کرونا کا عفریت، میری عصبیت اور فارسی نظم : اقتدار جاوید

 

ایسی قیامت میں نے پہلے نہیں دیکھی مجھ سے پہلے کی امتوں پہ ایسی قیامتیں ضرور گزری ہیں
کہ بے شک خدا نے ان لوگوں کو تباہ و برباد کیا جو اپنے تٸیں ناقابلِ شکست تھے اور خدا کے غضب کو للکارتے تھے ان میں ایک تو وہ تھا جو اپنے لاٶ لشکر اور ہاتھیوں کے ہمراہ اس کے گھر کو تباہ کرنے آیا تھا پھر ان کا عبرت ناک انجام کیا ہوا جیسا کھایا ہوا بھوسہ بلکہ اس سے بھی بدتر۔اسی حملہ آور سے جب عبدالمطلب اپنے ہتھیاٸے ہوٸے اونٹوں کی واپسی کے لیے گٸے تو اس نے طنز آمیز لہجے میں کہا کعبہ کی بات کرنے آٸے ہو تو انہوں نے ترکی بہ ترکی جواباً کہا کعبہ کو کعبہ والا جانے میں تو میں اپنے اونٹ واپس لینے آیا ہوں۔قرآن میں ارشاد ہے ہم یوں اپنی نشانیاں بیان کرتے ہیں تا کہ تم ایمان لاٶ تمہیں عبرت حاصل ہو۔اور وہ جو پہاڑوں میں عالی شان گھر بنانے کے ماہر تھے ان کو عبرت کا نشان بنایا۔
میں نے چھوٹے بش کا تحقیر بھرا لہجہ دیکھا کس قدر فرعونیت تھی اس کی آنکھوں میں اس کے چہرے کے تاثرات یاد کیجیے اور اس کا تحکم آمیز لہجہ کہ تم ان کے ساتھ ہو یا ہمارے ساتھ ہو کوٸی سوچنے کی مہلت نہیں کوٸی سوال و جواب کی گنجاٸش نہیں ہاں یا نہیں اور آگے گھگیاتے ہوٸے کہا گیا آپ کے ساتھ ماں باپ قربان آپ کے ساتھ آپ کی آل اولاد کے ساتھ۔
ایک دوست نے بتایا کہ وہ میلان میں رہتا ہے یا قرنطینہ میں کوٸی فرق نہیں چھ کروڑ لوگ گھر کے اندر بند ہیں ایسے لگتا ہے کوٸی عہدِ تاریک Dark Age
واپس آ گیا ہے زندگی ختم ہے بلکہ تاریخ ختم ہے۔میں نے تاریخ کے اختتام کا اعلان نہیں کیا تھا۔میں اس حالت زار پر خوش نہیں ہوں کہ اٹلی میں ہمارے دوست کے مطابق روزانہ دو سو افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں یہ وقت دعا ہے مگر اسی اٹلی کی فحش انڈسٹری نے اپنی پورن حب مفت کر دی ہے تا کہ گھر میں مقید لوگوں کو تفریح حاصل ہو۔ سولہ لاکھ امریکی موت کے نشانےپر ہیں مگر میری عصبیت کو تقویت ملتی ہے جب ٹرمپ خوف کے عالم میں کرونا کا ٹیسٹ کرواتا ہے کہ ایک کروڑ افغانستان میں قتل کرنے کی دھمکی دینے والا قدرت کی طاقت کے سامنے کس قدر بے بس ہے۔میں نے نہیں کہا تھا کہ افغانستان کا مسٸلہ اور فتح کی کنجی میرے ہاتھ میں ہے مگر میں ایک کروڑ لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتا میں نے تو نہیں کہا تھا۔میں نے تاریخ کے اختتام کا اعلان نہیں کیا تھا کون تھا میں نہیں تھا جس نے تہذیبوں کی آویزش کا نعرہ بلند کیا تھے۔نہیں میں نہیں تھا میں تو روہنگیا ہوں میں تو کشمیر ہوں میں تو یمن ہوں میں تو غزہ ہوں میں تو دلّی ہوں میں وہ نہیں جو تم سمجھتے رہے کیسی طاقت کے غرور اور بدمستی کی کیفیت تم پر طاری تھی۔میں تو یروشلم میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں وہاں میرا گھر ہے میں وہاں لوٹنا چاہتا ہوں۔میں شام ہوں۔
اے میرے رسول کی امت تم سب نے نٸے آقا ڈھونڈے سرحدیں توڑیں اپنے بھاٸیوں کا جینا حرام کیا ان کے ملکوں کو دوزخ بنایا اب تم خود اس دوزخ کا ایندھن ہو۔مجھے پتہ ہے تاریخ میں بارہا خانہ کعبہ کا طواف رکارہا کبھی حملے کی وجہ سے کبھی وباٸی امراض کے سبب اور کٸی کٸی سال لوگ اس حجرِ اسود کے بوسے کو ترس گٸے جو جنت سے اتارا گیا تھا جو اس کو کعبہ سے اکھاڑ کر لے گٸے، جن کی وجہ سے یہ ہوا وہ کیسے مٹے کس کا نام و نشان باقی ہے۔
کرونا کے خوف کے ساتھ ساتھ ایک فارسی گیت نما نظم کا بڑا شہرہ ہے جس کا ترجمہ ہماری درخواست پر ہمارے استاد بابر نسیم آسی نے ارسال کیا ہے جو رعونت اور خشونت سے لبالب بھرے ہووں کی خدمت میں پیش ہے ۔کاش انسانیت کے لیے یہ وبا ایک نٸے انسان کا ظہور کا باعث ہو سکے۔
یہ امیر جان صبوری کا کلام ، اسی کی بنائی ہوئی دھن میں تاجکستان کی نگورا خولوہ نے دل سے درد کے ساتھ گایا ہے۔بے شک اس نظم کا یہ بھی حق ہے کہ اسے عام عوام تک پہنچایا جاٸے۔
ع;
شهر خالی، جادّه خالی، کوچه خالی، خانه خالی/جام خالی، سفره خالی، ساغر و پیمانه خالی/کوچ کرده، دسته دسته، آشنایان، عندلیبان/باغ خالی، باغچه خالی، شاخه خالی، لانہ خالی

