“گزرتے ہوئے سال کا نوحہ” : نواز انبالوی

سوچا اس سال کے جاتے جاتے
سال بھر کے جذبوں اور احساسات کو
حریری شال پہناتا چلوں
کہ نئے سال کا جب مقدر پھوٹے گا تو
پرانے جذبوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے
نیا جذبہ ہانکا جائے گا
نئی صورتِ احساس جنم لے گی…..
…… سوچتا ہوں
جاتے جاتے سال بھر کے دکھوں کو
اکٹھا کر کے….. مرگ کا ہار پہناتا جاؤں
نئے سال نئے دکھ ہونگے….
نیا سلسلہ ہوگا…….
…… سوچتا ہوں
پرانے سال کی خوشیوں سے معاہدہ کر لوں
اگر نئے سال کی خوشیاں کم نکلی تو
پرانے سال کی خوشیاں واپس لے لوں گا
……سوچتا ہوں
اس سال کے جاتے جاتے
جستہ جستہ گزرتے سال پہ ایک نظم لکھ لوں
سند کے لیے…..
جس میں ہر اک لمحہ نقل کر سکوں
جیسے سال کے آغاز سے ہی محلق وبا کی شورش
گلیوں، چوکوں اور چوراہوں پہ سیناٹائزر کا چڑھاوا
انسانوں کے جسم پہ پلاسٹک نما لباس
گھر میں قید ہوئے… قیدیوں کے نوحے
ہر صبح کا نیا پیغام
رہا ہونے کی صورتیں اور تدبیریں بھی…….
……. سوچتا ہوں
وبائے امراض کے دنوں میں
بھوک سے بلکنے والوں کا بھی نوحہ لکھوں
راشن تقسیم کے وقت قطاروں کا منظر اور
سرکاری سطح پر مچنے والی ہلبلی کے نتائج سمیٹوں
……. سوچتا ہوں
وینٹیلیٹرز پہ موت سے لڑنے والے کی کیفیت بھی لکھوں
مردہ جسموں کے” چھونا حرام” کو نظم میں گہری سرخی دوں
…… سوچتا ہوں
انسانوں کے ساتھ ساتھ
حیوانوں کے جذباتی خیالات کو اور
قدرت کے بدلتے جغرافیائی پہلو کو لکھنا فرض جانوں
……. میں خود پہ لازم سمجھ رہا ہوں
ہر داستان کو درج کرنا
لکھتے لکھتے کہیں کسی کردار کی داستاں چھوٹ نہ جائے
کسی کے جذبات مبہم نہ ہوں
کسی کا نوحہ ان سنا نہ رہ جائے…….
…….. سوچتا ہوں
ہر خوشی
ہر رنج.. تکلیف….فرط….. رویے…….
نظم کو سونپتا چلا جاؤں…
تا کہ سند رہ سکے……

 

You might also like
  1. گمنام says

    V nice

  2. Awais Inam says

    Bhot umda

  3. گمنام says

    بہت خوب

  4. گمنام says

    کیا کہنے بہت اعلیٰ

  5. دلاور حسین دلاور says

    عمدہ دوست

  6. Dr. Masham says

    I want to sponsor your work

  7. Dr. Masham says

    Do contact me

Reply To گمنام
Cancel Reply

Leave Your Comments for this Post