انگریزی تعصب کے آئینہ خانہ میں جھلکتا دلی کالج : ڈاکٹر اسدمصطفیٰ

انگریز ہندوستان سے چلے گئے مگر اپنی یادوں میں تعصب کو بھی چھوڑ گئے۔ان کے رویوں اور طرز عمل سے مسلمانوں میں بار بار یہ احساس پیدا ہوا کہ وہ جدید علوم سے بے بہرہ اور پس ماندہ کیوں ہیں۔سرسیدکی علی گڑھ تحریک دراصل اسی دروں بینی اور انفعالیت کا رد عمل تھی۔جہاں تک تعصب کی بات ہے یہ دنیا کی ہر قوم میں پایا جاتا ہے خصوصا فاتحین اور طاقتور قومیں تعصب میں کمزور قوموں پر بدرجہا فزوں ہوتی ہیں مگر انگریزوں کا تعصب تو کچھ الگ ہی چیز تھی۔انگریزوں نے ہندوستان میں نفرت وتعصب کی ایک الگ دنیا بسائی خصوصا ان کی کینٹس میں موجود رہائش گاہوں اور دفاتر کے باہر واضح طور پر لکھا ہوتا تھا کہ”Indians and Dogs are not Allowed to Enter”ہندوستان میں اپنی رعایا کے ساتھ اور برطانیہ میں انڈینز اور افریقنز نو آبادیاتی باشندوں کے ساتھ انگریزوں کے تعصب کی بے شمار مثالیں اور درد بھری کہانیاں موجود ہیں مگر ہمارا موضوع اردو زبان ہے۔ایک وقت تھا،اردو انگریزوں کی محبوب زبان تھی۔وہ اسے شوق سے سیکھتے تھے۔انہوں نے اردو کی اولین لغات اور قواعد کی کتابیں تصنیف کیں اور وہ سب کچھ کیا جو ان کی حکومت کے استحکام میں ممد و معاون ہو سکتا تھا مگر جب انہیں اس زبان کی ضرورت نہ رہی تو انہوں نے اس کے ساتھ بھی استعمال شدہ ٹشو پیپر کا سا سلوک کیا۔آج ہم دلی کالج میں اردو کے ساتھ انگریزوں کے سلوک کی ایک ایسی ہی جھلک پیش کرنے جا رہے ہیں۔
دلی کالج، انگریزوں کے قائم کردہ دوسرے مدرسوں کے مقابلے میں اس لحاظ سے ممتاز و منفرد ہے کہ یہ ایک مکمل کالج تھاجہاں تمام علوم اردو زبان میں پڑھائے جاتے تھےاورجدید علوم اور سائنس کی تعلیم کے لیے انگریزی زبان کی جگہ اردو زبان کوذریعہ تدریس قراردیا گیا تھا۔ابتدا میں یہاں انگریزی تعلیم کا شعبہ بھی نہیں تھا اورمولوی عبدالحق کے خیال میں ایک صدی پہلے اس بات کا خیال آنا کہ یہاں ذریعہ تعلیم اردو ہونا چاہیے اور اس پر عمل بھی کرنا غیر معمولی ہمت کا جرأت مندانہ قدم تھا۔
دلی کالج کو تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو 1825ء میں یہ مدرسہ غازی الدین کے نام سے قائم ہوا۔یہاں عربی اور فقہ و دینیات کی تعلیم دی جاتی تھی۔اسے نواب غازی الدین خان فیروز جنگ ثانی ،خلف نظام الملک آصف جاہ نے اپنے ذاتی سرمایہ سے قائم کیا تھا ۔۱۸۳۵ء میں مختلف قالب بدلنے کے بعد یہ دلی کالج بن گیا۔دلی کالج ایک مشترک،تہذیبی اور تعلیمی ادارہ کی حیثیت سے پروان چڑھنے لگا ۔اس کے اساتذہ،طلبا،ماحول ہر چیز میں انفرادیت تھی۔اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ذریعہ تعلیم اردو زبان تھی۔برٹش ریزیدنٹ،سرچارلس مٹکاف، کی سفارش پر ۱۸۲۸ء میں یہاں انگریزی جماعت کا اضافہ کر دیا گیا ۔کچھ متعصب انگریز شروع ہی سے،کالج کے بہترین کارناموں اور شاندار نتائج کے باجود اس کے مخالف تھے۔