خزاں کی شام : تنویر اقبال

خزاں کے رنگ اڑاتی شام
بے رونق بنفشی آسماں
اونچےپہاڑوں سےاترتی
حبس کی چادر لئے بوڑھی ہوا۔
دن بھرجھلستی دھوپ برساتا ہواشرمندہ
شرمندہ افق کی اوٹ میں جاتا ہوا سورج
بھٹکتے ۔دوڑتے۔آوارہ۔پیاسےبادلوں کا غول
پیڑوں سےلٹکتی زرد ننگی ٹہنیاں۔
کملائے پھولوں کی اکھڑتی پتیاں۔
دوپہر کی شدت سے گزرے
کچھ تھکے ہارے پرندے
اپنے اپنے گھونسلوں کی سمت اڑتے۔
واپڈا کا اکّھ مٹکّا
چائے پانی سب پہنچ سے دور۔
گیٹ سے باہر۔اکیلی دور تک جاتی سڑک پر جانے انجانے کئی چہرے۔
ملوں کی چمنیاں سگرٹ کے کش لیتی۔
دھواں باہر اگلتی۔دن کی بےآرامی سے نالاں
اور پسینوں میں شرابورآدمی
بے روح کارندے گھروں کو لوٹتے ۔
شام کے تھیٹر میں بیٹھا
غم زدہ تنہا تماشائی
نگہ کے کینوس پر پینٹ کرتا میں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post