کُچھ کھٹی میٹھی یادیں (۲۹)


نیلما ناہید درانی
جب تک آنکھیں زندہ ہیں ۔
میری کتاب کی کتابت اردو بازار میں ہو رہی تھی۔۔۔جسے پی ٹی وی کا ایک کاتب کر رھا تھا۔۔۔شام کو اس کی پروف ریڈنگ ھوتی۔۔۔۔خدا خدا کر کے کتابت کا مرحلہ ختم ھوا۔۔۔تو اشاعت کا مرحلہ آیا۔۔۔شرکت پریس کے منہاج صاحب روزنامہ کوہستان میں رہ چکے تھے۔۔۔وہ مجھے جانتے تھے۔۔۔۔ان کے پاس مسودہ لے کر گئی۔۔۔۔
ان دنوں کتاب کم از کم ایک ہزار چھپتی تھی۔۔۔۔ایک ہزار کتاب پر 8000 لاگت آ رہی تھی۔۔۔آغا امیر حسین کو مسودہ دکھایا ۔۔۔انھوں نے اسی وقت 4000 روپےدے کر کہا کہ پبلشر کے طور پر ان کا نام لکھ کر 500 کتابیں ان کو دے دی جائیں۔۔۔
جب پلیٹیں تیار ہو کر پرنٹ ہونے لگیں۔۔۔تو منہاج صاحب کے داماد اور بھتیجے زبیر صاحب نے کہا۔۔۔یہ نہیں چھپ سکتی۔۔۔۔اس میں گستاخی والا مواد ہے۔۔۔
اسے تو ستر حوریں ملیں گی
میں تنہا رہ جاوں گی
اللہ تیری اس جنت میں
میں تو کبھی نہ جاوں گی
لیکن منہاج صاحب نے چھاپنے کی اجازت دے دی۔۔۔۔
کتاب چھپ گئی۔۔۔یہ میرے لیے ایک بہت بڑی خوشی اور کامیابی تھی۔۔۔
۔جس کو میں نے کسی شاعر سے اصلاح لیے بغیر واصف علی واصف کے کہنے پر شائع کروایا تھا۔۔۔۔
کتاب کا نام “جب تک آنکھیں زندہ ہیں “تھا ۔۔۔
انتساب ” حنا کے نام “تھا
بہت ادھار ہے سر پر حساب کر دوں گی
تمہاری یاد کو اب اک کتاب کر دوں گی
تمہارا روپ سنواروں گی اپنے لفظوں سے
تمہارے نام کو میں انتساب کر دوں گی
اس کتاب کے فلیپ۔۔امجد اسلام امجد۔۔۔منو بھائی اور حمید اختر نے لکھے تھے
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر سردار تھے۔۔۔۔
وہ میری کارکردگی جانچنے کے لیے۔۔۔اکثر میرے دفتر کے باھر کھڑے ھو کر ۔۔۔۔امیدواروں سے سوالات کرتے۔۔۔
میں نے ان کو کتاب پیش کی تو انھوں نے دیکھتے ھی کہا۔۔۔۔میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ھوں۔۔۔۔ہم مریض کو اس وقت ڈیڈ ڈیکلیئر کرتے ھیں۔۔۔جب اس کی آنکھیں مرتی ہیں۔۔۔آپ نے بڑا سائنٹیفک نام رکھا ہے۔۔۔
کتاب کی رونمائی کا مرحلہ آیا۔۔۔تو آغا امیر حسین نے مشورہ دیا کہ ایک بروشر شائع کریں۔۔۔جس میں مختلف اداروں اور کمپنیز سے اشتہاردیے جائیں۔۔۔اس سے کتاب کی لاگت بھی وصول ھو جائے گی اور تقریب کے اخراجات بھی۔۔۔۔یہ اشتہارات دلوانے میں بھی انھوں نے بہت تعاون کیا۔۔۔
فلیٹیز ھوٹل میں تقریب رونمائی کا اھتمام کیا گیا۔۔۔۔صدارت اشفاق احمد۔۔مہمان خصوصی بانو قدسیہ۔اور وفاقی وزیر اطلاعات چوھدری شجاعت حسین تھے۔۔۔۔مضامین امجد اسلام امجد۔۔اظہر جاوید اور نظامت دلدار پرویز بھٹی کی تھی۔۔۔
جن گلوکاروں نے میری غزلیں گائیں۔۔وہ حامد علی خان، اقبال باھو، اظہر حمید اور راحیلہ حبیب تھیں۔۔۔
فلیٹیز ھوٹل کا وسیع ھال کچھا کچھ بھرا ھوا تھا۔۔۔جتنے لوگ بیٹھے تھے ان سے زیادہ کھڑے تھے۔۔۔پی ٹی وی لاھور کے چیف کیمرہ مین نصیر ملک اپنی بیگم شازیہ کے ساتھ موجود تھے۔۔۔صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔۔۔سامعین میں اوول کے ھیرو فضل محمود بیٹھے تھے۔۔۔سب انسپکٹر فرناز ملک اور شاھدہ بھٹی ان کے ساتھ بیٹھی تھیں۔۔۔۔
امی۔۔میں اور ڈیڈی ” حنا ” کو یاد کرکے رو رہے تھے۔۔۔۔شاید یہ کسی کتاب کی واحد تقریب رونمائی تھی ۔۔۔جس میں شاعر نے اپنا کلام نہیں سنایا تھا۔۔۔۔۔پاکستان کے واحد ٹی وی چینل نے بھرپور کوریج دی تھی۔۔۔۔یہ لاھور شہر میں کتاب کی پزیرائی کی ایسی شاندار تقریب تھی۔۔۔جو اپنی مثال آپ تھی۔۔۔اس کی گونج مختلف اخبارات میں تا دیر سنائی اور دکھائی دیتی رھی۔۔۔
اشفاق احمد نے تقریب میں جو مضمون پڑھا تھا۔۔۔۔وہ ان کی ایک کتاب میں شامل ہے ۔۔۔جو سنگ میل پبلیشرز نے شائع کی تھی۔۔۔۔اس کے چند جملے پیش ہیں۔۔۔
” اس لڑکی کی نظمیں پڑھ کر،سن کر اور دیکھ کر خوشی بھی ھوتی ھے۔۔اور خوف بھی آتا ہے۔۔۔کہ آخر اس کے ارادے کیا ھیں۔۔؟ ھر ھر شعر میں ایک نیا تجربہ اور ھر ھر سطر میں۔ایک انوکھا سخن ہے۔۔۔اتنی چھوٹی عمر میں سخن کے دارو کا ایسا اھتمام کرنا اور اسے اس آسانی سے عام کر دینا۔۔۔میری دانست کے احاطے میں تو کہیں نظر نہیں آتا۔۔۔یہاں سے دور کسی نے ایسا کیا ھو تو معلوم نہیں۔۔۔”
                                                                                                (جاری ہے)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post