داستان اردو : ڈاکٹراسدمصطفیٰ

 

دنیا کی زبانوں میں بڑی خاص زباں ہے
یہ پھول کی ،گفتارہے،مومن کی اذاں ہے

اردو کا جنم عشق کی دھرتی پہ ہوا تھا
کرنوں نے اسے خاص محبت سے بنا تھا
پھولوں نےاسے دامن خوشبو میں لیا تھا
یہ چاند ، ستاروں کی رفاقت کا بیاں ہے

دنیا کی زبانوں میں بڑی خاص زباں ہے

اک خواب دلآویز ، کی تعبیر نہاں ہے
اعجاز ہے یہ نطق کا یا حسن بیاں ہے
بہتی ہوئی ندیا ہے یہ دریائے رواں ہے
اور شوکت الفاظ سے تہذیب عیاں ہے

دنیاکی زبانوں میں بڑی خاص زباں ہے

گوروں نے اسے شوق سیکھا ،بھی سکھایا
لوگوں کو ولایت میں بھی دیوانہ بنایا
یہ ان کی حکومت سے محبت کا نشاں ہے
ہندی ہے یہی اور یہی اردو زبان ہے

دنیاکی زبانوں میں بڑی خاص زباں ہے

ہے اس کے لب ولہجے میں اک درد کا درماں
اور پیار کے اظہار میں جھڑتے ہیں گلستاں
بھاشاؤں میں رکھتی ہے بڑی خاص یہ پہچاں
اک سر عیاں ہے یا کوئی سر نہاں ہے

دنیا کی زبانوں میں بڑی خاص زباں ہے

اردو پہ ولی، میر بھی اقبال بھی قربان
آزاد،نے پھولوں سے سجائے تیرے ایوان
انشا نے بصد شوق کیا تھا یہی اعلان
ہے کتنی زبانوں کا یہ گلشن،یہ گلستان
یہ بات گہر بار مرے لب پہ رواں ہے

دنیا کی زبانوں میں بڑی خاص زباں ہے

مومن نےحسیں خوابوں کے کچھ دیپ جلائے
آتش نے محبت میں نئے ، پھول کھلائے
ناسخ نے نئے لفظوں سے دیوان سجائے
غالب نے تو دریائے سخن رنگ بہائے
تاریخ کے اوراق سے یہ بات عیاں ہے

دنیا کی زبانوں میں بڑی خاص زبان ہے

دلی نے بصد شوق اسے دل میں بسایا
دکن نے اسے تاروں کی چھاؤں میں کھلایا
اور لکھنوی تہذیب نے پلکوں پہ بٹھایا
یہ اپنی روایت سے جڑا عشق بتاں ہے

دنیا کی زبانوں میں بڑی خاص زبان ہے

حالی نے نئے دور کا اک خواب سنایا
اکبر نے ہنساتے ہوئے ہم سب کو رلایا
اقبال نے ہر شعر میں یہ راز بتایا
اسلام کی سطوت کا کوئی ایک نشاں ہے

دنیا کی زبانوں میں بڑی خاص زباں ہے

تقسیم کے بعد اس نے بھی گھر بار سمیٹا
جلدی تھی سو چادر میں محبت کو لپیٹا
ہجرت کرے جیسے کوئی اپنا ،کوئی بیٹا
اک درد کی ترسیل میں روداد زیاں ہے

دنیا کی زبانوں میں بڑی خاص زبان ہے

اس ملک میں اک بزم نگاران سجائی
ہر شہر میں ہر گاؤں میں تعریف کمائی
ہر سمت محبت کی اک جوت جگائی
ہر ایک کہانی میں،صداقت کا بیاں ہے

دنیا کی زبانوں میں بڑی خاص زبان ہے

ڈاکٹر اسد مصطفیٰ

You might also like
  1. shaukat awan says

    Masha Allah Sir

  2. yousaf khalid says

    مومن نےحسیں خوابوں کے کچھ دیپ جلائے
    آتش نے محبت میں نئے ، پھول کھلائے
    ناسخ نے نئے لفظوں سے دیوان سجائے
    غالب نے تو دریائے سخن رنگ بہائے
    تاریخ کے اوراق سے یہ بات عیاں ہے

    بہت خوب

  3. گمنام says

    بہت شاندار نظم۔

  4. اسد مصطفیٰ says

    تمام احباب کا شکریہ کہ انہیں نظم پسند آئی

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post