غزل : نویدظفرکیانی

یورشِ شب ہے غضبناک تو حل اور سہی تو نہ بجھ جائے تو پھر ایک مشعل اور سہی ظلمتِ شب تو ضمیروں میں اُتر آتی ہے…

غزل : اقتدار جاوید

لیے پھرتا ہے یہ آزار اپنے راستے کا فقط پانی ہے واقف کار اپنے راستے کا میں دیکھے جا رہا ہوں ساری چیزوں کو دوبارہ…

ماسک : فریدہ غلام محمد

میں دیکھ رہا تھاکہ وہ نم آنکھوں کے ساتھ میری جانب جھکے ۔ میں نے آنکھیں موند لیں۔میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا…