آئینہ : تابندہ سراج

اس کے ریشمی لمبے سنہری بال ہوا میں تیر رہے تھے۔ نیلی آنکھوں کی چمک پورے منظر کو جگمگائے ہوئے تھی۔سرخ و سفید…

غزل : یونس متین

سب رویے بدلتے جاتے ہیں لوگ زندہ ہیں مرتے جاتے ہیں یہ مشینیں نہیں بلائیں ہیں شہر سارے اُجڑتے جاتے ہیں اپنے…