’’آوے کا آوا بِگڑا ہُوا نہیں ہے‘‘۔محمود شام کے زرّیں خیالات۔۔۔ ایک تاثر : ڈاکٹرشبیر احمد قادری

محمود شام ( پیدایش ٥ فروری ١٩٤٠ ٕ) وطنِ عزیز پاکستان کے حد درجہ معتبر اور سینیر صحافی، شاعر اور نثّار ہیں،تاریخ کے ساتھ جغرافیے کی اہمیت واِفادیت کو بھی خوب سمجھتے ہیں اور ان کا بلند پایہ اور ارفع مطالعہ اور مشاہدہ رکھتے ہیں ،” قندیل”، “نواۓ وقت” ،” مساوات”، “معیار”،” جنگ” ،” اخبارِ جہاں”، اور اے۔آر۔واٸ کے مدیر یا نماییندے کی حیثیت سے گراں قدر خدمات انجام دے چکے ہیں، دُنیا گُھوم چکے ہیں،٢٠ کتابوں کے مصنّف ہیں ،
محمود شام اِن دِنوں کراچی سے شایع ہونے والے ماہنامہ” اَطراف” کی اِدارتِ اعلیٰ کے منصبِ جلیلہ پر فایز ہیں،اِسے وہ” اِنتہاٶں میں رابطہ” Bridgingextremes کے طور پر دیکھتے ہیں ،یہ اُن کا دعویٰ نہیں اوراقِ ” اَطراف “کی ترتیب،اِشاعت اور پیشکش کے سبھی قرینے اِس کی تصدیق کرتے ہیں،اِداریہ جِسے انھوں نے “اَطرافیہ” کا خوبصورت اور نیا نام دیا ہے،اُن کی ٤٥ برسوں کی ریاضت و مزاولت کا اِظہاریہ ہوتا ہے۔تازہ شمارے کے ” اَطرافیہ” میں اُنھوں نے ایک اہم قومی مُعاملے کی جانب توجہ مبذول کراٸ ہے،وہ مُعاملہ مبالغے کا ہے،جس کا بدقسمتی سے ہم میں سے بیش تر لوگ کسی نہ کسی حد تک شکار ہو چکے ہیں یا ہمیں ایسا بنا دیا گیا ہے۔
محمود شام شاعر بھی ہیں اور ظاہر ہے شاعری کا سکّہ بغیر مبالغے کےادب کی منڈی میں نہیں چلتا مگر یہاں مبالغہ آراٸ کے اس رُخ کی بات ہو رہی ہے جو مُلک و قوم کے طاقچوں میں جلنے والے چراغوں کی لو کو دُھندلا دیتا ہے ،یا وہ جِھلملا کر رہ جاتے ہیں ،آیے پہلے محمود شام کے ” اَطرفیہ” بعنوان:” آوے کا آوا بگڑا ہُوا نہیں ہے ” کے اہم بُنیادی نِکات ملاحظہ ہوں:
* چند برس سے خاص طور پر دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہمارے سیاستدان،میڈیا اینکر پرسن،عام سیاسی کارکن حتٰی کہ عدلیہ کے فاضل چیف جسٹس صاحبان بھی عمومی بیانات دیتے ہیں جنہیں انگریزی میں Sweeping Statement کہا جاتا ہے.جس میں پُورے کے پُورے پاکستان کو، حکومت کے کسی شعبے کو،یونیورسٹیوں کو،دینی مدارس کو،صنعت کاروں کو سب کو بلا تخصیص کسی ایک اِلزام میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔مثلاً پوری قوم ہی بے ایمان ہو گیی ہے۔وزارتِ تجارت پوری نااہل ہے۔پاکستانی سارے غیر ذمہ دار ہو گیے۔۔۔کراچی شہر بوند بوند کو ترس گیا ہے”،
* شاعروں میں بھی مبالغہ آراٸ کی عادت رہی ہے۔اُن کے اشعار بھی یہ اہلِ بیان اپنی تقویت کے لیے استعمال کرتے ہیں
تن ہمہ داغدار شد پنبہ کجا کجا بہم
*ہمارے مضمون نگار بھی اکثر یہی جملہ دُہراتے ہیں،ہماری تاریخ ناکامیوں اور بد عنوانیوں سے بھر ہوٸ ہے۔72 سال سے اِس ملک میں یہ ہو رہا ہے یا 72 سال میں پہلی بار کسی نے ذمّہ داری کا اِحساس کیا ہے۔ہم بُھول جاتے کہ اِن 72 سال میں قایدِ اعظم کا دورہ بھی شامل ہے۔خان لیاقت علی خان کا بھی۔اور بہت سے بے لوث بانیانِ پاکستان کا بھی”،
* فوج کو بھی ایک ہی سانس میں ساری کی ساری کو آمرانہ مزاج کا اِلزام دے دیا جاتا ہے”،
* سارے سیاستدانوں کو کرپٹ کہہ دیا جاتا ہے”۔
ہمیں محمود شام صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اُنھوں نے بحیثیت محبِ وطن پاکستانی کے ایک بہت حسّاس معاملے کی جانب توجہ مبذول کراٸ ہے یعنی ” آوے کا آواز بگڑا ہوا نہیں ہے” ۔یہ اِس لیے ہے کہ ہم تخصیص کے بجاۓ تعمیمی انداز اپنانے کے عادی ہو چکے ہیں۔کسی ایک محکمے یا اِدارے کا ایک فرد کسی غلطی کا اِرتکاب کرے تو پورے محکمے کو زدوکوب کرنا شروع کر دیا جاتا ہے۔غلط فرد یا افراد ہو سکتے ہیں محکمہ یا اِدارہ نہیں ،سو یہ معاملہ ہمارے مجموعی مزاج اور نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔محمود شام نے اِس کی جو بُنیادی وجہ بتاٸ ہے وہ یہ کہ “کسی کے پاس تصدیق شدہ اعدادوشمار نہیں ہیں یا اِس کے لیے تحقیق کی زحمت نہیں کی گیی۔متعلقہ رپورٹیں۔اعدادوشمار تلاش نہیں کیے گیے۔مِل گیے ہیں تو اُن کو جاننے کے لیے وقت نہیں نکالا”۔
