”بارش بھرا تھیلا“ پر تنقیدی نظر : ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

گزشتہ کچھ عرصے میں مسعود قمرنے نثری نظم کے معاصر منظر نامے میں جس رفتار سے اپنا نام اور مقام بنایا ہے وہ قابلِ داد ہی نہیں قابلِ تقلید بھی ہے۔انھوں نے اپنی نظموں میں خاص طرز کے جرأتِ اظہارسے،سماجی کج رویوں،بے اعتدالیوں اورناہمواریوں کو جس طرح بے باکی سے نمایاں کیا ہے،وہ نظم کے معاصر منظر نامے میں شعرا کے ہاں خال خال ہی دکھائی دیتا ہے۔یہی وہ انفرادیت ہے جو ان کے حال ہی میں شایع ہونے والے شعری مجموعے ”بارش بھرا تھیلا“میں نمایاں ہوئی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی نثر نے نظم کا چولا پہن لیا ہو اور نظم نثر کے روپ میں اپنا اظہار کر رہی ہو۔ تخیل کی اڑان،جذبے کی فراوانی،احساس کی شدت،تازہ کاری،اسلوب کی ارفعیت اور جدید حسیت سے مملومسعود قمر کی شاعری قاری کو حیرت زدہ کرتی چلی جاتی ہے۔انھوں نے زندگی کے تلخ تجربات کویوں جھیلا ہے کہ تجربے احساس کے ساتھ ممزوج ہوکر اظہار کی زبان بن گئے ہیں۔ مثلاً ان کی نظموں سے کچھ اقتباسات ملاحظہ ہوں:
میں زندہ ہوں
مجھے کوئی نہیں مار سکتا
میرے مرنے کے بعد بھی
تم
کبھی بھی کہیں بھی جا سکتی ہو
گلاب جامن کے ساتھ سموسے کھانے“ (کافی کپ کے ساتھ پڑی زندگی)
”میں
تنہائی کے موٹاپے پہ
قابو پانے کے لیے
دن رات فیس بک پہ
ایکسر سائز کرتا رہتا ہوں“ (تنہائی کا موٹاپا)
”دن میں
رات کی پیوند کاری
رات کو ابدی بنانا ہے
میں
سمندر میں پردہ تان کر
کُجوں سے نہیں نہاتا
بھکاری سے بقایا مانگنا
خود کو بھکاری بنانا ہے۔“ (دھوپ میں چمکتے سیب)

مسعود قمر کے لہجے میں مستور معاشرتی طنز انھیں اپنے عہد کے دیگر شعرا سے ممیز کرتا ہے۔وہ طنزیہ انداز کو کسی بھی صورت میں ابہام کے پردے میں لپیٹنے کے قائل نہیں،وہ آسان،سہل اور عام فہم انداز میں گہری اور پیچیدہ بات کہ جاتے ہیں لیکن اس سادگی میں تازہ کاری،ندرت اورزبان و بیان پر ان کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑتی۔ان کی شاعری کی خاص بات ہے کہ ان کی نظموں میں متعدد اساطیری علامتیں،نئی لفظیات کا روپ دھار کر جدید حسیت کی آئینہ دار بن جاتی ہیں۔ان کی نظمیں موجودہ عہد کی تلخیوں،بے اعتدالیوں اور عالمی مسائل کے شعورکو تمام تر معنویت کے ساتھ اجاگر کرتی ہیں۔ مسعود قمر کے ہاں ہمیں بین الاقوامیت کا تصور بھی ابھرتا نظر آتا ہے جس نے موجودہ عہد کے شاعر کے نقطہ نظر کو بدلنے کی کوشش کی ہے،انھوں نے رومن رولاں اور ٹالسٹائی کی طرح ادبی فکر کو گروہوں،قبیلوں اورقوموں کی جکڑ بندی سے آزاد کر کے دنیا کی تعمیر اور خوش حالی کے خواب دیکھنے کاجتن کیا ہے۔یہاں تک کہ ٹالسٹائی کی انسانیت پسندی کا تو لینن بھی معترف تھا۔مسعود قمر بھی بین الاقوامی امن و آشتی کا خواہاں ہے،یہی وجہ ہے کہ اس کی شاعری میں انسانیت پسندی کا عنصر بار بار نمایاں ہوتا ہے۔جس طرح ہیمنگ وے نے اپنی تحریروں میں سپین کی خانہ جنگی کے نقشے کھینچے ہیں اسی طرح مسعود قمر بھی اپنی نظموں میں ظلم اور استحصال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مقتدر طبقے کی نااہلیوں اور ریشہ دوانیوں کو شاعرانہ پیرائے میں خوش اسلوبی سے بیان کر جاتے ہیں۔اس حوالے سے ان کی نظموں سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
”باباکی عینک کی ایک آنکھ
گھر کی دہلیز کے باہر پڑی ہے
دوسری ٹارچرسیل کی دہلیز کے اندر
میں
بابا کی دونوں آنکھوں کو
ایک ساتھ چومنا چاہتی ہوں
بابا کی نظم کی چند سطریں
گلی میں
جیپ کے ٹائروں کے نشانات پہ پڑیں ہیں“ (میں دونوں جوتوں میں اپنے پاوٗں ڈالنا چاہتی ہوں)
”میں دونوں جوتوں میں اپنا پاؤں ڈالنا چاہتی ہوں“ کے علاوہ ”برفیلی سرنگ کی قیدی“ اور”ہم بہت ہیں“ اس ضمن میں حوالے کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔ ریاستی اہل کاروں کی نا اہلیوں اور ظالمانہ رویوں پر خامہ فرسائی ”ماں جیسی ریاست“ میں ملاحظہ ہو:
”ریاستی کارندے
مجھ میں خواب آور گولیاں بھر کے
مجھے تجرباتی سٹریچر میں پھینک کے
دن بھر کی بخشش
سگریٹوں میں بھرتے رہتے ہیں“ (ماں جیسی ریاست)
عالمی اداروں کی ریشہ دوانیوں اور ناانصافیوں کے بارے میں ان کی ایک نظم کا اقتباس ملاحظہ ہو:
اور۔۔۔اوربچے
تتلیوں کا پیچھا کرتے کرتے
جیپوں اور بھاری بوٹوں تلے
کُچلے جا رہے ہیں
ایسے میں دوستو
تم ایک ہاتھ میں قلم
اور
دوسرے ہاتھ میں کاغذ پکڑے
ہوٹلوں کی کھلی کھڑکیوں سے
انھیں مت دیکھو
کہ ظلم ہوتے دیکھنا
صرف اور صرف
خدا اور فوٹو گرافر کو زیب دیتا ہے“
مزید براں ان کی نظموں میں ذات و کائنات کے تقاضے اور مشینی دور کے انسان کے مسائل کھل کر سامنے آئے ہیں،یوں انھوں نے موجودہ عہد میں اپنی قادر الکلامی اور تخلیقی وفور سے نثری نظم کو نہ صرف شخصیت کا اعتبار دان کیا ہے بلکہ معیار بھی بخشا ہے۔پروفیسر انور صدیقی نے ایک جگہ تحریر کیا تھا کہ ”جب ہم دوسروں سے لڑتے ہیں تو خطابت جنم لیتی ہے اور جب ہم خود اپنے آپ سے لڑتے ہیں توشاعری۔۔۔“مسعودقمر نے پروفیسر انور صدیقی کے اس قول کو رد کیا ہے، وہ جب دوسروں سے لڑتا ہے تو تب بھی اس کے لفظوں سے اچھی،سچی اور معتبر شاعری جنم لیتی ہے۔ ”بارش بھرا تھیلا“کی شاعری کا غائر مطالعہ یہ عیاں کرتا ہے کہ مروجہ فیشن سے انحراف،پائمال رستوں سے رو گردانی، ازکار رفتہ خیالات اور فرسودہ روایات سے بغاوت مسعود قمر کے فن کا مقصد ہے۔ان کی بغاوت میں روایت کا احترام بھی ہے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کا عنصربھی موجود ہے یوں انھوں نے نثری نظم کو جمود، فرسودگی اور کھوکھلے پن سے بچا لینے کی شعوری کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
