وبا کے دن : آصف خان

تحریر کر رہا ہوں وبا کے دِنوں کا حال
لیکن قلم اُداس ہے، الفاظ پُر ملال
سَن دو ہزار بیس کے تھے اِبتدائی دِن
مہمان بن کے آیا “کورونا” بُلائے بِن
پہلے پہل تباہ کِیا اُس نے چائنہ
پھر اس کے بعد رخ کیا سوئے “اطالیہ”
پھر ہِند بچ سکا نہ ہی یورپ، اَمیرکا
لاشیں بِچھاتا ہی چلا جس ملک بھی رُکا
چین و عرب، امیرکا، یورپ سے لڑ پڑا
دنیا کو مات دے کے ہماری طرف بڑھا
پنجابیوں، بلوچیوں کو مارنے لگا
بچ پاتے اس کے قہر سے سندھی پٹھان کیا
اُس وقت سارے خوف زدہ اِس لیے ہوئے
پھرتا گلی گلی تھا وہ وحشت لیے ہوئے
مشکل تھا فرق کرنا سِیاہ و سفید میں
جانا پڑا عوام کو پھر طِبّی قید میں
سب کاروبار، دَفتر و بازار و مَدرِسے
سب “ریل، ایر پوٹ” بھی دنیا کے بند تھے
ویران ہو گئے سبھی میدان کھیل کے
شیدہ اُداس تھے سبھی “جو روٹ، گیل” کے
ویران مسجِدیں ہوئیں اور بند بُت کَدے
اپنے گھروں میں لوگ جَبیں ٹیکنے لگے
گھر میں دبک کے بیٹھے تھے انسان صاحبو!
گلیوں میں دندناتے تھے حیوان صاحبو!
اک سمت مالدار تھے من مستیوں میں مست
اک سمت تھا ہجومِ پریشان و تنگ دست
ٹوٹی پڑی تھی پاک وطن پر قیامتیں
چہروں پہ تھی تھکن تو لبوں پر شِکایتیں
اِلزام کچھ نے اس کا بھی تبلیغ پر دَھرا
کچھ نے کہا ہماری خطاؤں کا ہے صِلہ
کچھ کی نظر میں صاحِبو دوشی تھا اِصفہان
کچھ نے سعودیہ پہ لگا کر چُھڑائی جان
کچھ باشعور بولے نہ عزت اچھالیے
دستار ایک دوسرے کی مت اچھالیے
ساعت مباحثوں میں نہ برباد کیجیے
سب عاجزی سے نالہ و فریاد کیجیے
اِس وقتِ امتحان نہ اپنوں کی جان لیں
موذی وبا کو آئیں، سبھی مِل کے مات دیں
سب کر کے احتیاط ہرائیں کورونا کو
اور پاک صاف رہ کے ڈرائیں کورونا کو
کوشش کریں کہ کوئی بھی بھوکا نہ سونے پائے
مطلب پرستی دیکھنا بالکل نہ ہونے پائے
دل کھول کر کریں گے جو ہم شاذ کی مدد
رزّاق کے دِیے سے جو پہنچائیں گے رَسد
میرا خُدا یقینی بدل دے گا آج کو
بےشک وہ بھیج دے گا مُعالج عِلاج کو

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post