غاروں کی طرف لوٹنے کے دن : ڈاکٹر اسحاق وردگ

سماج نے حیوانی جبلتیں
پہن لی ہیں
تہذیب کا نظام اخلاق
ان بوڑھوں کی نصحیتوں میں پناہ لے چکا ہے
جو اپنے شباب میں
بے بس لڑکیوں کے جسم کو
دفتری سٹیشنری سمجھتے تھے
جسے بے دریغ استعمال کرنے کے بعد
وقت کی ردی کی ٹوکڑی میں پھینک دیا جاتا ہے
تاکہ آنے والی نئی لڑکیوں کی بند قبائیں
کھولی جا سکیں۔۔
سماج نے حیوانیت کے اندھیرے اوڑھ لیے ہیں
طاقت ور کمزور کی معشیت کے ساتھ
زنا بالجبر کے لیے آزاد ہے
تہواروں سے برکت روٹھ چکی ہے
ماہ مبارک مہنگائی کی علامت ہے
زندگی پیچیدہ راہوں میں صراط مستقیم پر چل نہیں سکتی
آنکھوں نے نیند کو۔۔۔۔نیند نے خوابوں کو
اور خوابوں نے تعبیر کو طلاق کا نوٹس
بھیج دیا ہے
اور عدالتیں۔۔
( نہیں نہیں توہین عدالت نہیں کرنی۔۔اندر سے خوف کی آواز پر مصرع نظم کی تخلیقی کاروائی سے حذف سمجھا جائے)
سماج کی روح دم توڑ چکی ہے
اور روح سے خالی بدن میں
لومڑی، سور،سانپ،بھیڑیے
رہ رہے ہیں
اخبارات کی سرخیاں
نظریے کی صداقت پر
پھبتیاں کس رہی ہیں
ہاتھیوں کی جنگ میں
دانشور کیرے مکوڑوں کے کچلے جانے پر
خاموش ہیں
تاکہ جیت کے بعد
مال غنیمت میں فرشی سلام بجا لاتے ہوئے
کچھ ہڈیوں کے ٹکرے پا سکیں
زندگی میں تازہ خوابوں
کی طلب بڑھ گئی ہے
اور آنکھیں بینائی کا ورثہ
سستے داموں بیچ چکی ہیں
لوگ غاروں کی زندگی گزارنے کے لیے تیار
رہیں
کہ اب وہ اس ان دیکھی جنگ میں
مال غنیمت بننے والے ہیں
جو صرف کاغذوں میں لڑی جاتی ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post