معین الدین شاہ اکبر ثانی اور بہادر شاہ کے عہد حکومت میں،وہ اسے پھلتے پھولتے دیکھتے رہے ۔مگر کچھ نہ کر سکے۔جنگ آزادی کے بعد جب وہ ہندوستان کے بلا شرکت غیرے مالک بن گئے تو ۱۸۷۷ء میں ایک حکم نامے کے ذریعے اسے ختم کر دیا گیا۔اردو کی جگہ انگریزی کی اہمیت کی کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ اٹھارویں صدی کے آخری عشروں اور انیسویں صدی کی ابتدا میں انگریزوں میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا تھا کہ ہندوستانی زبان اور علوم وفنون کا سیکھنا اور سکھانا ان کے لیے بے کار ہے۔ان میں ایک اہم نام الگزنڈر ڈف کا ہے ،جوعیسائیت کا بہت بڑا مبلغ تھا اور کلکتہ میں بنگالی طلبا کو انگریزی پڑھاتاتھا۔اس کا نقطہء نظر،یہ تھا کہ ہندوستان میں کمپنی کی حکومت کے استحکام کے لیے انگریزی زبان کا لازمی طور پر پڑھایا جانا بہت ضروری ہے ۔اس کا نکتہ نظر یہ تھاکہ’’انگریزی کو رائج کئے بغیر مغلوں کے اقتدار کے طلسم کو زائل نہیں کیا جا سکتا اور نہ رعایا کے دلوں کو ان کے نئے حاکموں کی جانب مائل کیا جا سکتا ہے ۔
الیگزنڈر ڈف کے ساتھ ساتھ گورنر جنرل لارڈ ولیم بنٹنک، جیمز مل،فرانسس وارڈن اور چارلس ٹریو لین اسی نقطہ نظر کے حامی تھے۔ان کی خواہش تھی کہ انگریزی کو فروغ دے کر ایک ایسا طبقہ تیار کیا جائے جوا نگریزی بولنے والا ہو اورجس کی بقا کا دارومدار بھی انگریزی حکومت پر ہو تو ان لوگوں کو حکومت اپنے مفادات اور اقتدار کے استحکام کے لیے استعمال کر سکے گی۔اسی زمانے میں لارڈ میکالے گورنرجنرل کونسل کارکن بن کرہندوستان آیا۔بقول ریاض صدیقی وہ ضدی،متعصب،عجلت پسنداور کوتاہ نظر قسم کا انگریز تھا۔ برصغیر کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی اس نے انگریزی زبان، علوم اور سائنس کی تعلیم کو اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیا اور گورنر جنرل ولیم بیٹنک کو مجبور کر دیا کہ وہ تعلیمی پالیسی میں ترمیم کریں۔گورنر جنرل نے میکالے کی سفارشات پر ۱۸۳۵ء میں ایک حکم نامے کے ذریعے تمام تعلیمی اداروں کو یورپیین لٹریچر اور سائنس کی تعلیم کے لیے انگریزی زبان کے استعمال کی ہدایات جاری کردیں۔بٹینک نے مشرقی علوم کو مہیا کئے جانے والے تمام وظائف بھی بند کر دئیےاور تعلیمی اداروں کو حکم دیا کہ تمام سرکاری رقم صرف انگریزی زبان وادب کی ترویج و اشاعت پر صرف کی جائے۔
گورنر جنرل لارڈ ولیم بنٹنک نے ۷ اگست ۱۸۳۵ء کو میکالے کی تجاویزایک قرارداد کے ذریعے منظور کیں،جس کے مندرجات یہ تھے کہ”گورنر جنرل کا خیال ہے کہ برطانوی حکومت کا سب سے بڑا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہندوستان کے مقامی لوگوں میں انگریزی ،یورپی ادب اور سائنس کی ترویج کے لیے کام کر ے اور تعلیم کے مقصد کے لیے مہیا کئے جانے والے تمام فنڈزصرف انگریزی تعلیم پر خرچ کئے جائیں۔اسی طرح حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ مشرقی علوم کی کتابوں کی طباعت پر کثیر سرمایہ صرف کیا جا رہا ہے ۔