شہر خالی،رستہ خالی،کوچہ خالی،گھر خالی/جام خالی،میز خالی،ساغرو پیمانہ خالی/ہمارے دوست و بلبلیں دستہ دستہ کر کے کوچ گئے/باغ خالی باغیچہ خالی شاخیں خالی گھونسلے خالی
وای از دنیا که یار از یار می‌ترسد/غنچه‌های تشنه از گلزار می‌ترسد/عاشق از آوازهٔ دلدار می‌ترسد/پنجهٔ خنیاگران از تار می‌ترسد/شه‌سوار از جادهٔ هموار می‌ترسد/این طبیب از دیدن بیمار می‌ترسد

وائے دنیا کہ جہاں دوست دوست سے ڈر رہا ہے/جہاں غنچہ ہائے تشنہ باغ ہی سے ڈر رہا ہے/جہاں عاشق اپنے دلدار کی آواز سے ہی ڈر رہا ہے/جہاں موسیقاروں کے ہاتھ تارِساز سے ڈر رہے ہیں/ شہسوار سہل و ہموار رستے سے ڈ ر رہا ہے/طبیب بیمارکو دیکھنے سے کترا رہا ہے
سازها بشکست و دردِ شاعران از حد گذشت/سال‌های انتظاری بر من و تو برگذشت/آشنا ناآشنا شد/تا بلی گفتم بلا شد
سر بکھیرنے والے ساز ٹوٹ چکے ہیں اور شاعروں کا درد حد سے تجاوز کر گیا ہے/تمھارے میرے انتظار کے کئی کربناک سال بیت چکے/آشنا نا آشنا میں بدل چکے ہیں/میرا یہ کہنا کسی عذاب سے کم نہیں
گریه کردم، ناله کردم، حلقه بر هر در زدم/سنگ سنگِ کلبهٔ ویرانه را بر سر زدم/آب از آبی نجنبید/خفته در خوابی نجنبید
میں نے بہت نالہ و گریہ کیا ہر در پر دستک دی اور اس ویرانے کی سنگ سنگ خاک اپنے سر میں ڈالی
جیسے پانی نہیں جانتا اس ک گہرائی کتنی ہے
ایسے ہی کوئی خوابیدہ نہیں جانتا وہ کیسی گہری نیند سو رہا ہے.
چشمه‌ها خشکید و دریا خستگی را دم گرفت/آسمان افسانهٔ ما را به دستِ کم گرفت/جام‌ها جوشی ندارد، عشق آغوشی ندارد/بر من و بر ناله‌هایم، هیچ‌کس گوشی ندارد
چشمے سوکھ گئے،دریا حالِ خستگی سے دوچار ہے
آسماں نے بھی میرے افسانے کو بے وقعت جانا
جام بے اثر ہو گئے گرمی سینہ عشق ماند پڑ گئی
کسی ایک شخص نے بھی مجھ اور میرے نالوں کی طرف معمولی دھیان بھی نہیں دیا
بازآ تا کاروانِ رفته باز آید/بازآ تا دلبرانِ ناز ناز آید
بازآ تا مطرب و آهنگ و ساز آید/کاکل‌افشانم نگارِ دل‌نواز آید/بازآ تا بر درى‌ حافظ اندازيم/گل بیفشانیم و می در ساغر اندازیم
لوٹ آ تا کہ روانہ ہو چکا کارواں بھی لوٹ آئے/لوٹ آ تاکہ دلبران ِناز کے ناز دوبارہ لوٹ آئیں/لوٹ آ کہ دورِگلوکار و موسیقی و ساز پھر لوٹ آئے/اپنی زلفوں کو مہرِجاناں کے استقبال میں پھیلا دو/لوٹ آ تا کہ ہم حافظ کے در پر سر جھکا سکیں/گل فشانی کرتے اور ساغر بھرتے ہوئے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post