ایڈورڈ ڈبلیو سعید بحیثیت مابعد نوآبادیاتی نقاد : محمد عامر سہیل

ایڈورڈ ڈبلیو سعید( 1935ءتا2003ء) بحیثیت مابعد نوآبادیاتی نقاد :

ایڈورڈ ڈبلیو سعید بیسیوں صدی کے عظیم مفکر،ادبی نقاد،ماہر تعلیم،انقلابی دانشور اور مابعد نوآبادیاتی مطالعہ کے بنیاد گزار ہیں۔سعید کا شمار بیسویں صدی کے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنھوں نے قلم کی طاقت کو بھرپور استعمال کر کے استحصال زدہ اقوام کو انقلابی شعور دینے کی کامیاب کوشش کی۔ادب،کلچر،موسیقی،مذہب،میڈیا،سیاست اور لسانیات پر متعدد کتب کے مصنف ہیں۔سعید یروشلم کے ایک خوشحال فلسطینی عیسائی گھرانے میں یکم نومبر 1935ء میں پیدا ہوئے۔بچپن یروشلم میں گزارا۔سعید کا خاندان اینگلیکن تھا۔سعید نے بچپن کا کچھ حصہ لبنان میں گزارا۔مسلم اکثریت معاشرے میں سعید کے خاندان کی حیثیت اقلیتی تھی۔کاروباری تقاضوں کے تحت ان کا خاندان یروشلم اور قاہرہ میں آتا جاتا رہتا تھا لیکن جب 1947ء میں فلسطین تقسیم ہوا تو سعید اپنے خاندان کے ہمراہ قاہرہ منتقل ہو گیا۔ابتدائی تعلیم امریکن سکول اور وکٹوریہ کالج قاہرہ سے حاصل کی۔1950ء میں امریکا چلا گیا۔1957ء میں پرنسٹن یونی ورسٹی سے گریجوایشن کیا۔1960ء میں ہارورڈ یونی ورسٹی سے ایم اے انگریزی ادب میں کیا۔1962ء میں جوزف کانریڈ (Joseph Conrad) پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ مکمل کر کے ہارورڈ یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔1963ء میں سعید کولمبیا یونی ورسٹی نیو یارک کے شعبہ انگریزی سے منسلک ہوا،جہاں وہ تقابلی ادب پڑھاتے،1991ء میں پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوا۔1991ء سے 2003ء تک فلسطینی قومی انجمن کے ممبر رہے۔تقریبا 1991ء میں سعید کینسر جیسی موذی مرض میں مبتلا ہوا،جس کی وجہ سے 2003ء میں وفات پائی۔سعید اپنی وفات 2003ء تک مختلف یونیورسٹیوں جن میں ہارورڈ،ایسٹین فورڈ،پرنسٹن اور جان ہاپکنس میں بطور مہمان پروفیسر منسلک رہا۔
سعید نے مفکرین کے اثرات قبول کیے،ان میں ژاک لاکاں،گرامچی،جوزف کونریڈ،جین پال سارتر اور بطور مثل فوکو شامل ہیں۔سعید کو فوکو کا شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔سعید کو عالمی دانشور ہونے کے ساتھ مابعد نوآبادیاتی مطالعات کا بنیاد گزار تسلیم کیا جاتا ہے۔مابعد نوآبادیاتی مطالعات پر مشتمل ان کی درج ذیل کتب اہم ہیں۔
