غزل : شاہد ماکلی

اور اب عجیب ہی کایا پلٹ ہے پیکر میں جو لہر دل میں رواں تھی، وہ آ گئی سر میں کہیں نہ رُوح کی شِکنوں کا ہی تسلسُل…