اقبال کی نعت اور چند مفقود پہلو : ڈاکٹرطارق ہاشمی

اردو شاعری کے منظرنامے پر اقبال اپنی فکروفرہنگ اور اسلوب و آہنگ ہر اعتبار سے ایک مختلف سخن کار کے طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کے کلام میں جہاں بہت سی خصوصیات ایسی ہی ہیں جو اردو کی پوری شعری روایت میں نظر نہیں آتیں وہاں بعض ایسے اوصاف سے خود ان کی شاعری گریز کرتی ہوئی نظر آتی ہے جو اردو شعرا کو بہت محبوب رہیں۔
اقبال کے کلام میں مدحِ رسول کا پہلو دیکھا جائے تو شعر کا نفسِ مضمون اور آہنگ دونوں کے باطن یہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تعریف خدا کے رسول ایسی عظیم ہستی کی ہے۔ اس رفیع الدرجات فرد کی مدح ہے جس کی ذات کی عظمت کائناتِ ہست و بود کو محیط ہے۔ جس طرح ان کی مجموعی شاعری اردو کی شعری روایت کے بعض رجحانات سے گریزاں ہے، ان کی نعت کی بھی یہی صورت ہے کہ وہ اردو نعت گو شعرا کے بہت سے پسندیدہ موضوعات و اسالیب کو اختیار کرتے دکھائی نہیں دیتے ہیں اور ان کی نعت میں ایسے بہت سے عناصر مفقود دکھائی دیتے ہیں جو دیگر نعت گویاں کے ہاں مرغوب ہیں۔
غور کیا جائے تو اس سلسلے میں درج ذیل نکات لائق ِ لحاظ ہیں:
1۔ اقبال کی نعت میں پہلا عنصر خود صنفِ نعت ہے جس سے انھوں نے گریز کیا۔ ان کے تمام تر کلام میں عشق ِ رسول سے سرشاری بھی ہے اور اوصافِ نبی کی مدح بھی۔ لیکن نعت بہ طور صنفِ نعت نظر نہیں آتی۔ گویا انھوں نے نعت کو بہ لحاظِ پیکر نہیں بلکہ بہ طور روح قبول کیا۔
2۔ اقبال کی نعت میں ملوکیت سے وابستہ الفاظ سے واضح گریز ملتا ہے۔ خصوصا ً شاہ، سردار یا سرکار ایسے الفاظ ان کے نعتیہ اشعار میں دکھائی نہیں دیتے۔ فارسی اشعار میں سلطان یا آقا کے لفظ بعض مقامات پر ضرور استعمال ہوئے ہیں لیکن وہاں بھی ان کی معنویت کو ملوکیت کے تصور سے نتھی نہیں ہونے دیا۔
اقبال نے مذکورہ الفاظ کے بجائے ، دانا، مولا ، ختم الرسل، دیدۂ بینا ، رسولِ مختار، پیغمبر یا پیمبر ایسے بلند معنی الفاظ کا استعمال کیا ہے۔
3۔ اقبال کی نعت میں تعظیمی بیانیے کے سلسلے میں بھی وہ تصورات یا رسومات مفقود ہیں جو ہماری مقبولِ عام نعت میں موجود ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اردو کے بیشتر نعت گو شعرا نے رسول کی عظمت و تکریم کی بابت سیرتِ رسول یا سیرتِ صحابہ پر توجہ کی زحمت بہت کم کی ہے اور تعظیم کی ان رسومات کی تصویر زیادہ کھینچی ہے جو انھیں اپنے معاصر ماحول میں رائج نظر آتی ہیں۔ وہ اس پہلو کو فراموش کردیتے ہیں کہ رسول نے تعظیم کی ان رسومات کو پسند نہیں فرمایا جو عرب سرداروں کو مرغوب تھیں۔ اب اس امر کا کیا جائے کہ ” سلطانی و ملّائی و پیری ” کے اس ماحول میں تعظیم کی وہ تمام تر رسومات سماج کے ساتھ ساتھ نعت میں بھی رواج پا گئ ہیں جن کا قلع قمع کرنا رسولِ کریم کے مقاصد ِجہد میں شامل تھا ۔
5۔ اردو کی نعتیہ شاعری میں رسولِ کریم کے اوصاف حمیدہ کے ذکر سے زیادہ شعرا اپنی حالتِ زار کا زیادہ کرتے ہیں اور اس سلسلے میں مضامین ِ فراق کی بھی کثرت نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس اقبال کے ہاں ذاتی گریہ کے بجائے اُمّت کے آلام اور اجتماعی مسائل کا بیان زیادہ ملتا ہے۔
6۔ اقبال کی نعت میں رسول کے سراپا جمالِ ظاہری کا ذکر مفقود نظر آتا ہے۔
7۔ اس امر میں کیا شک ہے کہ انبیاء کرام اللہ کی محبوب ترین ہستیاں ہیں لیکن یہ امرِ حیرت اور افسوس کا پہلو ہے کہ بعض اردو نعت گو شعرا کے ہاں محبوب کے اس تصور کو رومانی احساسات سے جوڑ دیا گیا ہے اور کہیں کہیں تو داستان طرازی مبالغے کی حد تک ہے۔
اقبال کی نعت میں رومانی احساسات سے وابستہ اس نوع کے تصورات کا ذکر قطعی طور پر کہیں نہیں ملتا۔
اقبال کے کلام پر کسی بھی فورم پہ گفتگو ہوتی ہے تو دو موضوعات زیادہ تر زیرِ بحث آتے ہیں۔ ایک ”تصور ِ خودی ” اور دوسرا ”عشقِ رسول” ۔ اقبال کے خودی کے تصور سے جس طرح ” استفادہ ” کیا گیا ہے، اس کے تناظر میں ہماری سماجی اور قومی صورتحال کا نقشہ سب کے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ اقبال کی شاعری میں عشقِ رسول کا ذکر کرتے ہوئے ہمارے اہلِ دانش اقبال کی نعت میں مفقود مذکورہ پہلوؤں اور اس کی وجوہ پر کتنا غور کرتے ہیں؟

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post