ایک نظم : ڈاکٹرستیہ پال آنند


ڈاکٹرستیہ پال آنند
آج کا دن اور کل جو گذر گیا۔ یہ دونوں
میرے شانوں پر بیٹھے ہیں
کل کا دن بائیں کندھے پر جم کر بیٹھا
میرے بائیں کان کی نازک لو کو پکڑے
چیخ چیخ کر یہ اعلان کیے جاتا ہے
’’میں زندہ ہوں !
بائیں جانب کندھا موڑ کے دیکھو مجھ کو!‘‘
آج کا دن جو
دائیں کندھے پر آرام سے پاؤں پھیلا کر بیٹھا ہے
بار بار دھیمے لہجے میں ایک ہی بات کو دہراتا ہے
’’مت دیکھو اس اجل رسیدہ کل کو
جو اب کسی بھی دم اٹھنے والا ہے!
مجھ کو دیکھو، بات کرو، میں چلتا پھرتا آج کا دن ہوں
سانس کی ڈوری مجھ سے بندھی ہے
کیا لینا دینا ہے اک آسودۂ خاک سے ہم جیسے زندوں کو؟‘‘
دائیں بائیں گردن موڑ کے دونوں کی باتیں سنتا ہوں
گردن میں بل پڑ جاتا ہے
کچھ سستا کر پھر سننے لگتا ہوں ان کی رام کہانی!
شاید سچ کہتے ہیں دونوں !
ماضی بھلا کہاں مرتا ہے؟
زندوں سے بھی بدتر ، یہ مردہ تو ذہن میں گڑا ہوا ہے
جیسے کالے مرمر کی سل کا کتبہ ہو
اور پھر آج کا زندہ پیکر؟
آنے والے کل کے دن تک اس کو میں کیسے جھٹلاؤں ؟
کوئی بتائے
میں دو جنما
اپنے دو شانوں پر بیٹھے آج اور کل سے کیسے نپٹوں ؟

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post