آبروئے غزل ۔۔۔ خمارؔ بارہ بنکوی : اختر جمال عثمانی

خمارؔ بارہ بنکوی کے قریب بیٹھنے اور انکا کلام سن نے کی سعادت خاکسار کیلئے خوش نصیبی کی بات رہی ہے۔ زیادہ خوش نصیب اور مقرب وہ لوگ سمجھے جانے چاہئے جنہوں نے خمار صاحب کی زبان سے ایسے الفاظ بھی سنے ہیں جن کے بارے میں جاسوسی ادب کے مشہور مصنف ابنِ صفی کا قول ہے کہ وہ اگر پتھر پر رکھ دئے جائیںتو پتھرریزہ ریزہ ہو جائے۔ہم اہلِ بارہ بنکی کو اس بات پر بجا طور پر فخر ہے کہ ساری دنیا میں جہاں جہاں اردو سے محبت کرنے والے لوگ ہیں وہاں وہاں بارہ بنکی کانام خمارؔ صاحب کی معرفت پہونچا ہے۔ خمار بارہ بنکوی کا اصل نام محمد حیدرخاں تھا۔ ان کی پیدائیش 15 ستمبر 1919 کو صوبہ اودھ کے بارہ بنکی شہرمیں ہوئی ۔ اس دور کے مطابق اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ انٹر میڈیٹ کے درجے میں پہونچے ہی تھے کہ بقول ان کے ایک ’ لطیف حادثے ‘سے دو چار ہو گئے۔ یہیں سے تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور شعر گوئی کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اگر چہ ان کے ہم عصروں نے احتراماََ اس ’ لطیف حادثے کی تفصیلات کے ذکر سے گریز کیا ہے ،لیکن غالب امکان ہے کہ یہ حادثہ عشق کا رہا ہو گا۔
اب کچھ ان کے خاندان کے ادبی پسِ منظر کے بارے میں جس میں ان کی شخصیت پروان چڑھی تھی۔ ذاخر ؔ لکھنوی لکھنئو کے مشہور و معروف خاندان اجتہاد کے ایک منفرد اور ممتاز مرثیہ گو شاعر تھے۔ اردو کے علاوہ انہیں عربی اور فارسی زبان پر بھی قدرت تھی۔اگرچہ دیگر اصناف کو ترجیح نہ دیکر انہوں نے مر ثیہ گوئی کو موضوع سخن بنایا تھا لیکن ان کا اردو شعراء کے اساتذہ میں اہم مقام تھا۔ا ن کے شاگردوں میں علی حیدر قرارؔ بارہ بنکوی بھی شامل تھے۔قرارؔ بارہ بنکوی کے برادر خورد اور شاگرد بھی غلام حیدربہارؔ بار ہ بنکوی تھے ۔ انہیں بہارؔ بارہ بنکوی کے فرزند محمد حیدر خمار بارہ بنکوی اور کاظم حیدر نگارؔ بارہ بنکوی تھے۔عم محترم کی خمارؔ کی تربیت پر پوری توجہ اور خمار صاحب کے شاعری کی طرف فطری رجحان نے اپنا اثر دکھایا اور خمارؔ صاحب فن شاعری کی باریکیوں سے جلد ہی واقف ہو گئے۔ قرار صاحب قدیم اور استادانہ رنگ میں اشعار کہتے تھے۔ اس دور کے مشاہیر شعراء ان کے پاس آتے رہتے تھے۔ ان آنے والوں میں جگرؔ مراد آبادی بھی شامل تھے، وہ جگر صاحب سے بہت متاثر ہوئے۔ 1945 میں قرار بارہ بنکوی صاحب کا انتقال ہو گیا۔1946 میں خمار صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ’ حدیثِ دیگراں‘ کے نام سے شائع ہواجس کے دیباچے میں وہ اپنی شاعری کے متعلق رقم طراز ہیں۔
’’ یوں تو تقریباََ پندرہ سولہ برس کی عمر سے شعر موزوں کرنے لگا تھا، لیکن شعر کیا ہے؟ شعر کے مطالبات کیا ہیں؟ ان تمام باتوں کا علم اس وقت ہواجب زندگی کی خوشگوار تلخیوں سے واسطہ پڑا۔ جملہ اصنافِ سخن کا تجزیہ کرنے پر میں نے اپنے جذبات اور محسوسات کے اظہار کے لئے صنفِ غزل کو سب سے زیادہ موزوں اور مناسب پایا۔چنانچہ تین نظموں کے علاوہ جو کچھ بھی لکھا غزلوں کی شکل میں لکھا۔ ابتدا میں کچھ دنوں تک اپنا کلام عمِ مرحوم قرارؔ بارہ بنکوی کو دکھایا لیکن بعد میں اپنے ذوقِ سلیم کو اپنا مصلح بنایا۔‘‘
خمارؔ صاحب نے کم عمری میں ہی مشاعروں میں پڑھنا شروع کر دیا تھا پہلے مشاعرے میں پڑھا جانے والا مطلع تھا۔
واقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سے
اس راز کو پوچھو کسی برباد نظر سے
