لہکتی ، مہکتی فلک کی حسینہ : ناصرمحمود اعوان

پہاڑوں میں گونجی ہے
کوئل کی کو کو
پپہیوں کی پی پی
عنادل کے نغمے
خیاباں میں قمری کی ٹھمری
ڈھلانوں میں مینا کی بھیروں
درختوں میں طوطی کی تانیں
سروں کی وہ کانیں
ہوا میں ہے ٹھٹھرن
ہیں باد بہاری کے جھونکے
پھلاہی کے پھولوں کی پھیلی ہے خوشبو
گل جعفری کی مہک چھا گئی ہے
معنبر معطر فضا ہو گئی ہے
(افق کے دریچے سے جھانکو)
سحر سیم تن آگئی ہے
سحر سیم تن آگئی پر
نہ جانے کہاں روشنی رہ گئی ہے؟
پہاڑوں میں ، چشموں میں، جھیلوں میں
جانے کہاں روشنی رہ گئی ہے؟
“کہاں روشنی رہ گئی ہے؟ ”
سحر سیم تن نے توقف کیا
پھر ذرا دیر سوچا
تو تب بھید پایا
کہ ہاں مل گئی
روشنی مل گئی ہے
(لہکتی مہکتی
فلک کی حسینہ
سحر سیم تن
اب چلی ہے
زمیں کے پری پیکروں کو جگانے)
سحر سیم تن اک غضب کی ادا سے
مکانوں پہ لپکی
منڈیروں پہ چھٹکی
مسہری مسہری پہ اچکی
شگفتہ جبینوں کو تاڑا
گل اندام رعنا شمائل حسینوں کو پرکھا
طرح دار گلفام گل رنگ حسینوں کو جانچا
حسینوں کی کروٹ میں مستی غضب کی
حسینوں کے خوابوں میں غفلت بلا کی
وہ سرخوش و مدہوش نندیا کی وادی میں
اڑتی چلی جا رہی ہیں
سحر سیم تن نے بصد ناز
اک ایک زہرہ شمائل کے
دست حنائی کی پوروں کو سونگھا
بت قوس ابرو کو چھیڑا
بدن عنبریں گدگدایا
پپوٹوں کو چوما
فسوں پڑھ کے پھونکا
تو جادونگاہوں کی نندیا
سنہری جبینوں کے خوابوں کی بندیا
اڑن چھو
حسینوں کے اٹھنے سے پھیلی تجلی
سحر سیم تن کو اجالے کی روشن قبا مل گئی ہے
لو اب وادی سون میں روشنی ہو گئی ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post