برطانیہ کاافسانہ اور مقصود الہی شیخ : ڈاکٹر اسد مصطفیٰ

مقصود الہی شیخ برطانوی افسانے کے تخلیقی کارواں کے سرخیل ہیں۔ان کے افسانوں کے متنوع موضوعات انہیں وہ امتیاز بخشتے ہیں کہ وہ بیک وقت پاک وہند اور برطانیہ کے افسانہ نگار کہے جا سکتے ہیں۔برطانیہ کے افسانہ نگار کے طور پر ان کے افسانے میں برطانیہ ہی سے متعلقہ طرز احساس کے عناصر مجتمع ہیں جبکہ مشرق سے اپنی جڑت کا اظہار، ان افسانوں کا طرہء امتیاز ہے جنہیں لکھتے ہوئے شعوری اور لاشعوری دونوں سطحوں پر اپنا ماضی اورمشرق انہیں اپنی طرف کھینچ رہے تھے ۔
برطانوی طرز احساس کو آپ یورپی طرز احساس بھی کہ سکتے ہیں اور یہ شاعری ،افسانہ اور ناول وہاں لکھی جانے والی تمام اصناف سخن میں دکھائی دیتا ہے ۔ یہ تخلیق کار جو ایک غیر معاشرے میں گئے تھے وہاں مختلف حالات سے نبرد آزما رہے ۔انہوں نے وہاں کے حالات وواقعات،اجنبی لوگوں کے رویوں اوروہاں کی زندگی کا بغور مشاہدہ کیا۔ساٹھ کی دہائی میں پاکستان اور ہندوستان سے تارکین وطن کی پہلی نسل وہاں گئی۔ان لوگوں کو بہت مختلف طرح کے حالات وواقعات کا سامنا کرنا پڑا۔اس وقت اجنبی معاشرے میں پیش آنے والے حالات واقعات کو بیان کرنے کرنے کے لیے،بہت سے حساس افراد نے مختلف ذریعہ اظہار اپنایا ۔اس سلسلہ میں سب سے زیادہ پزیرائی شاعری کو ملی کیونکہ شعر کہنا اچھی نثر لکھنے سے زیادہ آسان ہے ۔ لیکن شعر کے بعد سب سے بڑا ذریعہ اظہار افسانے کی صنف ثابت ہوئی ۔سو وہاں کے حالات کے مطابق ایک مختلف طرح کی سوچ اور طرز احساس پیدا ہوا جو رفتہ رفتہ زیادہ وسعت اختیار کرتاگیا ۔اس طرز احساس کے نمایاں خدوخال میں احساس تنہائی،ہجرت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشمکش،اجنبی معاشرے میں پیدا ہونے والا احساس بے گانگی،مشینی اور صنعتی زندگی کی عدیم الفرصتی،مغربی معاشرت کے مختلف اخلاقی رویے،عارضی رفاقتیں ، جنس نگاری،ڈپریشن،انسان دوستی،احساس جمال اور کائناتی شعور شامل ہیں۔
برطانوی طرز احساس کے ان خدوخال کے پس نظر میں یہ بات پوری وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہاں کا افسانہ نگارعصری تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔اس کے ہاں وجدانی بصیرت بھی ہے ،تخلیقی توانائی بھی ہے اورقوت ادراک بھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے وہ ماحول اور مواقع بھی میسر ہیں جس کا مشاہدہ روح عصر سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ضروری ہے۔چنانچہ یہ حقیقت بھی خوش کن ہے کہ برطانیہ کے افسانہ نگار مرد وخواتین کی کہانیوں میں کہانی پن موجود ہے۔اسی پس منظر میں یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ آویزشِ افکار واقدار اور تہذیبوں کے تموج وتسلسل کے مطالعے اور اثرات سے یہ تخلیق کار رجائیت پسند اور بالغ نظر بن گئے ہیں۔مغربی احساسِ فکر کی ان تند وتیز لہروں نے مشرقی افسانے کے بحیرہ عرب میں ارتعاش پیدا کر دیا جو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔آج کا مشرق ،مغرب سے زندگی کے ہر میدان میں متاثر ہے۔جدید ٹیکنالوجی اورمیڈیا نے ان اثرات کومہمیز کر دیا ہے۔سو اب وہاں ہونے والی شاعری ہو یا افسانہ اس کے اثرات یہاں پر مرتب ہو رہے ہیں اور ان کا تجزیہ کرنا بہت ضروری ہے ۔