”ہمیں
خریدنے ہیں بہت سے کان
جو بہرے ہوں
اور بہت سی آنکھیں
جو اندھی ہوں
ہمیں
خریدنے ہیں بہت سے دل
جو بے حس ہوں
اور بہت سے ناک
جو سونگھنے سے عاری ہوں
ہم اس شہر میں زندہ رہنا چاہتے ہیں (باد شاہ کے شہر میں خریداری)
ایک اور مثال ملاحظہ ہو:
”دیس میں
سوئی گیس کی کمی کی بنا پہ
چولہے برف بنتے جارہے ہیں
مٹی کے تیل کو
کسی اور فیکٹری میں کام مل گیا ہے
ملاوٹ شدہ برادہ
آگ پکڑنے سے قاصر ہے“ (اچھی کوالٹی کے کوئلے)
مسعود قمر کی شاعری معاشرتی مثالیت کی بھی آئینہ دار ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت تک شاعری ارفعیت کی حدود کو مس نہیں کر سکتی جب تک کہ اس میں مثالیت کا عنصر موجود نہ ہو۔اس کے بغیر ادب ارد گرد کی تصاویر تو مرتب کر دے گا مگر اس میں فکری ارتقاء مفقود ہو جائے گا۔فرسودہ اور از کار رفتہ اداروں کی تخریب اورنئے سماج کو تعمیر کرنے کے مثالی خاکے، مسعود قمر کی شاعری میں جا بہ جا دکھائی دیتے ہیں۔غور کریں تومعاشرتی مثالیت کے بغیرشاعری تہذیب کی یا تخریب کی باتیں تو کر سکتی ہے لیکن معاشرے کے لیے مثبت اور تعمیری طاقت بننے کی صلاحیت پیدا نہیں کر سکتی۔افلاطون جیسا زیرک انسان شاعری کے اس پہلو کو نظر انداز کر گیا ورنہ وہ اپنی خیالی ریاست سے شعراء کے انخلا کی بات نہ کرتا۔مسعود قمر کی معاشرتی مثالیت فوق الفطرت دنیا کی طرف نہیں لے جاتی بلکہ عمل کے قریب تر لے جاتی ہے۔شاعر جاگیر داری عہد کی الجھنوں میں گم ہونے کے بجائے ممکن الحصول خیالات و تصورات کو اپنی تخلیقی کاوش کا حصہ بناتا ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوگا کہ انقلابِ روس سے پہلے جتنا ادب تخلیق ہواوہ معاشرتی مثالیت کا عکاس تھا لیکن اس کی بنیاد الہام یا وجدان نہیں بلکہ وہ مادی اصول تھے جو کائنات کے ارتقا کا باعث بنتے رہے ہیں۔حقیقت پسند شاعر کی مثالیت اورمابعد الطبیعیاتی شاعر کی مثالیت میں یہیں سے فرق پیدا ہوتا ہے۔حقیقت پسند شاعر کی مثالیت میں تجزیاتی (Analytical)عنصر نمایاں ہوتا ہے اور مابعد الطبیعیاتی شاعر کی تخلیق میں تکمیلی (Synthatic)عنصر ابھر کر سامنے آتا ہے۔”بارش بھرا تھیلا“ کی زیادہ تر نظمیں مذکورہ بالا رویے کی عکاس ہیں:
ہم
مشینوں کو روٹی والے پونے میں
بھوک ڈکاروں والے پیٹ پہ باندھ کر
کندھا دینے چل پڑتے ہیں
اس فنکار کی میت کو
جس کی جھولی ساری عمر خالی رہی“ (لیچی اور کچنار سے خالی درخت)
”دن بھر مزدور
میرے جسم پہ
سفیدی کرتا رہتا ہے
قحبہ خانے کی عورت
رات کا بوسیدہ میک اپ
میرے جوتوں پہ تھوپتی رہتی ہے
اخباری ہاکر کی آواز،بسوں کے ہارن
ایدھی ایمبولینس کے نغمے
لاکھوں اذانوں
اور بیوی کے کہرام کی خامشی میرے کانوں میں
ڈیرے ڈالے بیٹھی ہے
