ادبی تھیوری اور رولاں بارت …بنیادی معروضات : محمد عامر سہیل

ادبی و تنقیدی نظریات کی مغربی تاریخ میں جن تصورات نے چونکا دیا اور تفہیم،تعبیر اور تجزیے کے نئے زاویوں سے روشناس کروایا ان میں اکثر تصورات انتہا پسندی کا شکار ہوئے۔آج ان نظریات پہ جو انفرادی یا اجتماعی اعتراض ہے وہ ان کی انتہا پسندی ہے۔یہاں انتہا پسندی سے مراد متن (بالخصوص ادبی) کی تفہیم،تعبیر اور تجزیہ یا اس کے معانی تک رسائی حاصل کرنے کےلیے ایک نظریے/تصور/راستے/زاویے/جہت کو آخر قراد دینا یا زیادہ قابل قبول تسلیم کرنا ہے۔جدیدیت ہو یا مابعدجدیدیت یہ دونوں ” مجموعہ ہائے نظریات ” Gruops of theories ہیں۔ان میں موجود تفہیم،تعبیر اور تجزیے کے تمام نظریے،انفرادی طور پر ایک سطح پر جا کر انتہا پسندی کا شکار ہو کر دیگر تصور نقد کو گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔ تاہم ان سب میں ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ انھوں نے ادب کو پڑھنے، سمجھنے اور سمجھانے کے حربوں سے ادبی تنقید کو وسعت بخشی۔تاہم ان تمام تنقیدی تصورات میں توازن کی مثال رولاں بارت کے تنقیدی نظریات ہیں۔یہ بات تسلیم ہے کہ بارت اپنے تصورات میں ارتقائی صورت میں رہے ہیں،اب جب ہم ان کے مجموعی تصور نقد کو دیکھیں تو ہمیں وہ مغربی تنقید کی روایت میں ایک متوازن نقاد کی حیثیت سے نظر آتے ہیں۔غور کریں، مغربی تنقید کی روایت ‘مصنف’ سے ‘متن’ اور متن سے ‘قاری’ کی طرف مراجعت کرتی نظر آتی ہے۔یہاں ایک بار پھر اعادہ کرنا ناگزیر ہے کہ مصنف،متن اور قاری پر توجہ دینے میں تنقید نے ان پر الگ الگ زور دیا ہے۔یعنی ادب کی تفہیم میں پہلے مصنف کو مرکز مانا ہے،پھر متن کو اس کے بعد قاری کو مرکزی حیثیت سے نوازا گیا۔تنقید کے یہ تینوں زاویے جبریت اور انتہا پسندی میں چلے گئے۔ہر ایک نے دوسرے زاویے کی نفی کی اور خود کو تنقید کا کلی زاویہ متصور کر لیا۔یہی وجہ ہے کہ مغربی تنقید کی روایت میں نئے نظریات کا اپنے سے پہلے نظریے کی مخالفت/تردید/ترمیم/اضافے پر وجود میں آنا ہے۔تاہم اس سارے سلسلے میں رولاں بارت واحد نقاد نظر آتے ہیں جنھوں نے مصنف،متن اور قاری تینوں کو مرکزی حیثیت میں لا کر ان کے درجے مقرر کیے ہیں۔بارت نے ان تینوں میں سے ہر ایک کو دو درجوں میں تقسیم کر کے ایک کو دوسرے پر اولیت دی ہے۔ان کا سرسری جائزہ لیا جاتا ہے،جس کی نوعیت تشریحی ہو گی۔

1:۔۔مصنف:

بارت نے مصنف کو دو میں تقسیم کیا ہے۔اول..(Ecrivain) وہ مصنف جو ادب برائے ادب کا قائل ہے۔اور ادب کو قایم بالذات تصور کرتا ہے۔اس کے نزدیک ادب کسی پیغام کا محض ذریعہ نہیں ہے۔یہ مصنف ادب کی ادبیت کو کسی صورت ہاتھ سے نہیں جانا دیتا۔ایسا مصنف بارت کے نزدیک “مصنف” کہلانے کا حق دار ہے۔
دوم…(Ecrivant) وہ مصنف جو ادب برائے زندگی کا قائل ہے۔جو ادب کو محض پیغام (معانی) کی ترسیل کا ذریعہ سمجھتا ہے۔اس کے ہاں ادب کی ادبیت ثانوی مسئلہ ہے۔اصل چیز پیغام کا قاری تک پہنچانا ہے۔بارت اسے مصنف نہیں “محرر” کہتا ہے۔مزید کہیں تو ایسا مصنف ایک ڈاکیا ہے تخلیق کار نہیں۔

