غزل

          خالدعلیم کاندھوں سے اُترکرباپ کے وہ، پہلومیں کھڑے ہوجاتے ہیں جب بچے بولنے لگ جائیں ، خاموش بڑے ہو

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں نہیں

شکیب جلالی

از يوسف خالد شکیب جلالی----------------ذہنی افلاس اور تخلیقی و فکری انحطاط کی زد پر آیا ہوا معاشرہ لا تعداد…

تاوان ( نثری نظم )

از نجمہ منصور میں نے اپنی آنکھیںاپنے ہاتھ اور اپنی سوچیںجس دن سے اس کے پاس گروی رکھی ہیںاس دن سے وہ لا پتہ

ایک نثری نظم

از : یونس خیال اس بار ساون میں مرے کچے مکان کی دیواریں زمین بوس ہوگئیں ان کی مٹی گھل گئی اور چھت کے تنکے پانی

بڑے میاں

افسانہ : سلمیٰ جیلانی انسانوں کی کہانیاں ہر وقت ہواؤں میں تیرتی پھرتی ہیں یہ ان کی روحوں کی طرح