یوسف خالد، سموسہ پٹی اور جواز جعفری کی نظم : یونس خیال

کسی کویہ بتانے کے لیے کہ پروفیسریوسف خالدؔسے میراتعلق کتناپُرانا ہے ،ایک بارنہیں کئی بارسوچناپڑتاہے۔ وہ اِس تعلق کو جتنی اہمیت دیتاہے میں بھی اُسی قدراُسے اپنے لیے اہم سمجھتاہوں۔اِ س سے زیادہ اس نہیں کہ ایسا سوچنے سے ہم دونوں ہی ایک دوسرے کےلیے غیراہم ہوجائیں گےاورمیرے نزدیک’’ غیراہم ‘‘تعلق کی بجائے زندگی میں کسی سے تعلق کا نہ ہونازیادہ بہترہوتاہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کبھی کبھی دانائی کی باتیں مجھ سے کرلیتاہے۔جنھیں میں غورسے سنتاہوں اور پھرتعلق کی سطح قائم رکھنے کے لیے کہہ دیتاہوں کہ:
’’ اگر علامہ تم نے میری صحبت میں کچھ اوروقت گزاراہوتا۔۔۔ توسونابن جاتے‘‘
زندگی میں جب چیزیں اور بالخصوص اچھےدوست، مفت میں مل جائیں توان کی کوئی قدرنہیں ہوتی اور بعض حالات میں شعوری طورپرناقدری کی عینک پہن کراُن میں سے عیب تلاش کیےجاتے ہیں۔یہی حال میرا اور یوسف خالدکابھی ہےکہ ہم ایک دوسرے کو مفت میں مل گئے تھے۔یہاں ڈاکٹر جوازجعفری کی مشہورنظم ’ُ محبت قرارداد نہیں ‘‘ کی چندلائنیں یاد آرہی ہیں جو میں نے ۱۹۹۱ءمیں اُن سے سُنی تھی:
ہم تمھیں مفت میں مل گئے
تویہ مت سمجھو !
کہ ہماری کوئی قیمت ہی نہیں
ہماری قیمت ان سے پوچھو
جن کے ہاتھ اور دامن خالی رہ گئے !
یوسف خالد کتناداناآدمی ہے یہ بات بعد میں لیکن مجھے اس بار اس کی دانائی کی کیوں ضرورت پڑی، پہلے یہ سُن لیجیے۔

ہوایوں کہ رمضان کے شروع میں ایک بڑے اسٹور کی برانچ پرخریداری کی فہرست میں سموسہ پٹی بھی شامل تھی۔گھر آکر بل دیکھاتومعلوم ہواکہ ایک ۴۰۰ گرام سموسہ پٹی کی کے پیک کی قیمت ۱۵۰روپے ہے ۔۔۔اتنے ہی کی ہوگی، بات آئی گئی ہوگئی۔ کُچھ دن بعد یہی سموسہ پٹی لینے ،ماسک اور دستانے چڑھائے ایک اوراسٹور پرجانے کا اتفاق ہوا۔وہاں یہی سموسہ پٹی کاپیکٹ ۶۰ ؍ روپے کاملا۔کیشیرسے کہا۔ بھائی پیسے کم کاٹ رہے ہو؟ وہ میری طرف دیکھ کرمُسکرایااورکسی دوسرے گاہک کی طرف متوجہ ہوگیا۔اِس دور میں سادگی سے بڑی حماقت کوئی ہے بھی تونہیں ۔
اس پر کوفت سی ہوئی اور لگاکہ وہ میری ذہنی حالت کوٹھیک نہ سمجھ کرمجھےقابلِ توجہ نہیں سمجھ رہا۔میں نے سوچاکہ ۶۰؍ اور ۱۵۰؍روپے والی سموسہ پٹیوں والامعاملہ حل کرکے( اپنی حدتک ہی سہی )اپنی ذہنی حالت کا تعین ضروری ہوگیاہے۔گاڑی میں رکھا پہلے والے اسٹور کا بل مِل گیا کیونکہ آج کل شاپنگ کے بعد دستانے اتارنے سے پہلے واپسی رقم کوبِل میں لپیٹ کر کاروناسے بچاوکی تدبیر میںکچھ دن تک گاڑی ہی میںکسی خانے میں پڑارہنے دیتاہوں ۔ دونوں بل لیے راستے میں پڑتے، پہلےوالے اسٹورپرچلاگیاتاکہ موازنہ کرسکوں ۔
اپنے ’’ بڑے مینجر کافون نمبر دیتے ہوئے سُپروائزر نے کہاکہ ان سے بات کےلیجیے گا۔میں نے گھر آکر فون کیا۔اصل معاملہ اب شروع ہواتھا:
میں : جناب آپ کے اسٹور سے ۶۰؍روپے والی سموسہ پٹی ۱۵۰؍ روپے میں مل رہی ہے۔
مینجر : جی مجھے سُپروائزرسے آپ کی کمپلینٹ مل گئی ہے۔
میں : جی شکریہ ۔۔۔ کیا کہتے ہیں آپ اس معاملے میں؟
مینجر : آپ یہ بتائیے کہ ہمارے والے پیک میں پٹی کی کتنی پرتیں تھیں ؟
میں : جی میں گنیں نہیں ۔
مینجر : اچھامیں تحقیق کرکے بتاوں گا ( اور اس نے فون بند کردیا)
اب مجھے یوسف خالد کی دانائی کی ضرورت عجیب وقت پڑی ۔ اتنی سادہ سی بات مجھے اُس سے پوچھنا پڑرہی تھی۔سوچا،وہ یقینامجھ پرہنسے گااورمیری حالت پرکوئی نہ کوئی فقرہ بھی کسے گا،لیکن اور کوئی راستہ تھا بھی تونہیں۔مجھے یقین بھی تھاکہ وہ ضروراِن دنوں گھرمیں سموسے بھرتاہوگااور گنتابھی ہوگا ۔۔۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ مینجر صاحب کے سوال کاجواب چاہیے تھا۔مجبورا میں نے اُسے فون کرہی ڈالا۔۔۔کہ بھائی۴۰۰گرام والی سموسہ پٹی میں کتنے پرت ہوتے ہیں؟
اُس نے سوال دوبارہ پوچھا اورپھر سوچنے کے لیے ایک دن کا وقت مانگا۔میں نے حسبِ معمول اس کی کلاس لیتے ہوئے کہا کہ اتنی عام سی بات کے لیے بھی ایک دن!۔
۔۔۔۔۔ اور پھر فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔۔ دوسری طرف یوسف خالد تھااور کہہ رہاتھا کہ ’’ احمق ! ۴۰۰گرام کے پیسے دیے تھے کہ پرتوں کی تعداد کے؟
میں سوچ رہاہوں کہ دوستوں سےمفت ملی دانش کتنی قیمتی ہوتی ہے اور ہم کس قدراحمق ۔ اگرہم احمق (سادہ) نہ ہوں تواِن اسٹوروں کے ملازمین ہمیں ٹرخانے کے لیے اپنی چالاکیاں دانش میں لپیٹ کربِلوں کی صورت میں کیوں لوٹائیں !

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post