کبھی سوچا تم نے : ڈاکٹر اسد مصطفیٰ

پاکستان میں جاگیرداری نظام جتنا پرانا ہے،اس طبقے کے ہاتھوں غریبوں اور ہاریوں پر ظلم اوران کااستحصال بھی اتنا ہی پرانا ہے۔ پی ٹی وی پر امجداسلام امجد کا ڈرامہ وارث وہ پہلا رجحان ساز ڈرامہ تھا جس نے جاگیرداری نظام کی بدصورتیوں کو کچھ اس انداز سے نمایاں کیا کہ پی ٹی وی کے تمام سنڑرز سے علاقائی نوعیت کے ایسے ڈرامے شروع ہوئے جن میں غریبوں اور ہاریوں پر جاگیرداری نظام میں ہونے والا ظلم وستم دکھایا جاتا رہا۔جاگیردار ہمیشہ اپنے علاقے کے غریب اور بے وسیلہ طبقات کو محروم اور بے شعور رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کی بڑائی بھی قائم رہے اور کوئی اس کے سامنے سر اٹھا کر نہ جی سکے۔ پی ٹی وی پر اس حوالے سے سچی کہانیاں بھی دکھائی گئیں اور جھوٹی بھی مگر میری بیان کردہ کہانی سچی ہے۔یہ واقعہ مجھے میرے ایک کالج کے سابقہ پرنسپل نے سنایا تھا۔ان پرنسپل صاحب کا ایک دوست اسلام آباد میں کسی اعلی عہدے پر فائز تھا ، وہ اپنے بچوں سے محبت کے اظہار میں غیر معمولی طرزاختیار کرتا تھا۔بچے تو سب کو ہی پیارے ہوتے ہیں مگر وہ تو ان کے پاس جا کر بالکل ہی بچہ بن جاتا تھا۔اسے یہ بھی احساس نہیں ہوتا تھا کہ کوئی اسے دیکھ ریا ہے ۔اصل میں وہ بہت سنجیدہ اور برد بار قسم کا انسان تھا۔تحمل مزاجی اور متانت اس کی شخصیت سے جھلکتی تھیں۔وہ کبھی کسی سے غیر ضروری بات بھی نہیں کرتا تھا مگر گھر میں اس کا رویہ بالکل مختلف ہو جاتا تھا۔ پروفیسر کواس بات پر حیرت ہوتی تھی کہ وہ اپنے بچوں سے تعلق میں عام لوگوں سے مختلف کیوں ہے۔کیا اور لوگوں کے بچے نہیں ہوتے ۔اور کیا لوگ اپنے بچوں سے پیار نہیں کرتے ۔شاید اسے کوئی محرومی ہے؟ پروفیسر، ایک دن اپنے اندر اٹھتے ہوئے سوالات کے طوفان پر قابو نہ رکھ سکا اور اس سے پوچھ لیا کہ تم اپنے بچوں سے محبت کے اظہار میں غیر معمولی کیوں ہو؟مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ بچوں میں کھو کر بالکل بچے بن جاتے ہو اور پھر بہت دیر تک بچے بنے دنیا و مافیہا سے الگ تھلگ ہو جاتے ہو۔ اس کے پیچھے کیا کہانی ہے۔کوئی محرومی تو نہیں ہے تمہیں تو اس کے جواب میں وہ جذباتی سا ہو گیا۔اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، جنھیں وہ پروفیسر پہلے پہل نہ سمجھ سکا کہ یہ خوشی کے آنسو ہیں یا غم کے۔اس نے پروفیسر سے مخاطب ہو کر کہا!تم نے سچ جاناہے کہ میں اپنے بچوں کی محبت میں ار د گرد کی سب چیزوں سے بے نیاز ہوجاتا ہوں ۔میرےبچے میرا دل بھی ہیں اور دماغ بھی ۔میں اپنے آپ کو ان سے الگ محسوس نہیں کرتا۔ میں اپنے آپ کو ان کی محبت میں بے بس تصور کرتاہوں اور اس کی ایک خاص وجہ ہے جو آج سے پہلے میں نے اپنے کسی دوست کو نہیں بتائی مگر میرا دل چاہ رہا ہے کہ تمہیں ضرور بتاؤں۔ اس لیے بھی کہ تم نے میرے اندروہ محسوس کیا ہے جو غیر معمولی ہے۔ہاں دوست !میں اکثر اس ماضی کی سلگتی یادوں میں پہروں سو نہیں سکتا جوایک تلخ حقیقت بن کر اکثر مجھے جھنجھوڑتا رہتا ہے۔ نیند مجھ سے کوسوں دور چلی جاتی ہے۔ میں اکثرخواب میں دیکھتا ہوں کہ میرے بچے گاؤں کے وڈیرے کے آگے کان پکڑے کھڑے ہیں اور اس وڈیرے یا چودھری کا بیٹا ان پر اپنے گھونسے اور مکے برسا رہا ہے ۔وہ بے بسی کے عالم میں اوندھے منہ گر جاتے ہیں اور پھر اٹھ کر مرغے بن جاتے ہیں۔ان کا قصور اتنا ہے کہ وہ پڑھنا چاہتے ہیں اور وڈیرہ ان پر جہالت کی سیاہ رات مسلط رکھنا چاہتا ہے ۔ہاں ، میں تمہیں ضرور بتاؤں گا۔ میں کسی نہ کسی کو بتانا بھی چاہتاتھا مگر کس کو بتاتا۔یہ شاید ساٹھ کی دہائی کا کوئی سال تھا ۔میرے گاؤں میں حکومت نے ایک سکول بنایا تھا جس پر گاؤں کا وڈیرا بہت سیخ پاتھا۔ اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے شاید وہ اسے بند تو نہیں کرا سکاتھا مگر اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کسی قیمت پر سکول چلنے نہیں دے گا۔