1. Orientalism,New York,Pantheon,1978.
2. Covering Islam 1981.
3. The World the text and the critic,London,Faber,1984.
4. Culture and Imperialism,London,Chatto and Windus,1993.
5. Nationalism,Colonialism and literature.
24 سے زائد کتب کے مصنف سعید کی سب سے اہم کتاب ” Orientalism ” ہے،جو 1978ء میں پہلی بار شایع ہوئی۔اس کا اردو ترجمہ محمد عباس نے کیا جو “شرق شناسی”کے نام سے پہلی بار 2005ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد سے شایع ہوا۔سعید نے اس کتاب کے ذریعے مابعد نوآبادیاتی مطالعات کی بنیاد کو مستحکم کیا،جو بنیاد فراتنز فینن نے The Wretched of Earth اور Black Skin-White Mask جیسی کتابوں کے ذریعے رکھی تھی۔سعید کی اس کتاب کا بنیادی تھسیس یہ ہے کہ مغربی مورخین نے مشرق کا علم حاصل کر کے مشرق کی جو تصویر پیش کی ہے وہ نسلی امتیاز اور سامراجی سوچ کے تابع ہے۔نوآبادیاتی ذہنیت سے مشرق کا مطالعہ کیا گیا اور پھر مشرق کی ” اساطیری تصویر ” بنائی گئی جو سراسر سامراجی مفاد پر منحصر ہے۔مغربی مفکرین نے مشرق کا علم حاصل کرنے کے بعد جو مفروضے قایم کیے،یعنی مشرق مغرب سے ہر زاویے سے پسماندہ ہے،مشرقی تہذیب و ثقافت کی کوئی حیثیت نہیں،مشرق کی اپنی تاریخ نہیں ہے،مشرقی ادب مغرب کی لائبریری کی ایک شیلف سے کمتر ہے،مشرقی انسان سست،کاہل،جاہل،پسماندہ،وحشی جنگلی جانور کی حیثیت رکھتا ہے۔مشرقی آدمی اس قابل نہیں کہ وہ خود پر حکومت کر سکے،اس پر حکومت کرنے اور اسے کنٹرول کرنے،مہذب بنانے،متمدن کرنے اور تمیز سکھانے کا کام مغربی آدمی کے سپرد ہے۔سعید نے مغربی مفکرین کے ان مفروضوں اور بیانات کا تجزیہ کیا،مشرق کے بارے میں مغرب نے جو مذکورہ تصورات پیدا کئے تھے،ان کا جائزہ لے کر سعید نے نتیجہ نکالا کہ یہ مفروضے سچ پر مبنی نہیں ہیں،ان مفروضوں کی حقیقت مغربی سیاست دانوں کی سیاسی چال ہے۔یعنی وہ ان مفروضوں اور بیانات کی بنیاد پر مشرق پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔سعید نے ان تمام امتیازات کا جائزہ لیا جو مستشرقین نے مغرب اور مشرق میں روا رکھ کر مغربی سامراجی مفادات حاصل کیے۔سعید نے اپنی اس کتاب میں کوشش کی ہے کہ کسی طرح مشرقی انفرادیت کی پہچان کی جائے اور یہ باور کیا جائے کہ مغرب نے مشرق کے بارے میں جو تصورات قایم کیے ہیں وہ نوآبادیاتی ذہنیت کے حامل ہیں۔ان تصورات کی بنیاد مغرب کی توسیع پسندی اور نوآبادیاتی نظام قائم کی عام حکمت عملی سے مشتق ہے۔بقول ایڈورڈ سعید:
” مشرق شناسی کے عمومی معنی یہ ہیں کہ یہ ایک انداز فکر کا نام ہے،جس کی بنیاد علم موجودات اور نظریہ علم کے مطابق اس امتیاز پر ہے جو خاص مشرق اور بسا اوقات خاص مغرب کے درمیان ہے۔” (شرق شناسی،ص 3)
مابعد نوآبادیاتی مطالعہ کے باب میں سعید کی یہ کتاب بنیادی نوعیت کی حامل ہے۔اس کتاب کی وجہ سے سعید مابعد نوآبادیاتی مطالعات کے بنیاد گزار ٹھہرے،اور یوں تنقید میں مابعد نوآبادیاتی تھیوری شامل ہوئی۔جو باقاعدہ 1980ء میں ادبی تنقیدی تھیوری کی صورت میں ادبی تنقید کا حصہ بنی۔اس کے بعد نوآبادیاتی ادب اور مابعد نوآبادیاتی عہد کے ادب کا مطالعہ ہونے لگا۔
