غزل ۔۔۔ شاعر: عابد خورشید


ڈاکٹرعابد خورشید
اُٹھا !یہ بوجھ یہاں سے جہان خالی کر
وہ کہہ رہا ہے کہ میرا مکان خالی کر
کسی بھی سمت سے اُترے نہیں کوئی احکام
پہاڑ    چھوڑ    ،    دہکتی چٹان خالی کر
یہ    شاملات میں آیا    ہوا    اثاثہ نہیں
سجا کے بیٹھا ہے خود کو دُکان خالی    کر
کسی نے پڑھنی ہے پھر مری سانس کی تسبیح
بھرے ہوئے ہیں مرے جسم و جان خالی کر
تجھے بھی ڈر ہے کہ مسند نہ چھین لے کوئی
یہاں سے ہل    ، یہ فلک کی مچان خالی کر
سّموں کو روک لے، ریکھا سے پھیر پیچھے قدم
لگا    ہوا ہے جہاں تک    نشان ، خالی کر !

You might also like
  1. Dr Shabbir Ahmad Qadri says

    waah , kia kehnay Dr Abid Khursheed sb ,waah.

Cancel Reply

Leave Your Comments for this Post