آنسو ۔۔۔ پہلاورق

  یونس خیال

  مجھے ٹھیك سے یادنہیں كہ میں پہلی باركب رویاتھالیكن آنسووں كے ذائقےسے آشنائی دسمبر1971ء میں ہوئی۔عجیب لمحہ تھاایك بینڈ كے ریڈیوكے سامنے گھركے سب افرادجمع تھے اورشایدگلی محلے كہ كچھ لوگ بھی۔ یہ وہی ریڈیوتھاجسے پیرصاحب (والدِ گرامی)1965ء میں خرید كرلائے تھے اورخودمحاذِجنگ پر چلے گئے۔ان دنوں دادامرحوم گھركے سامنے گلی میں چارپائی ڈالےریڈیو اورحقے كے ساتھ بیٹھے رہتےاورگلی كے لوگ ساتھ بیٹھ كرجنگی نغمے ، خبریں اورنظام دین كے تبصرے سنتے۔ نورجہاں كاگایانغمہ ” اے پترہٹاں تے نیئں وِكدے“ سب كویادہوگیاتھا۔
       ہاں تومیں اس ذائقےكی بات كررہاتھاجس سے آشنائی ایسی ہوئی كہ پھرزندگی كے دوسرے سارےذائقے اس كے تلے دبتے چلے گئے۔
      ریڈیوكے سامنے بیٹھے سب افراد نے سناكہ مشرقی پاكستان كے محاذ پر ہماری فوج نے ہتھیارڈال دیے ہیں اورہمارے فوجی جوان بھارتی قیدی بن گئے ہیں ۔ سب كی آنكھوں سے آنسوابل پڑے ۔ میں نے اپنی ماں اوردادی كودیكھا ۔۔۔ دكھ بس دكھ ۔۔۔ ماں نے مجھے اوردادی نے ماں كوكھینچ كرگلے لگایا اورپھرآنسو۔۔ تینوں كے آنسو آپس میں مل سے گئے اورروتے روتے یہ آنسومیرے حلق تك جااترے ۔ مجھے اب اورنہ اس وقت معلوم ہواكہ میراحلق كس كے انسوٶں كے ذائقے سے آشناہوا۔ میری ماں،دادی اورمیرے آنسوٶں كاذائقہ ایك جیساہی ہوگاكیونكہ دكھ سانجھاتھا ۔۔۔ اورجب دكھ میں سانجھ ہوتولفظوں اورآنسووں كے ذائقے بھی سانجھے ہی ہوتے ہیں۔
         لیكن ہمارے اردگرد كے لوگ كیوں رورہے تھے،باپ تومیراقیدی بناتھا۔اب جاکرمحسوس ہوتاہے كہ میرے باپ سے زیادہ وہ اپنے دیس پاكستان كے دولخت ہونے كے سوگ میں تھے ۔90 ہزاركے قریب قیدی سب كے سانجھے تھے۔ سب كے بھائی اور بیٹے ۔اور پھران سب كاباپ ” پاكستان “ بھی توزخمی تھا،ٹوٹ چكاتھا۔ میرے دكھ سے بہت بڑادكھ ۔ایسادكھ جوآج بھی رلادیتاہے۔ كاش نئی نسل كوہم سچ پرمبنی تاریخ پڑھنے اور سمجھنے كے قابل بناپاتے۔
    میری عمراس وقت گیارہ برس تھی۔ روتے ہوئے لوگوں میں سے  كسی نے كہا كہ تم بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہو’’حوصلہ كرو‘‘۔ میں چونكااورمجھے لگاكہ میں واقعی بڑاہوگیاہوں۔اور پھرمیں نے سب كے آنسووں كوحوصلے كی گٹھری میں باندھ كر اپنےسرپرركھ لیا۔”بڑا“ جو ہوگیاتھا۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post