2:..متن:

بارت متن کو اسی طرح دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جیسے اس نے مصنف کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ اول۔۔(Writerly) وہ متن جو ادبیت سے مالا مال ہے۔کسی پیغام کی ترسیل کی زد سے آزاد ہے۔ایسا متن بارت کے نزدیک “متن Text ” کہلانے کا حق دار ہے۔یہ متن قاری کو لطف اندوز کرتا ہے اور تخلیقیت سے بھرپور ہوتا ہے۔
دوم:۔۔(Readerly) وہ متن ہے جو بغیر کسی لطف یا مسرت حاصل کیے پڑھ جاتا ہے،دراصل ایسا متن کسی تخلیقی منہاج کا حامل ہی نہیں ہوتا۔یہ متن پیغام دینے تک محدود ہوتا ہے۔بہ غور دیکھیں تو اس میں قصور وار مصنف ہے جس نے متن میں تخلیقیت کو اہم نہیں دی۔

3:۔۔قاری:

بارت کے نزدیک قرات کا عمل بھی دو درجوں میں تقسیم ہے۔ ظاہر ہے قرات اس وقت وجود میں آئے گی جب متن اور قاری آمنے سامنے آئیں گے۔یہاں قاری اہم ہے اور قرات کا مکمل انحصار قاری پر ہے۔پس قاری کی بھی دو اقسام ہیں۔
اول۔۔ (Jouissance) وہ قاری جو متن Text کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہےاور اس سے بقول وزیر آغا غایت و انبساط (لطف اندوزی کی معراج) حاصل کرتا ہے۔اس کےلیے یاد رہے قاری کا مطالعہ،علم تربیت اور جمالیاتی ذوق جس قدر زیادہ ہوگا وہ زیادہ لطف حاصل کر سکتا ہے۔یہ بات بھی قابل گور ہے کہنہر قاری کا جمالیاتی ذوق ایک جیسا نہیں اور ہر وقت بھی ایک قاری کا ذوق ایک جیسا نہیں رہتا۔بارت کے نزدیک ایسا قاری متن کی قرات کرتے ہوئے اسی طرح تخلیقی مراحل سے گزرتا ہے جس سے تخلیق کار گزرا تھا یوں قاری تخلیق کار کا منصب حاصل کر لیتا ہے۔
دوم۔۔(plaisir) ایسا قاری جو متن Text سے بقول وزیر آغا عام لذت کشید کر پاتا ہے یا کر سکتا ہے۔اس میں بھی قاری کی کم فہمی شامل ہے۔اس کی جمالیاتی حس اس قدر مضبوط نہیں ہے کہ وہ متن کے مطالعہ سے لطف اندوزی حاصل کر سکے۔
رولاں بارت نے مذکورہ درجوں میں مصنف،متن اور قاری کی پہلی قسم کو اعلی اور برتر قرار دیا ہے اس کے مقابلے میں دوسرے کو کم درجہ کا حامل قرار دیا ہے۔

ہماری رائے میں ‘متن’ کا کم درجہ ہونا متن پر نہیں مصنف پر منحصر ہے۔اسی طرح قاری کا کم درجہ ہونا مصنف اور متن دونوں پر منحصر ہے۔اس میں صرف قاری سزاوار نہیں۔ ہاں قاری کا مطالعہ، ذوق جمال اور قرات کا تجربہ ضرور اہم ہے لیکن یہ مصنف اور متن کا بھی مسئلہ ہے کہ جنھوں نے قاری تک یوں پیغام بھیجا ہے جو ادب کی ادبیت اور تخلیقیت سے عاری ہے۔

یوں ہم دیکھتے ہیں بارت کسی انتہا پسندی کا شکار نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے پوری مغربی تنقیدی روایت کو نتیجہ خیز مراحل تک پہنچا کر کسی ایک پر انحصار کرنے کے بجائے تنقید کو مصنف،متن اور قاری تینوں تک پھیلا دیا ہے۔بارت کے مذکورہ تین زاویوں پر پھیلے تصورات کے مضمرات سے آگاہی بھی ضروری ہے۔جو ایک مفصل مقالہ کی متقاضی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post