سکول بنا تو گاؤں کے پندرہ بیس بچے اس میں داخل ہو گئے۔ ایک استاد بھی تعینات ہوا مگر گاؤں کے وڈیرے نے اس کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت جب سکول لگنے کا وقت ہوتا تو وہ اپنے خاص ملازمین کو حکم د یتاکہ سب بچوں کو میرے پاس لایا جائے ۔ہم سب جب اس کے پاس حاضر ہوتے تو وہ ہمیں قطار میں کھڑے ہونے کا حکم دیتا۔ ہم قطار میں کھڑے ہوجاتے تو وہ ہمیں کان پکڑا کر مرغا بننے کو کہتا ۔اسی دوران وہ ہماری ہی عمر کے اپنے بیٹے کو بلاتا ،کہ بیٹا! آؤ ذراان بچوں کو سبق پڑھا دو اور اس کا بیٹا جو بعد میں ایم این اے، بنا ۔ہماری پیٹھوں پر ،مکوں اورلاتوں کی بارش برسا دیتا، جس سے ہم اوندھے منہ گر جاتے۔ ہمیں مارتے ہوئے دونوں باپ بیٹا خوب ہنستے اور قہقہے لگاتے۔ اس کے بعد ہمیں حکم دیاجاتا کہ ہم اس وڈیرے کے باغ میں جائیں اور پھل توڑ کر ٹوکریوں میں بند کریں۔ ہم سب لڑکے باغ میں جاتے ۔پھل توڑتے، انہیں ٹوکریوں میں بند کرتے مگر ہمیں پھل کھانے کی اجازت نہیں تھی اگر ہمارا نگران ہم میں سے کسی کو پھل کھاتے ہوئے دیکھ لیتا تو چھڑی سے اس کی خوب پٹائی کرتا۔ مرغابن کر وڈیرے کے بیٹے سے لاتیں کھانا اور پھر پھل توڑ کر ٹوکریوں میں بھرنا، ہمارا روز کامعمول تھا۔اس کام کے بعد جب ہم تھکے ہارے سکول جاتے تو چھٹی کا وقت قریب ہوتا مگر ہمارا استاد جو شاید خود بھی وڈیرے کے زیر عتاب تھا،ہمارا انتظار کر رہاہوتا۔ ہمارے پہنچنے پر وہ کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیتا اور چپکے چپکے ہمیں پڑھاتا۔ وہ کہتاکہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ ہوتا ہے ۔وہ کسی کونہ بتانا۔سب کچھ سہنا مگر پڑھائی ہرگز نہ چھوڑنا کہ یہی تمہارے اور تمہارے گاؤں والوں کی نجات کاواحد راستہ ہے۔میرے والد صاحب بڑے سیانے آدمی تھے۔ انہوں نے مجھے مزید تعلیم دلانے کاایک منصوبہ سوچا ۔اس وقت یہ واحد طریقہ تھا جس سے میں پڑھ سکتا تھا۔ میرے والد اس وڈیرے کے پاس گئے کہ سائیں ہم غریب لوگ ہیں۔ میں اپنے بیٹے کو محنت مزدوی کے لیے شہر بھیجنا چاہتاہوں،اس کے لیے آپ کی اجازت چاہیے۔ وڈیرے نے مجھے شہر جانے کی اجازت تو دے دی مگر اس شرط پر کہ وہ میری آمدنی سے ہر ماہ پچاس روپے ٹیکس وصول کرے گا ۔یوں میں شہر جاکر پڑھنا شروع ہوگیا اور میرا والد میری جگہ ہر ماہ پچاس روپے جمع کرانے لگا۔ پروفیسر ؟ تم اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس وقت پچاس روپے پورے کرنے میرے والد کے لیے کتنے مشکل تھے، مگر انہوں نے مجھے اور میری بہن کو اسی طرح پڑھایا۔میں اپنے ماضی کے بارے میں سوچتاہوں تو کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اورمیری اولاد کو اس ظالم سے بچا لیا مگر اور کتنے لوگ تھے جو اس کے ظلم وستم کو چپ چاپ سہتے رہے۔ کتنے خاندانوں کے مستقبل کواس نے تاریک کر دیا۔صرف وہی نہیں اس جیسے اور کتنے تھے اور ہیں جو اپنے اپنے علاقوں کے غریب اور مجبور لوگوں کی قسمت کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ کوئی شخص ان کی حکم عدولی کی جرأت نہیں کر سکتا ۔ گاؤں والوں کی بیٹیوں کی قسمت کے فیصلے انہوں نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں اور مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا کہ اس ملک کے فیصلوں میں بھی زیادہ تر انہی لوگوں کا ہاتھ رہا ہے۔
پروفیسر، روشنی کیسے آئے گی جب تاریکی چھٹنے کانام نہیں لیتی۔ دکھ کیسے کم ہوں گے جب رِستے ہوئے زخموں پر گھونسے اور لاتیں ماری جاتی رہیں گی، جب ’’کمیوں‘‘ کی عورتیں وڈیروں کے گناہوں کا بوجھ اٹھائے پھریں گی اور انصاف نہیں ہوگا۔پروفیسر کبھی سوچا تم نے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post