مغرب کے تخلیق کاروں کے ہاں فکرو نظر کے یہ نئے ماہتاب ،نئے ماحول اور نئے موسم سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے سے پیدا ہوئے ہیں۔ طرزاحساس کے یہ عناصر وہاں کے افسانے کی داخلی فضا پر اثر انداز ہوئے ہیں۔چنانچہ ایک نئی طرح کا تخلیقی آہنگ تخلیق ہوا ہے جو پاک وہند میں لکھے جانے والے افسانے سے کافی حد تک مختلف نظر آتا ہے۔
مغربی ماحول میں اپنے آپ کو ضم کرنے اور وہاں کا طرز احساس اپنانے کے باوجود ہمیں ان تاریکین وطن افسانہ نگاروں کے ہاں اپنی مٹی کی خوشبو دار مہک بھی محسوس ہوتی ہے ۔یہ اس بات کا اظہار ہے کہ مغرب سے اپنا سب کچھ وابستہ کر لینے والا،نفسیاتی اعتبار سے اپنے ماضی اور اپنے وطن سے مکمل طور پر کٹا نہیں ہے ۔
تارکین وطن افسانہ نگاروں میں یورپی طرز احساس کے نمایاں خدوخال اور اپنی تہذیبی ولسانی جڑوں سے جڑت کا اظہار کے اظہار میں اگر وہاں کے افسانے کے معیارات مقرر کئے جائیں تو مقصود الہی شیخ کا افسانہ نہ صرف ان معیارات پر پورا اترتا ہے بلکہ وہ وہاں کے چند اہم ترین افسانہ نگاروں میں گنے جا سکتے ہیں۔ ایک طر ف برطانوی طرزِ احساس ان کے افسانوں کو متنوع بناتا ہے تو دوسری طرف مشرقیت کا صحت مند لمس ان کی قدر میں اور اضافہ کرتا ہے ۔
مقصود الہی شیخ پاکستان سے محبت کرنے والے شخص ہیں۔ جواز جعفری کے خیال کے بموجب انکے افسانوں میں ایک چھوٹا سا پاکستان ہر جگہ آباد نظر آتا ہے ۔ مقصود الہی شیخ کی کہانی بیان کرنے کا انداز سادہ ہے اور وہ بڑی صاف شستہ زبان لکھتے ہیں۔کہانی لکھتے ہوئے ڈھیر سارے واقعات میں سے اپنی کہانی نکال لاتے ہیں۔یوں زندگی پوری ہمہ جہتی سے ان کی کہانی میں رواں دواں رہتی ہے۔ ۔ وہ ان معدودے چند افسانہ نگاروں میں سے ہیں جو ہر طرح کے موضوع کو ہاتھ بڑھا کر اٹھا لیتے ہیں اور انہیں اس موضوع کو کہانی میں ڈھالتے ہوئے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔مقصود الہی شیخ کی اردو سے محبت اور خدمت ایک طرف،ان کی اول وآخر پہچان ایک افسانہ نگار کے طور پر ہے۔ کوئی بھی برطانوی یا یورپی افسانے کا انتخاب ان کے بغیر نامکمل ہو گا۔انہوں نے اکیسویں صدی کے اس پہلے دہے کے ابتدائی سالوں میں”مخزن“ کے اجرا سے ایک تحریک چلائی کہ برطانیہ کے قلم کاروں کو پاکستان اور ہندوستان کے ادیبوں کے مرکزی دھارے میں اچھی طرح سمویا جائے۔”مخزن “کے دس شمارے اسی مقصدکے لیے وقف رہے۔اور اب سوشل میڈیا نے وہ دوریاں ختم کر کے وہ قرب پیدا کیا ہے جس کے لیے کبھی بڑی بڑی خواہشیں کی جاتی تھیں۔

You might also like
  1. Dr.Asad Mustafa says

    Thanks Dr.Sahib

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post