وبا اور روایتی زندگی کی طرف سفر : سیدہ ہُماشیرازی

 

وبا سے انسانی زندگی یکسر بدل کر رہ گئی ہے یہ بدلاؤ محض ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ اس کُرہءعرض پر رہنے والے تمام انسان ہی اس میں شامل ہیں انسانی زندگی میں اس طرح کا بھونچال بہت عرصہ کے بعد آیا ہے وہ بھی اُس لمحے جب انسان جدید دور اور اس میں ہونے والی ایجادات اوردیگرسہولیات سے لطف اندوز ہو رہا تھا کسی کے وہم و گمان میں بھی ایسے حالات کا ہونا نہیں تھا آج وبا کا واحد حل سماجی تنہائی ہے جو کہ آج کے سماج کے لیے ایک مشکل عمل ہے جبکہ وبا ہے کہ جس کا دورانیہ بڑھتا ہی جارہا ہے
کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ انسان کی اس مشینی زندگی میں یہ وقفہ کس قدر اہم ہے آج کے دور کے انسان کو وبا کے ذریعے اس بات کا ادراک ضرور ہوا ہے کہ حقیقی طور پر اس کی زندگی کی ترجیحات کیا ہیں اور کیا ہونی چاہئے
موجودہ حالات کے پیشِ نظر انسان نہ چاہتے ہوئے بھی روایتی زندگی گزارنے پر مجبور ہے مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ جب امی نے اپنے ماضی کی یادوں کو ھمارے ساتھ تازہ کرتے ہوئے ہمیں اس دور کی زندگی کی خوبصورتی کے بارے میں آگاہ کیا جو کہ ھمارے مطابق آج کے دور میں بدصورتی سمجھی جاتی ہے
امی نے جب یہ بتایا کہ ہمارے کپڑے ہمارے ابو یا بھائی لاتے تھے جو کہ سب بہنوں کے ایک جیسے ہوتے تھے اس لمحےمجھے ایسے محسوس ہوا جیسے کوئی بہت پرانی کہانی سن رہی ہوں جس کا حقیقت کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور ہمیشہ کی طرح میں نے اپنی بے چینی سے مجبور هو کر یہ سوال پوچھنے میں دیر نہ کی کہ ایسے کیسے ہوسکتا ہے امی؟ کیا آپ سب اپنی مرضی سے کپڑے بھی نہیں پہن سکتی تھیں؟ مطلب یہ کیسا جبر ہوا؟ اس پر ہمیشہ کی طرح روایتی مسکراہٹ کے ساتھ امی نے جواب دیا ۔۔۔
جبر نہیں محبت ہے پاگل۔۔ ہماری پسند بھی وہی ہوتی جو ابو اور بھائی ہمارے لیے لے آتے تھے مجھے لگتا کہ امی روایتی عورتوں والی باتیں کر رہی ہیں اور مجھے کبھی بھی اس بات کا یقین نہ آتا۔۔۔ ایسے کیسے پسند مل سکتی ہے اور وہ بھی کپڑوں کے معاملے میں شاید میں اپنی بے وقوفانہ زندگی سے تقابل کی وجہ سے بھی یہ بات سچ ماننے سے انکار کر دیتی کیونکہ آج ہم دس دس برانڈ کی دوکانوں کے چکر لگانے کے بعد بھی جو سوٹ خریدے وہ تین دن بعد ناپسندیدگی والی لسٹ میں اول نمبر پر ہوتا ہے اور ایک جیسے پرنٹ لینے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور پھر کیا تھا کہ حالات نے کروٹ لی اور جدید زندگی نے روایتی زندگی کی طرف سفر کرنا شروع کر دیا یہ سفر بہت سارے انسانوں کی طرح میرے لیے بھی ناقابل قبول تھا لیکن ہمیشہ کی طرح حالات کے سامنے بے بس نظر آنے والا بےچارا انسان اور کر بھی کیا سکتا ہے
آج جب کرونا عروج پر ہے زندگی سے اعتبار اٹھ چکا ہے عافیت صرف گھر تک محدود رہنے میں ہی چھپی ہے ایسے میں ضرورتوں کو پورا کرنے کے طوراطوار بھی بدل گئے ہیں ۔
آج جب گھر میں پہننے والی چپل جس کی ضرورت پچھلے دو ہفتے سے محسوس کر رہی تھی لیکن عادت سے مجبور تھی کہ کیسے خریدی جائے حالات کا تقاضا یہ نہیں تھا کہ خود نکلا جائے بھائی کو یہ سب پتا چلنے پر اگلے دن میرے لئے جوتی آگئی ۔۔
جو مجھے پہلی بار میں ہی پسند آگئی میرے لیے یہ سب صورتحال عجیب تھی زندگی میں پہلی بار ایسے ہو رہا تھا۔
وہ چپل جس کی خریداری میں شاید میرا ایک پورا دن نکل جاتا اور کبھی کبھی تو پورے شہر کی جوتیاں بھی اس قابل محسوس نہیں ہوتی تھیں کہ پہنی جائیں آج ایک ہی نظر میں کیسے پسند آگئی ایسے کیسے پسند مل سکتی ہے؟ یہ کیا ماجرا تھا ؟میں سمجھنے سے قاصر تھی آج مجھے میرے سوالوں کے جواب ملے تھے جوتی پہننے کے بعد جب جوتی پر نظر جاتی بھائی کا پیار سے لانا آنکھوں کے سامنے آجاتا
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ پچھلی نسل کے لوگ اتنے پرسکون کیوں تھے؟ ان کی زندگی میں پریشانیوں کی تعداد کم کیوں تھی؟ ان کے ہاں موذی امراض جنم کیوں نہیں لیتی تھیں؟ اتنے زیادہ بچے ہونے کے باوجود خوشحال کیوں تھے؟ اور پھر خود ہی چلا اُٹھی کیونکہ ان کی زندگی برانڈ کے چکروں سے پاک تھی یہ دکھاوے کےعذاب سے محفوظ تھے ۔۔
انکے اصل مسیحا ان کے پیارے تھے ان کا کل سرمایہ پیسے کی بجائے ان کے خونی رشتے تھے۔۔۔اور پھر میں بے ساختہ ان لوگوں کی زندگی پر رشک کرنے لگی۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post