بات تو شام صاحب کی دُرست ہے کہ جب تصدیق شدہ اعدادوشمار نہیں ہوں گےیا ان تک رساٸ کی کوشش ہی نہیں کی جاۓ گی تو بات انداز اور اندازوں پر منحصر ہو گی،مبالغے سے کام لیا جاۓ گا ،حامد کی پگڑی محمود بلکہ سب کے سروں پر زبردستی پہنانے کی کوشش کی جاۓ گی اور ظاہر ہے یہ غیر پسندیدہ عمل کہلاۓ گا۔دینِ اِسلام ہمیں حُکم دیتا ہے کہ ہم بات دوسروں تک پہنچانے سے پہلے لازماً تصدیق کر لیا کریں ،مگر تحقیق کی زحمت کرے کون! ،کس کے پاس اِتنا وقت ہے۔ آپ اِس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ کریں کہ تحقیق کا مضمون بھی نژادِ نو کو پہلی بار اُس وقت پڑھایا جاتا ہے جب اُسے “مقالہ نگاری” کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔سو ہماری اکثریت تحقیق کو اپنی زندگیوں میں اِضافی شے خیال کرتی ہے یا اسے ثانوی درجہ دیتی ہے،یہ کام ہم نے مغرب والوں پر چھوڑ دیا اور خود ” یُوزر “بن کر رہنا اپنے لیے اِعزاز خیال کر لیا ہے ۔ بحیثیت قوم ہم کیوں گرمیِ محفلِ تحقیق سے محروم ہیں!،کیوں چراغِ راہ اور سنگِ میل کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں! ایسی زمین میں مبالغے کی پیداواری صلاحیت بہت بڑھ جاتی ہے ،غموں اور پریشانیوں کی ماری ہوٸ قوم منتظر ہے کہ اسے حقیقیتِ حال سے آگاہ کیا جاۓ۔سنسنی پھیلانے سے اِجتناب کیا جاۓ۔ساری قوم،سارے محکموں،سارے شعبوں کو غلط قرار دیا جاۓ گا تو یہ مایوسی کی دُھند کو مزید گہرا کرنے والی بات ہے،اس کا فایدہ اٹھا کر بد عُنوان لوگ نِیویں نِیویں ہو کر نکل بھاگتے ہیں،وہ چمن جسے بزرگوں نے اپنے جگر کا خون دے کر اُسے سر سبز و شاداب رکھا ہے ، اسے چند عاقبت نا اندیشوں اور خزاں رُتوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔بعض لوگ اپنی رنگیں بیانی سے حقایق کو یوں مسخ کر دیتے ہیں کہ سننے پڑھنے والا اسے سچ مان لیتا ہے،محمود شام نے ” اَطرافیہ” میں اسی اہم نکتے کی طرف توجّہ مبذول کراٸ ہے ” یہ دَور اسپیشلایزیشن کا دَور ہے ڈاکٹر جب بھی بیمار کا علاج کرتے ہیں تو کتنے ٹیسٹ کراتے ہیں،پِھر سرجری کرتے ہیں۔بیمار کو شروع میں ہی جواب نہیں دیتے ہیں۔یہ عمومی بیانات چاہے حکمران دیں،اپوزیشن یا عدلیہ کے فاضل جج ،ان سے ایسے لگتا ہے کہ آپ مریض کو جواب دے رہے ہیں،آپ علاج کرنا ہی نہیں چاہتے۔پُوری قوم کو آپ نا اہل۔بد عنوان قرار دے دیتے ہیں۔ایسا قطعی نہیں ہے،پُوری پاکستانی قوم،پُورا پنجاب،پُورا سندھ،پورا خیبر پختون خوا،پُورا بلوچستان،پُورا آزاد جموں و کشمیر،پُورا گِلگت بلتستان خراب نہیں۔عُمومی بیان کے اِس انداز کو ہمیں ترک کرنا ہو گا،تحقیق کی جاۓ،تصدیق کی جاۓ پھر جو صحیح صورتِ حال ہو وہ بیان کی جاۓ۔میڈیا کو سب سے زیادہ ذمّہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔اپنی ہی قوم کی کِردار کُشی سے توبہ کرنا ہو گی۔”
یہ لمحہ فکریہ ہے۔محمود شام صاحب کی راۓ سے صد فی صد اتفاق لازم ہے۔شب گزیدہ سحر کا زہر قوم کے کانوں میں بہت اُنڈیلا جا چکا ،اب خندہ صبح کی بات بھی ہونی چاہییے، فصلِ خزاں کا ذکر ضروری ہے تو فصلِ بہار میں اُودے اُودے،نیلے نیلے ،پیلے پیلے پیرہن زیبِ تن کیے مہک دار پھولوں کا ذکر بھی ہونا چاہیے۔ تصدیق شدہ اعدادو شمار سے صَرفِ نظر کرنا گویا ملک و قوم کے مثبت اورقابلِ فخر کردار کو مسخ کرنے اور اپنے پاٶ ں پر آپ کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post