سعید کی دوسری اہم کتاب Culture and Imperialism (1993ء) ہے۔جس کا اردو ترجمہ” ثقافت اور سامراج” کے نام سے یاسر جواد نے کیا،جو پہلی بار 2009ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد سے شایع ہوا۔اس کتاب کا بنیادی تھسیس یہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام نے ادب کو کیسے متاثر کیا،مزید براں کہ مشرقی اور مغربی ادیبوں نے جو ادب تخلیق کیا اس میں کس طرح سامراجی مفاد اور رد نوآبادیات ہے،یعنی کہاں تک نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت ہے۔سعید کی یہ کتاب مابعد نوآبادیاتی تنقید کا عملی نمونہ ہے۔سعید نے ان ادیبوں کا ذکر کیا جنھوں نے رد نوآبادیاتی رویہ اختیار کیا۔ان میں اقبال،فیض،نگوگی اور عبدالرحمن المنیف شامل ہیں۔سعید نے ان مغربی ادیبوں کی تخلیقات کا بھی جائزہ لیا جن میں نوآبادیاتی ذہنیت کام کر رہی تھی۔مثلا کونرڈ کی تخلیق کا تجزیہ کرتے ہوئے سعید کا کہنا ہے:
” کونرڈ ہمیں یہ احساس نہیں دیتا کہ وہ سامراجیت کا کوئی بھرپور انداز میں محسوس کردہ متبادل تصور کر سکتا تھا۔افریقہ،ایشیا یا امریکا کے جن دیسی لوگوں کے بات میں اس نے لکھا وہ مختاری کےلیے نااہل تھے۔”
کونرڈ نے گو سامراجیت پر تنقید کی لیکن اس کی تخلیقات سامراجیت کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہیں۔سعید نے ان دانشوروں کا مطالعہ کیا جن کی یہ سوچ تھی کہ نوآبادیوں کے مقامی لوگ صرف نوآبادیت کے مستحق ہیں،نیز استعمار کا عدن،الجیریا،ہندوستان،انڈوچائنا اور دیگر جگہوں سے واپس آنا احمقانہ عمل تھا۔لہذا ان علاقوں کو دوبارہ نوآبادیات بنایا جائے تو یہ اچھا رہے گا۔یہ وہ سامراجی سوچ ہے جس کو سعید نے اپنی پوری اس کتاب میں مختلف ادیبوں کی تخلیقات کا جائزہ لے کر پیش کیا ہے۔کونرڈ کے ناول Nostromo کا تفصیلی جائزہ پیش کیا،وہ کہتا ہے کہ اس ناول میں جوزف کونرڈ نے یہ بتایا ہے کہ زندگی کے اہم فیصلوں کا ماخذ مغرب میں ہے اور اس کے نمائندے آزاد ہیں کہ وہ تیاری دنیا کے مردہ ذہن پر جو اثر چاہیں پیدا کریں۔کونرڈ کے علاوہ سعید نے علی شریعتی اور جلال آل احمد کا جائزہ لیا،جنھوں نے ایرانی اسلامی انقلاب لایا۔کینیا کے نگوگی اور سوڈانی طیب صالح کے ناولوں کا تجزیہ کیا،جن میں نوآبادیاتی ثقافت کو پیش کیا گیا۔ان کے علاوہ ڈیرک والکوٹ،ایمی سیزر،چنیوا اچیبے،پیلونیرودا اور برائن فرائیل کی تخلیقات پر تنقیدی محاکمہ پیش کیا۔
سعید نے تقابلی بنیادوں پر مابعد نوآبادیاتی تنقید کی عملی مثالیں دیں۔ان برطانوی ناولوں کا جائزہ لیا جنھوں نے سامراجی سوچ کو پروان چڑھایا۔ان ناول نگاروں میں جین آسٹن اور ڈکنز بطور خاص شامل ہیں۔کپلنگ کے ناول Kim کا جائزہ لیا،جو 1901ء میں پہلی بار شایع ہوا۔کپلنگ کے مذکورہ ناول کے متعلق سعید کا کہنا ہے کہ یہ ناول ہندوستانیوں کو یوں پیش کرتا ہے کہ انھیں برطانوی ڈنڈا چاہیے۔کپلنگ اپنے ناول کے ذریعے کہنا چاہتا ہے کہ ہندوستانی باشندے کی فطرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے پوری نگرانی میں رکھا جائے۔آگے چل کر فاضل نقاد نے کامیو کے ناولوں کا جائزہ لیا،جنھوں نے الجیریا پر نوآبادیاتی تسلط قائم کرنے کی راہ ہموار کی۔کتاب کے نصف آخری حصے میں یٹس کی شاعری کا مابعد نوآبادیاتی مطالعہ پیش کیا۔فینن کی تحریروں کا ذکر کیا۔کتاب کا آخری باب امریکا کی سامراجیت کو سمجھنے کےلیے اہم ہے۔سعید کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم سے قبل جس طرح برطانیہ اور فرانس نے یورپی مرکزیت کو تقویت دے کر مشرق کا غلط تصور قایم کیا اسی طرح امریکا دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرق کے بارے میں تصور قایم کر رہا ہے۔سعید نے مذکورہ کتاب میں استعمار کار مصنفین اور استعمار زدہ مصنفین کی تحریروں کا مطالعہ کر کے مابعد نوآبادیاتی تنقید کی بنیاد کو مستحکم بنایا۔ان کتب کی وجہ سے سعید مابعد نوآبادیاتی تنقید کے معمار اول ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post