حکومت یہ حکم دیتی ہے کہ فنڈز کا کوئی حصہ آئندہ اس مقصد کے لیے خرچ نہ ہو ۔حکومت یہ بھی حکم دیتی ہے کہ اس تبدیلی کے نتیجے میں کمیٹی کے پاس جو بھی اضافی فنڈز آئیں انہیں انگریزی زبان وادب کی ترویج وترقی کے لیے خرچ کیاجائے۔”یہ تمام تجاویز اور ان پر جاری ہونے والی ہدایات واحکامات تعصب و تنگ نظری پر مبنی تھے۔انگریزوں کا ہندوستان کے لوگوں سے تعصب لارڈ میکالے کے آنے سے پہلے بھی تھا لیکن اپنی پیش کردہ سفارشات اور اہل مشرق کے متعلق اپنے افکار ونظریات کی بدولت وہ تعصب اور تنگ نظری کی نمایاں ترین علامت بن گیا۔اس نے عربی ،سنسکرت،اردو اور دوسری ہندوستانی زبانوں کو اس بنیاد پر بے کار قرار دیا کہ ان میں ادبی یا سائنسی معلومات نہیں ہیں اورمغربی ادب اپنے معیار کے اعتبار سے مشرقی ادب پر بالا تر ہے چنانچہ جو لو گ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وسائل رکھتے ہیں ان کی ذہنی ترقی کے لیے انگریزی سیکھنا لازمی ہے۔وہ لکھتا ہے ۔”I have never found one among them who could deny that a single shelf of a good european library was worth the whole native literature of India and Arabia”
میکالے کا خیال یہ تھا کہ انہیں(انگریزوں کو) ایک ایسی قوم کو پڑھانا ہےجنہیں ان کی مادری زبان میں تعلیم نہیں دی جا سکتی اور چونکہ انگریزی زبان کے علوم اور اس کا ادب ساری دنیا سے بہتر ہے اس لیے اس مقصد کے لیے یہی زبان سب سے بہتر ہے ۔وہ اس بات کا امکان بھی ظاہر کرتا ہے کہ آئندہ مشرق میں تجارت کی زبان بھی یہی انگریزی ہو گی۔وہ کہتا ہے کہ کیا ہم عوام کی رقم سے انہیں ایسی تعلیم دیں گے جسے پڑھ کر انگلستان کے طلبا قہقہے لگائیں۔انہیں ایسی تاریخ پڑھائیں جس میں تیس فٹ کے لمبے بادشاہ تیس ہزار سال تک حکومت کرتے ہوں اور کیا انہیں ایسا جغرافیہ پڑھائیں گے جس میں گنے کے رس اور مکھن کے سمندروں کا ذکر ہو۔پھر وہ انگلستان کی مثال دیتا ہے کہ پندرہویں ،سولہویں صدی میں اگر ان کے آبا واجداد قدیم یونانی اور رومی علوم کی متروکہ کتابیں چھاپتے اورانہیں یونیورسٹیوں میں شامل نصاب کر کے ان کی تدریس جاری رکھتے تو کیا انگلستان اتنا ہی ترقی یافتہ ہوتا جتنا اب ہے۔وہ مستشرقین کی اس دلیل کے جواب میں کہ ہندوستانی عوام کے اعتماد اور تعاون کے حصول کے لیے ہندوستانی زبانوں کی تعلیم جاری رکھنا ضروری سمجھتا ہے ،وہ کہتا ہے کہ ہم بحیثیت حکمران وہ ہندوستانیوں کا اعتماد جیتنے کے لیے نہیں بیٹھے اور مزید یہ کہ ہندوستانیوں کی ذہنی صحت کی قیمت پر ان کے ذوق کا مشورہ قبول کرنا انتہائی برا ہوگا۔اپنے بہت سے دلائل کے بعدوہ کہتا ہے کہ حکومت کو ہندستانیوں کا ایسا طبقہ تیار کرنا چاہیے جو حکومت اور رعایا کے درمیان پل کا کام دے سکے۔وہ لکھتا ہے۔
