تو پھر میں نظم لکھتا ہوں : یوسف خالد

میں اکثر رات رات بھر
منتشر سوچوں کو مجتمع کرتا رہتا ہوں
بہت سی سوچیں
شرارتی بچوں کی طرح مسلسل ایک دوجے سے دست و گریبان رہتی ہیں
ایک یدھ کا سماں ہوتا ہے
لفظ منہ بسورے خاموشی سے سوچوں کی دھینگا مشتی دیکھتے رہتے ہیں
نیلگوں آسمان پر کبھی کبھی بادل کا کوئی آوارہ ٹکڑا بھی یہ تماشہ دیکھنے کے لیے نمودار ہوتا ہے
کبھی تارے کبھی چاند کبھی کہکشائیں بھی تماشہ گاہ کے نواح میں پڑاؤ ڈالتی ہیں
مگر ہوا جو ہر راز سے باخبر رہتی ہے
جب چاہتی ہے منظر بدل دیتی ہے
میرے خواب نیند کی تلاش میں مسلسل میری پلکوں کو ٹٹولتے رہتے ہیں
آنکھیں بے خوابی کا درد سہتی ہیں مگر شکوہ نہیں کرتیں
صبحِ کاذب جب صبح صادق سے معانقہ کرتی ہے
تو ہوا کے دوش پر سوار اوس قطرے میری پلکوں پہ اترنے لگتے ہیں
بھیگی بھیگی سی یہ کیفیت
میرے تھکے ہوئے بدن کی پور پور میں اتر جاتی ہے
سویرا جب سورج کے نمودار ہونے کی چھب دکھاتا ہے
تو ہر سو زندگی کا متحرک روپ جلوہ افروز ہونے لگتا ہے
دھرتی سورج کی پہلی کرنوں کے بوسے سے نہال ہو جاتی ہے
رات بھر جاری رہنے والا یدھ ختم ہوتا ہے
تو سوچیں بھی تھک ہار کر مفاہمت کر لیتی ہیں
ایسے میں نیند میری پلکوں پر دستکیں دینے لگتی ہے
میں ، ننھے پرندوں کی چہکار
پھولوں کے بطن سے پھوٹتی خوشبو ، شبنمی گھاس کے لمس کا لطف
اور ننھی کلیوں کے چٹکنے کی خمار آلود صدا سنے بغیر
رت جگے کی تھکن اوڑھ کر بستر پر ڈھیر ہو جاتا ہوں
میرے لفظ میرے خواب میری آرزوئیں
مجھ سے روٹھ جاتی ہیں
میں کئی کئی دن انہیں منانے کے جتن کرتا رہتا ہوں
جب میری آرزوئیں ، میرے خواب اور میرے لفظ مجھ سے
خراج وصول کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں
تو پھر میں نظم لکھتا ہوں

You might also like
  1. younus khayyal says

    وااااااااااااااہ
    تخلیقی تجربہ کے رموز سے پردہ ہٹاتی اپنی طرز کی منفرد نظم ۔
    سلامت رہیں ۔

  2. گمنام says

    بہت ہی خوبصورت نظم

  3. شبنم فردوس says

    بہت ہی خوبصورت نظم

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post