ریشم : ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ ساراریشم بُنا ہے اُس نے

مہین، مخمل کے لمس جسا

جسے چھوئیں توگلابی رخساریاد آجائیں

جوسات رنگوں کی سرسراتی دھنک سے ملتاتھا

سات سُر ۔۔۔۔۔۔ سرسَوتی کی دنیاکے تارے جیسے پھوٹتے ہوں

یہ رنگ ہی تھے

یاریشمی تاروپووکالمس تھا

جو سنگیت سااُبھرتاتھا،جس نے شاید

مجھے اُسے چاہنے پرمجبورکردیاتھا !

میں نرم ریشم چھووں

یارنگوں کی سرسراتی دھنک میں کھوکر

اسے نہ چھوپاوں جو سراپاگداز ریشم تھی

سات سُرتھی

یہ بات ممکن نہیں تھی مجھ سے !

یہ المیہ اس کی ذات کا تھا

یا حادثہ میری چاہ کا تھا

کہ رنگ قوسِ قزح کے قیدی تھے

سُر سبھی تار میں مقید تھے

لمس ریشم کے نرم دھاگوں میں کھوگیاتھا !

وہ اپنے مذہب کے ، شخصیت کے

معاشرے کے، حصار اندر حصار

ابواب قفل در قفل بند کرکے

خود اپنی مرضی سے قید تھی

گانٹھ گانٹھ خود میں بندھی ہوئی تھی

وہ اپنے ریشم کے ڈھیرکواپنے گرد

اک خول سابناکر

خوداپنے ریشم کی قبرمیں دفن ہوگئی تھی

اسے وہاں سے نکالنا میرے بس سے باہر تھا

خود مقید ہوئی تھی

خود ہی نکل بھی سکتی تھی

چاہتی تو !

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post