اس طرح 1940 میں جب کہ خمار کی عمر تقریباََ 21برس تھی اور ان کی شاعری میں کافی حد تک پختگی آ چکی تھی۔ اور مشاعروں میں کافی مقبولیت بھی حاصل ہوتی جا رہی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب حسرتؔ موہانی، فانیؔ بدائیونی،ثاقب لکھنوی، عزیزؔ لکھنوی، سیمابؔ اکبر آبادی اور جگرؔ مراد آبادی جیسے کلاسیکل غزل کے بڑے شعراء موجود تھے۔ بعد میں شکیلؔ بدائیونی، شعریؔ بھوپالی، انورؔ مرزاپوری اور فنا ؔنظامی بھی ان میں شامل ہو گئے۔ اتنی سخت مسابقت اور نا مساعد حالات میں خمارؔ صاحب کا اپنی جگہ بنا پا نا ایک معجزہ سا لگتا ہے۔ در اصل مشاعروں میں چوتھی دہائی سے ہی ترنم اور آہنگ پر زور دیا جاناشروع ہو گیا تھا۔ جگر صاحب بھی اپنے والہانہ کلام اور والہانہ طرز ترنم کی وجہ سے مشاعروں پر چھائے ہوئے تھے۔ اسی دوران ترقی پسند تحریک کا غلغلہ بلند ہوا اور بہت اچھی غزل کہنے والے شعرا جیسے مخدومؔ محی الدین ، فیض احمد فیضؔ اور مجازؔ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اور غزل کو بے وقت کی راگنی تک کا جانے لگا۔ اس دور کے متعلق خمار صاحب کے الفاظ ہیں۔
کوئی اے خمارؔ ان کو مرے شعر نذر کر دے
جو مخالفین مخلص نہیں معترف غزل کے
’’ وقت گزرتا گیا غزل کے محا فظین ایک ایک کر اللہ کو پیارے ہو گئے اور غزل پر برا وقت آگیا لیکن ساتھ ہی ساتھ ترقی پسند تحریک کا زور بھی گھٹ گیا اور غزل کے مخالفین خود غزل کہنے لگے۔‘‘
خمارؔ بارہ بنکوی کی غزلیں موسیقیت اور آہنگ سے بھر پور ہیں ۔ زیادہ تر غزلیں مترنم بحروں میں کہی گئیں ہیں۔ ان کی لگاتار بڑھ تی مقبولیت کی یہ بھی ایک وجہ تھی ۔ وہ مشاعروں پر چھا جاتے تھے ان کے پڑھے گئے اشعار عوام اور خواص کو زبان زد ہو جاتے تھے۔ اور گلیوں بازاروں میں سنائی دینے لگتے تھے۔ان کی شاعری سہل ممتنع کی مثال ہے۔، زبان کی نفاست اور سادہ بیانی کی بھی۔
کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوئوں میں ڈھل کے
وہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کے
یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پائے نازک
نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے
یہ چراغِ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں
تو جلا وہ شمع اے دل جو بجھے کبھی نہ جل کے
٭
حال دل ان سے کہہ چکے سو بار
اب بھی کہنے کی بات باقی ہے
٭
محبت میں کسی سے مل کے چھٹ جانا بس ایسا ہے
کہ جیسے نزع کی جاںکاہیوں کو جاوداں کر لیں
٭
خمارؔ ان کے گھر جا رہے ہو تو جاو
مگر راستے میں زمانہ پڑے گا
اپنی غزل کی شاعری کے متعلق خود ان کی رائے ہے ’’ جب تک انسان ہنسنا اور رونا جانتا ہے اس وقت تک کلاسیکی غزل بھی زندہ رہے گی۔ میں نے اس کے حسن و جمال میں کوئی اضافہ تو نہیں کیا مگر اس پر آشوب دور میں اس کے خد و خال کی آب و تاب کم نہیں ہونے دی۔‘‘ غزل کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک درد مند دل بھی رکھتے تھے اسکا ثبوت ان کے تقسیم ملک کے دوران 1947 میں اور اسکے بعد بھی ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے مواقع پر کہے گئے ان کے اشعار ہیں۔
وقت نے انگڑائی لی ہے آج کل
چشمِ ساغر میں نمی ہے آج کل
کاش لفظوں میں بھی ہو سکتا بیاں
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے آج کل
زندگی کا ذکر کیا اس دور میں
موت بھی سہمی ہوئی ہے آج کل
٭
تاریخ کے اوراق پہ لکھا ہے لہو سے
انسانوں کو انسان سے اللہ بچائے
٭
چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے
٭
اور انکا یہ شعر تو موجودہ حالات کے تناظر میں کہا گیا محسوس ہوتا ہے۔
نسبت تو چمن سے رکھتے ہیں ارباابِ چمن پر بار سہی
پھلوں کو مبارک رعنائی ہم خار اگر ہیں خار سہی
