نقل : انیس احمد

میں نے سوچا
اگر مجھے
کسی کی نقل اتارنی پڑے
تو میں کس کا انتخاب کروں گا
میں نے
کائنات کے ہر اس فرد کا سوچا
جہاں تک میری سوچ کی رسائی تھی
سب کی حرکات و سکنات کو
غور سے دیکھا
سب کے چہرے پڑھے
جب کسی کو
دوسری بار پڑھتا
تو مجھے جھٹکا لگتا
کیونکہ دوسری بار
وہ، وہ نہیں ہوتا تھا
وہ اپنا آپ ظاہر کرنے کی بجائے
لاشعوری یا شعوری طور پر
کسی اور کی نقالی کر رہا ہوتا تھا
میں نے کائنات کے ہر فرد کا
بغور جائزہ لیا
کہ مجھ پر کس کی نقالی
جچے گی
دنیا کے سات ارب اسی کروڑ
افراد کا تو جائزہ نہیں لے سکتا تھا
مگر ممکنات کی حد تک
جانچنے کے بعد
میں نے فیصلہ کیا کہ
انیس احمد کو
صرف انیس احمد ہی کی
نقالی جچتی ہے
سو!
میں نے اپنی ہی نقالی
کرنے کا فیصلہ کیا
میرے اس فیصلے سے
آپ کا متفق ہونا
ضروری نہیں
“ممکنات” 2022، انیس احمد

You might also like
  1. younus khayyal says

    بہت عمدہ نظم ۔۔۔۔۔ واااااااااااہ

Cancel Reply

Leave Your Comments for this Post