مزدور،طالبِ َعلم اور لاپتہ افراد کے ورثاء
اپنے احتجاجی کیمپوں کی میخیں
میرے ہاتھوں میں گاڑھتے رہتے ہیں“ (ماں جیسی ریاست)
مسعود قمر کا تخلیقی دماغ نہ صرف اپنے معاشرتی حالات کو معرضَ تفہیم میں لایا ہے بلکہ ایک خاص انداز میں ان کے خلاف ردِ عمل بھی ظاہرکیا ہے۔ انھیں معاشرے کی بدلتی ہوئی روایات اور ان کی مقداری اور کمیتی تبدیلیوں کا مکمل شعورہے۔یہی وجہ کہ ان کے ادبی روایت کا تصور ان شعرا سے مختلف ہے جو فرسودہ، استمراری اور مشینی انداز اپنائے ہوئے ہیں۔انھوں نے مسلسل ترقی اور ارتقا پر ایقان رکھنے کے باعث ہر دور کی ذہنی دریافتوں کے موافق اپنی نظموں میں نئی تخلیقی روایت کو دریافت کرنے کا جتن کیا ہے۔
اگر نثری نظم کے حوالے سے عمومی طور پر بات کی جائے تو اس کی مخالفت اور حق میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ جملہ مخالفتوں کے باوجود نثری نظم نے خود کو معاصر شعری منظر نامے میں منوالیا ہے۔اب ظفر اقبال، شمیم حنفی،انیس ناگی،ابوالکلام قاسمی اورڈاکٹر سلیم اختر جیسے ناقدین اس بات کے قائل ہیں کہ ہر وہ تحریرجہاں شعریت موجودہو،جو جذبے،احساس اور تخیل کو بیدار کرے،جس میں زبان کا تخلیقی استعمال ہو اور جمالیاتی ذوق کی تسکین کا باعث بنے، اُسے شاعری کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ادبی تاریخ میں یہی صورتِ حال پابند نظم کے مقابلے میں آزاد نظم کو بھی درپیش تھی جسے میرا جی،ن م راشد، فیض احمد فیض،اختر الایمان اورباقر مہدی جیسے شعرا نے معیار اور اعتبار بخشااور اب نثری نظم کو موجودہ عہد میں مبارک احمد،خورشید الاسلام، افضال احمد سید،احمد ہمیش،عذرا عباس،عباس اطہر،انجیلا ہمیش، حسین عابد، جاوید انور،نصیر احمد ناصر،علی محمد فرشی، ڈاکٹر روش ندیم،کشور ناہید،فہمیدہ ریاض،سارا شگفتہ،شاہین مفتی،انجم سلیمی،عشرت معین سیما،یاسمین حمید،بشریٰ اعجاز،غزالہ محسن رضوی،مہر زیدی اورنجمہ منصورایسے شعرا نے اسے اعتبار بخشا ہے۔مسعود قمر اسی سلسلے کی کڑی ہیں جن کی شاعری عصری حسیت،وجودی مسائل اور جدید انسان کی کربناکی،موت،تنہائی،مغائرت،دہشت،خوف اور جبرجیسے موضوعات سے صورت پذیر ہوئی ہے جنھیں پیش کرنے کے لیے کولاژ،موزیک،آزاد تلازمہ خیال،شعور کی رو،تجریدیت،علامتیت اور استعاریت کی تکنیک کا سہارا لیا گیاہے۔یوں ان کی شاعری جہاں موضوعاتی تنوع کی حامل ہے وہیں تکنیکی تنوع بھی ملتا ہے جو ان کے فنِ تخلیق پر دسترس کا منھ بولتا ثبوت ہے۔

You might also like
  1. younus khayyal says

    بہت عمدہ تنقیدی رائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلامت رہیں داکٹرصاحب !

  2. شبیر احمد قادری فیصل آباد 03006643887 says

    بہت خوب ڈاکٹر عبدالعزیز ملک صاحب ! بہت خوب ۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post