اس کے آس پاس کتابیں تھین اور کتابوں میں لفظ اسے پکارنے لگے۔ وہ ان لفظوں کی طرف کھینچا چلا گیا۔ وہ لفظوں کی رنگ برنگی تتلیوں سے ہی کھیلنے لگا۔ ان کے والد گرامی نے سلیم آغا کو تتلیوں کو بھی چھونے سے منع فرمایا کہ ان کے رنگ انگلیوں کی پوروں پر لگ جائیں تو ان سے کہانیاں ہمکنے لگتی ہیں۔ اسی لیے نجمہ کہتی ہیں:
”لفظوں کی رنگ برنگی تتلیوں کے ساتھ
تم بچپن سے ہی کھیلتے آئے ہو
اپنے باب کی انگلی تھام کر
جو تمھیں کہتے
انھیں چھونا مت
ورنہ ان کے رنگ
’سارے نقش او ربیل بوٹے‘
تمھاری انگلیوں کی پوروں پر
بے لفظ کہانیاں لکھ دیں گے۔“
سلیم آغا قزلباش لفظوں کے ساتھ ہی پروان چڑھنے لگا۔ کتابوں او رلفظوں نے اسے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اس نے ایم اے اردو کے بعد”جدید اردو افسانے کے رجحانات“ پر ِپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سلیم آغا قزلباش کو ادب سے لگاؤ ورثہ میں ملا ہے۔ کیوں کہ ان کے والد گرامی ڈاکٹر وزیر آغا ممتاز نقاد، انشائیہ نگار، شاعر، اور مدیر ”اوراق“ تھے۔ سلیم آغا کوکہانیاں پڑھنے کا شوق ہوا تو اپنی پھوپھیوں سے ناول لے کر پڑھتا رہا پھر رفتہ رفتہ کہانیاں اس کے اندر سے پھوٹنے لگیں۔ اسی طرح اردو انشائیہ کے خدوخال بھی ان میں نمایاں ہوئے۔ نثری نظموں کا رجحان بھی پیدا ہوا۔ تنقید بھی لکھنے لگے۔ سلیم آغاافسانہ نگار، انشائیہ نگار، شاعر، اور تنقید نگار کے طور پر نام پیدا کیا۔ ان کے افسانوں پرانشائیوں کے اثرات اور انشائیوں پر افسانوی رنگ کے اثرات موجود رہے ہیں۔ ان کی نظموں میں انشائی رنگ بدرجہ اتم موجود رہا ہے۔ نجمہ منصور نے انہی باتوں کو نہایت عمدگی سے نظم کی صورت بیان کیا ہے۔ نجمہ منصور ایک چھوٹی سی نظم میں سلیم آغاکی مکمل زندگی کا احاطہ کرتی ہیں تو کمال کر دیتی ہیں۔ انھوں نے سلیم کے زندگی کو بڑی مہارت کے ساتھ چند لفظوں میں مقید کر دی ہے۔ وہ لکھتی ہیں:
”سلیم آغا!
جان لو کہ تم اس بے لفظ کہانی کے آخری وارث ہو
لیکن کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی
بلکہ کہانی کے اندر سے ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے
کئی اسرار اپنے اندر سمیٹے ہوئے
لفظ
کبھی نظم، کبھی افسانہ، کبھی انشائیہ کی صورت
تمہارے اندر ہمکتے ہیں“
ڈاکٹر سلیم آغاقزلباش نے بطور افسانہ نگار، انشائیہ نگار اور نثری نظم نگار کے طور پر
بے پناہ شہرت حاصل کی ہے۔ڈاکٹر وزیر آغا نے ادبی مجلہ ”اوراق“ جنوری ۶۶۹۱ ء کو مطلع ادب پر طلوع ہوا اور ۵۰۰۲ ء کو ڈوب گیا۔ ”اوراق“ ایک عہد ساز ادبی جریدہ ہے جس نے کم و بیش تین نسلوں کی آبیاری کی ہے۔ ”اوراق“ نے جدید اردو نظم، انشائیہ کی تفہیم اور ابلاغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دنیائے ادب کے اس عظیم ادبی پرچے کی بندش ادبی حلقوں کے لیے بہت ہی افسوس ناک خبر تھی۔ سلیم آغا کے قریبی دوستوں نے بھی کئی بار انہیں راضی کرنے کی کوشش کی کہ ”اوراق“ کا سلسلہ جاری رکھا جانا چاہیے۔ ہر بار سلیم آغا کوئی نہ کوئی مصروفیت کا بہانہ بنا کر ٹالتے رہے۔
نجمہ منصور انہیں ترغیب دلاتی ہیں کہ سلیم آغا اب تمہارا فرض ہے کہ اپنے والد کے اس علمی ورثے کی حفاظت کرو۔”اوراق“ کی از سر نو اشاعت کا بندوبست کرو۔ ہم تمھارے ساتھ ہیں دیکھو پروفیسر یوسف خالد، ڈاکٹر عابد خورشید، شاہد شیدائی، منور عثمانی، ذوالفقاراحسن، طارق حبیب، ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ مگر سلیم اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا تھا اسے اولاد کے نہ ہونے کا بھی غم تھا۔ اپنی تین شادیوں کی ناکامی کا بھی دکھ تھا اور پھر سب سے بڑا دکھ اتنے بڑے علمی ادبی ورثے کو نہ سنبھالنے کا بھی تھا۔ شاید اسے یہ قلق بھی اندر ہی اندر گھن کی طرح کھا گیا تھا کہ اتنی بڑی جائیداد اس کے ہاتھوں سے چھن گئی تھی۔انور سدید کے حکم کو بھی پورا نہ کر سکا تھا۔ انور سدید کا کہنا تھا کہ ایک جوائنٹ اکاؤنٹ بنا دیا جائے اور اس میں کم از کم بیس لاکھ روپے جمع کر وا دیئے جائیں۔ تاکہ اس کے منافع سے ہر سال وزیر آغا کی یاد میں کوئی بڑی تقریب ہوتی رہے۔ وزیر آغا کے بارے میں کتابیں چھپتی رہیں۔ تحقیقی مقالہ جات کو چھپوایا جا سکے مگر سلیم بے بس ہو چکا تھا وہ کچھ بھی نہ کر سکا تھا۔ وہ کونسی مجبوری تھی کہ وہ چاہتے ہوئے بھی ایسا نہ کر سکا۔ معلوم نہیں ہو سکی او روہ یہ دکھ اندر ہی اندر سمیٹے ہم سب سے بہت دو رچلا گیا۔
نجمہ منصور اس ساری صورت حال سے آگاہ تھیں اسی لیے وہ کہتی ہیں:
سلیم آغا!
