ہمارے درمیان نوعی دیوار تھی : ڈاکٹر جواز جعفری

وہ خاک سے اٹی پیشانی
میرے روبرو تھی
جس کے کنارے
رات کے اولین لمحوں میں
پورا چاند طلوع ہوتا تھا
اس روشن پیشانی کے نام
میں نے اپنے حصے کا بوسہ تسطیر کیا
تو میرے لہو میں
دم توڑتے چراغ پھڑپھڑانے لگے
چاند کی روپہلی چاندنی میں
میں نے اپنے ہمعصروں کے نام
موت کا سندیسہ لکھا
غذائی سیڑھی کا سب سے بلند زینہ
میرے پاؤں میں آ گرا
میرے ہمعصر
میرے روبرو
خاک پہ پیشانیاں رگڑنے لگے
ان سجدہ ریزوں میں
آگ بھی شامل تھی !
میں نے
دہکتے شعلوں سے آتشیں جام بنایا
اور اپنی رگوں میں انڈیل لیا
میرا سویا ہوا خون
جسم میں انگڑائیاں لینے لگا
موت
مجھے حیرت سے دیکھتی رہ گئی
آنکھ کی گرہ میں پڑے
خوابوں کے ریزے جوڑ کر
میں نے آئینہ ایجاد کیا
اور اس عشق پیشہ عورت کی سبز آنکھوں سے
مکالمہ کرنے لگا
مکالمہ
جو نطق سے عاری تھا
زمین کے آخری کناروں تک پھیلے
سیاہ جنگل کے پانچویں کونے میں بیٹھ کر
میں نے اپنی شناخت کا چلہ کاٹا
تو تغیر کی زد پہ پڑے میرے جسم پر
انسانی خدوخال رینگنے لگے !
چیت کی اولین شام میں
شاہ بلوط کے مقدس سائے میں
میں نے
اس رسیلی عورت کے ہونٹوں کا شہد چکھا
اور سرسوں کے کھیت کے کنارے
اپنے حصے کا بچھونا
ایجاد کرنے لگا
ہمارے درمیان
ایک دیوار تھی
آسمان تک پھیلی نوعی دیوار
میں نے اس سرسبز جسم سے اٹھتی خوشبو کو
اپنے وجود پر مل لیا
اور چاندنی رات کے تیسرے پہر
آسمانی دیوار کے لیے
محبت کا روزن ایجاد کرنے لگا !

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post