“We must at presant do our best to form a class who may be interpreters between us and the millions whom we govern,a class of person,Indian in blood and colour,but English in taste,in openions,in morals,and in intellect,to that class we may leave it to refine the vernacular dialects to the country,to enrich these dilects with terms of science borrowed from the western nomeenclature,and to render them by degrees fit vehicles for conveying knowledge ti the great mass of the population”
اس کے بعد وہ کلکتہ مدرسہ،سنسکرت کالج اور محمدن کالج دہلی کو ختم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے اور عربی اور سنسکرت کی کتابوں کی طباعت پر فوری پابندی کا مطالبہ کرتا ہے ۔لارڈ میکالے کے اس رویے اور طرزعمل کے ردعمل کا جائزہ لیتے ہوئے ریاض صدیقی لکھتے ہیں :۔
’’میکالے کا رویہ اور گورنر جنرل کی ہدایات بھی دہلی کالج کے اساتذہ اور انگریز عہدیداروں کا متاثر نہ کر سکیں۔اردو زبان کے ذریعے سائنس اور جدید علوم کی تعلیم کوبدستور جاری رکھا گیا۔البتہ مشرقی شعبے کے طلبا کو دیے جانے والے تمام وظائف بند کر دیے گئے۔میکالے کو نہ تو مقامی حالات کا اندازہ تھا اور نہ اس حقیقت کا علم کہ بعض انگریز عہدیدار اور علما خود اردو زبان کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ہندؤوں اور مسلمانوں کے بااثر طبقے نے میکالے کے خلاف سخت احتجاج کیا ۔دوسری جانب دہلی کالج کے انگریز اساتذہ اور بعض انگریز عہدیدار بھی میکالے کی مخالفت پر کمر بستہ تھے۔گورنر جنرل کونسل کا رکن پرنسپ بھی اس اختلاف میں شریک تھا۔گورنر جنرل کونسل میں تعلیمی کمیٹی کا صدرشیکسپئر تو اس معاملے میں اتنا جذباتی ہو گیا کہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر انتظامیہ سے علیحدہ ہوگیا۔گورنر جنرل آکلینڈ(Lord Aucland)نے صورت حال کی نزاکت کو بھانپ لیا اور حالات کے دباؤسے مجبور ہو کر۱۸۳۵ء کی میکالے تجاویز میں ترمیم وتنسیخ کے بعد۲۴ نومبر ۱۸۳۹ء میں ایک حکم نامے کے ذریعے مشرقی طرز کی تعلیم کو جاری رکھنے کی اجازت دے دی اور مشرقی علوم کے شعبوں میں تعلیم پانے والوں کے لیے محدود پیمانے پر وظائف کی فراہمی کا اقرار بھی کر لیا۔تاریخ کے ایک اہم موڑ پر دہلی کالج کا وجود اوراس کا اردوذریعہ تعلیم،اردو زبان کے فروغ میں نمایاں اثرات کا حامل ہے لیکن اس کےساتھ دہلی کالج انگریزی تعصب کی بدترین علامت بھی کہا جا سکتا ہے۔ایک ایسا تعصب جو انہوں نے اس زبان کے خلاف برتا،جس کے بقول مولوی عبد الحق وہ گاڈ فادر تھے،اور جس سے ان کے اکابرین نے محبت بھی کی تھی۔مگر جب انہوں دیکھا کہ اس زبان کی مزید ترقی ان کے اپنے اقتدار کے لیے کچھ فائدہ مند نہیں ہےتو انہوں نے نہ صرف اس کی سرپرستی چھوڑ دی بلکہ اس کے مقابلے میں انگریزی کو پروموٹ کرنا شروع کر دیا۔اپنی من بھاتا زبان کے ساتھ انگریز حکمرانوں کا یہ سلوک انہیں سمجھنے کے لیے بہت سے در وا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post