اپنے بابا کے لفظوں کی اقلیم
”اوراق“ کے گرد پوش کو چھو کر
اس کے اندر کی
انوکھی کتھا کو تم ہی پڑھ سکتے ہو
ان لفظوں کی گرہ کو تم ہی کھول سکتے ہو
لیکن نہ جانے کیوں
تم لفظوں کا دو شالہ اوڑھ کر
چپ چاپ پڑے ہو
اٹھو
آؤ کہ
زندگی کے ”اوراق“ کب سے تمھاری راہ دیکھ رہے ہیں!!“
نجمہ منصور نے اپنی نظم میں ”بے لفظ کہانی کا آخری وارث“ میں پہلے تتلیوں کا ذکر کیا ہے۔ تتلیوں کے ذکر کے ساتھ وزیر آغا کی نظموں کی کتاب ”گھاس میں تتلیاں“ ذہن میں گھومنے لگتی ہے۔ اسی طرح نجمہ نے ”اوراق“ ذکر کیا ہے۔اوراق کو کہیں زندگی کے اوراق سے بھی منسوب کیا ہے۔ وزیر آغا کے عہد ساز ادبی پرچے کا نام ”اوراق“ تھا۔ اسی طرح نظم میں ایک لفظ ”انوکھی کتھا“ آیا ہے جو کہ وزیر آغا کے مجموعہ کا نام ”اک کتھا انوکھی“ سے اخذ کیا گیا ہے۔ نجمہ منصور نے ایک اک لفظ جوڑ کر سلیم آغا کی بے لفظ کہانی کو مکمل کیا ہے۔ نظم کی بنت نہایت خوبصورت ہے۔ اس نظم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سلیم آغا کی کتابوں کا پڑھا جائے اور سلیم آغا کی زندگی کے اوراق کوسمجھا جائے۔

You might also like
  1. شبیر احمد قادری ، فیصل آباد ۔ 03006643887 says

    بہت عمدہ ،
    محترم ذوالفقار احسن صاحب آپ نے محترمہ نجمہ منصور صاحبہ کی نظم ” بے لفظ کہانی کا اخری وارث ” کا اچھا تجزیہ کیا ہے ، آپ کی اس راۓ سے جزوی طور پر اتفاق کرتا ہوں:
    ” نجمہ منصور کی نظموں میں دکھ ، درد، کرب اور المیے مختلف علامتوں ، استعاروں، تشبیہات کی صورت موجود ہوتے ہیں جو قاری کو پوری طرح جکڑ لیتے ہیں۔۔۔نجمہ منصور کی انکھیں دراصل ایکسرا مشین کی طرح کام کرتی ہیں وہ کرداروں کے اندر، دل میں بجھی حسرتوں ، ناکام تمناؤں اور ان خواہشات کو بھی دیکھ لیتی ہیں جو کسی طرح پوری نہ ہوں تو دل حسرتوں کی لحد میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسی لحد جس پر نہ کوئ دیا جلانے والا ہوتا ہے نہ کوئ کہانی لکھنے والا موجود ہوتا ہے ” ۔
    ذوالفقار احسن صاحب ان حسرتوں کی بے خاک لحد کے مکینوں پر نجمہ منصور لفظوں کے دئیے بھی جلاتی ہیں اور نثمی کہانیاں بھی لکھتی ہیں اور خوب لکھتی ہیں ،
    مجھے محترمہ کی نظمیں پڑھنے کا موقع ملا ہے ، ان کی نظموں کے کردار بولتے دکھائ دیتے ہیں ، یہ مکالمہ بہت با معنی اور پرتاثیر ہوتا ہے ، ان نظموں میں مذکور کتابیں اور رسالے قاری پر حیرتوں کے کئ نئے دروا کرتے ہیں ،
    مجموعی طور پر آپ کا یہ مضمون ” نجمیات ” کے ذیل میں قابل قدر اضافہ ہے ۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post