خمارؔ بارہ بنکوی کی توجہ یوں تو مشاعروں پر مرکوز تھی لیکن انہوں نے فلمی دنیا سے بھی گریز نہیں کیا غالباََ 1942-43 میں انھیں مشہور ہدایت کار کاردار نے اپنی فلم میں گیت لکھنے کا کام سونپا۔ انھوں نے کئی فلموں میں نغمے لکھے اور ایک کامیاب نغمہ نگار ثابت ہوئے ’’ اے دلِ بے قرار جھوم، تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی، بھلا نہیں دینا جی بھلا نہیں دینا، جیسے گیت آج تک گنگنائے جاتے ہیں۔ فلمی دنیا میں جانے کی وجہ سے انکی شہرت اور مقبولیت میں تو اضافہ ہوا لیکن ان کی ادبی حیثیت کو اس کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بین الاقوامی شہرت کے باوجود فلمی شاعر سمجھ کر نقادوں نے ان کو نظر انداز کیا اور ان کے کلام کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔حالانکہ ان کے کلام کا ادبی اور فنی جائزہ لئے جانے کی ضرورت ہے جس سے ادب میں ان کے صحیح مقام کا تعین ہو سکے۔
خمار ؔ بارہ بنکوی کی خدمات کے اعتراف میں انھیں کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔جیسے اتر پردیش اردو اکادمی، اردو سینٹر کینیا، اکادمی نوائے میر عثمانیہ یونی ورسٹی حیدر آباد،ملٹی کلچرل سینٹر کناڈا،ادبی سنگم نیو یارک سے انہیں معتدد اعزاز ملے۔ 1992 میں دبئی میں اور 1993 میں ان کے وطن بارہ بنکی میں جشنِ خمار کا احتمام کیا گیا۔پروفیسر ملک زادہ منظور صاحب کا جن کو بے شمار مشاعروں میں خمار بارہ بنکوی کو دعوتِ سخں دینے کی سعادت حاصل رہی ہے، کہنا ہے ’’ خمار صاحب کم و بیش نصف صدی سے مشاعروں کا جزو لا ینفک رہے ہیں۔ ان کے کلام کی سادگی۔ ان کے پڑھنے کا انداز اور ان کا مخصوص ترنم اپنے اندر دلوں کو فتح کر لینے کا سامان رکھتا ہے مگر ان سب پر ان کا حسن اخلاق، چھوٹوں پر ان کی شفقت اور بڑوں کا احترام سب سے زیادہ کشش کا سبب بنتا ہے‘‘
خمار صاحب کشادہ قلب، نیک دل اور دوست انسان تھے۔ قلندرانہ مزاج رکھتے تھے جسکا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ باوجود فلمی دنیا سے وابستہ ہونے، نصف صدی سے زیادہ ہندوستان اور ساری دنیا میں مشاعروں کے بے تاج بادشاہ سمجھے جانے اور عوامی طور پر آبروئے غزل کے خطاب سے سرفراز ہونے کے باوجود ساری عمر کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں گذار دی۔ عمر کا بیشتر حصہ رندی اور سرمستی میں گذارنے کے بعد آخر میں تائب ہوئے۔ عمرے کا شرف بھی حاصل کیا۔ تغزل سے شروع ہوا سفر تقدس پر تمام ہوا۔
گذر ا شباب دل کو لگانے کے دن گئے
جشن ِ نیاز و ناز منانے کے دن گئے
خوفِ خدا نے پائوں میں زنجیر ڈال دی
کوئے بتاں میں ٹھوکریں کھانے کے دن گئے
آخر میں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئے ، ایک سال کی طویل علالت کا دور کافی تکلیف دہ رہا۔ لکھنئو میڈیکل کالج میں داخل ہونے کے بعد 19 فروری1999 کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ویسے تو خمار صاحب کی غزلوں کی مقبولیت ان کی حیات میں ہی نقطئہ عروج تک پہونچ گئی تھی۔ جو کہ آج تک قائم ہے، ان کے بے شمار اشعار لوگوں کو یاد ہیں اور آج انٹرنیٹ کے دور میں انکے اشعار نوجوان نسل کے محبت کے پیغامات کا اہم حصہ ہیں۔ انکے مجموعے حدیثِ دیگراں، رقصِ مے، آتشِ تر موجود ہیں ، ان کے علاوہ انکے فرزند زادے فیضؔ خمار جو کہ خمار صاحب کے انداز اور ترنم میں کلام سناتے ہیں اور خمار صاحب کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ خمارؔ بارہ بنکوی صاحب کو ان کی غزلوں کے حوالے سے عرصئہ دراز تک یاد رکھا جائیگا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post