کالم

کاش ہم سوچ پاتے ! : یوسف خالد

مسائل کس طرح حل ہوں کہ ہم نے
کبھی زحمت نہیں کی سوچنے کی

ہم اپنے معاشرے میں مال و زر جمع کرنے والے طبقات کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ایک طبقہ وہ ہے جو مستقل عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے – اس طبقہ کے لوگ اس لیے مال و دولت اکٹھا کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ انہیں ہر گھڑی یہ فکر رہتی ہے کہ بچوں کی تعلیم کیسے مکمل ہوگی ان کی شادیاں کیسے کرنی ہیں – معاشرے میں اپنی سفید پوشی کا بھرم کیسے رکھنا ہے – اور خاندانی مقام و مرتبہ کی حفاظت کیسے کرنی ہے وغیرہ وغیرہ – یہ تمام فکر مندیاں خوف کا روپ دھار کر لا شعور کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں – لہٰذا اس خوف کا مقابلہ کرنے کے لیے مال و دولت جمع کرنے کو ضروری خیال کیا جاتا ہے – اس طبقے کے لوگ عمر بھر اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں – رسم و رواج کی چکی میں پستے چلے جاتے ہیں – ان کی زندگی میں کوئی بڑا مقصد نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ حقیقی خوشی سے واقف ہوتے ہیں – ان کے نزدیک اہم بات یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کے گرد جو حصار بنا رکھا ہے اسے قائم رہنا چاہیے – اس طبقے کی نفسیاتی الجھنیں مال و زر کے ہونے اور نہ ہونے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہیں –
دوسرا طبقہ اسی طبقہ کی ایک برتر سطح سے تعلق رکھتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہ طبقہ بتدریج مال و دولت اکٹھا کرتے کرتے ہوسِ زر میں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے – اور ان کی یہ ہوس انہیں ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر اکساتی رہتی ہے – وقت کے ساتھ ساتھ ان کی یہ بیماری بڑھتی چلی جاتی ہے – یہ بہت زیادہ مال و اسباب اکٹھا کر لیتے ہیں اور پھر اس مال و زر کی حفاظت کے لیے طاقت کے ذرائع پر قبضہ کرنا شروع کر دیتے ہیں – دیکھا جائے تو ان کی زندگی کا واحد مقصد دولت جمع کرنا اور اس کی حفاظت کے لیے انتظامات کرنا ہوتا ہے – زندگی ان کے لیے کوئی بر تر مقصد نہیں رکھتی – یہ ایک دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں اور آگے سے آگے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں – ان کی پوری زندگی جھوٹ، مکرو فریب اور بد دیانتی پر مبنی ہوتی ہے – ان کے نزدیک معاشرہ،تہذیب ،تمدن،اخلاقیات، ایثار اور حب الوطنی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی –
یہی وہ طبقہ ہے جو مسائل کی جڑ ہے – ان کی نہ ختم ہونے والی بھوک پورے معاشرے کو افلاس کی تاریکیوں میں دھکیل دیتی ہے – اور معاشرے میں معاشی انصاف دم توڑنے لگتا ہے –
سرمایہ دارانہ نظام انہیں لوگوں کی سر گرمیوں سے تقویت پاتا ہے – اور انہیں کے کردار کی وجہ سے معاشی استحصال میں اضافہ ہوتا ہے – اور نتیجتآ معاشرے کے کمزور طبقات کمزور تر ہوتے چلے جاتے ہیں
موجودہ عہد کا اگر بین الاقوامی سطح پر جائزہ لیا جائے تو پوری دنیا میں اس سرمایہ دارانہ نظام نے کمزور طبقات کو یر غمال بنایا ہوا ہے- دولت کا ارتکاز غربت میں اضافے کا باعث ہے – اس سرمایہ دارانہ نظام کو شکست دینے کے لیے بہت سی تحریکیں چلیں – ان میں اشتراکیت زیادہ قابلِ ذکر ہے کہ جس نے دولت کی تقسیم کے لیے الگ نظریہ متعارف کروایا اور کسی حد تک سرمایہ دارانہ نظام کی رفتار کم کی -لیکن  یہ نظام بھی زیادہ دیر نہ چل سکا اور بالآخر سرمایہ دار کی چالوں سے شکست کھا گیا –
اس وقت پوری دنیا دولت کے ارتکاز اور اس کی غیر منصفانہ تقسیم کی سزا بھگت رہی ہے –
سوال یہ ہے کہ علاج کیا ہے ؟
اقبال کا ایک شعر اس حوالے سے انتہائی اہم ہے انہوں نے کہا تھا

تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہو
اقبال کے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام کو اگر تمدن کی بنیاد بنایا جائے گا تو علم و حکمت کی فسوں کاری بھی اس تمدن کو مضبوط نہیں کر سکے گی – سبب یہ ہے کہ یہ نظام مادی ترقی کی رفتار تو تیز کر سکتا ہے مگر انسانوں کی روح کے زخم نہیں بھر سکتا – نئی نئی ایجادات کر سکتا ہے علوم کی نئی نئی صورتیں دریافت کر سکتا ہے مگر مادہ پرستانہ فکر سے دست بردار نہیں ہو سکتا اور طاقت کے نشے میں اور حصولِ زر کی خواہش میں ہر انسانی قدر کو روندتا چلا جاتا ہے اس وقت اگر بڑی طاقتوں کے اعمال پر نظر ڈالیں توان کا خبث باطن پوری طرح عیاں ہو جاتا ہے – پوری دنیا میں طاقت ور ملک کمزور ممالک کا استحصال کر رہے ہیں – ایسا کوئی نظام جو نسل انسانی کے لیے معاشی،سماجی اور سیاسی انصاف پر مبنی نہ ہو کسی طور عالمگیر اعتبار کا حامل نہیں ہو سکتا –
سوچنے سمجھنے والے اذہان آج بھی اس متبادل نظام کی تلاش میں ہیں جو اس ظالمانہ نظام سے کرہ ارض کو نجات دلا سکے –
اس ساری صورتِ حال میں اسلام کا سیاسی ،اخلاقی و معاشی نظام ایک متبادل نظام کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے – ہمارے مفکرین نے کبھی یہ سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ وہ دنیا کو اس آفاقی نظام سے کما حقہُ متعارف کرا سکیں – اور پوری اسلامی دنیا میں کوئی ایک ایسی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں لا سکیں جو دنیا کے لیے ایک ماڈل کا درجہ حاصل کر لے – ہمارا سارا زور ماضی کے کارناموں کا تذکرہ کرنے پہ صرف ہو رہا ہے – ہم دنیا کو اپنی شاندار تاریخ کی طرف متوجہ کرنے میں لگے ہیں اور پدرم سلطان بود کی رٹ لگاتے چلے جا رہے ہیں- حیرت اس بات پر ہے کہ عربی ہوں یا عجمی ہم سب نے اسلام کی فکر اور روح پہ توجہ دینے کی بجائے محض عبادات اور مذہبی رسوم تک دین کو محدود کر دیا ہے – اور اس کی عالمگیر حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مرتکب ہوئے ہیں – ہمارے تعلیمی ادارے ہماری دانش گاہیں اسلام کی روح کو سمجھنے کے لیے کوئی پروگرام مرتب نہیں کر سکے – بلکہ اس کے برعکس ہر اس سوچ کو رد کرنے میں حصہ دار ہیں جس کا تعلق کسی نہ کسی طرح اسلام کی روح کو سمجھنے کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے – اس کی ایک مثال اقبال کو نصاب سے بے دخل کرنے کی صورت میں ہمارے سامنے ہے – فکر اقبال جو نوجوانوں کو نئے جہان تخلیق کرنے اور تحقیق اور جستجو پہ مائل کر سکتی تھی ان کی کردار سازی کر سکتی تھی اور انہیں اسلام کے جواب دہی کے نظام سے منسلک کر سکتی تھی اس فکر کو بڑی بے رحمی سے طلبا سے دور کر دیا گیا ہے – اقبال کی دانش نے ہماری کمزوریوں کی نشان دہی بھی کی تھی اور اس کا علاج بھی تجویز کیا تھا اور یہی نہیں عالمی سطح پر بھی اسلام کی حقانیت اور اسلام کی اصل روح سے انسانوں کو متعارف کروانے میں اپنا تخلیقی جوہر استعمال کیا تھا مگر ہم نے اقبال کے پیغام کو نہ خود سمجھا نہ اسے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی – اقبال کا پیغام در حقیقت دین اسلام کی روح کا ترجمان ہے – ہم نے اقبال شناسی کے ادارے تو بنائے ،ان اداروں کے تحت مذاکرے اور تقریبات کا اہتمام بھی کیا لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان اداروں کی کارکردگی سے کیا مقاصد حاصل ہوئے – کیا ان اداروں کی محنت کے نتیجہ میں فکر اقبال کو فروغ ملا –

یا ریاستی سطح پر کوئی بیانیہ وجود میں آیا ؟
دیکھا جائے تو فکر و عمل میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی – ان گنت لوگوں نے اقبالیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کییں ہیں ، بے شمار کتب شائع ہوئی ہیں مگر فکری افلاس کی صورت بد سے بد تر ہوتی چلی گئی ہے – اس صورتِ حال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے سامنے ہمارے مقاصد نہیں تھے یا مقاصد کے حصول کے لیے مطلوب صلاحیت کا فقدان تھا-
مذکورہ بالا سطور کے بطن سے جو سوالات پیدا ہوئے ہیں ان کے جوابات تلاش کرنے کی ضرورت ہے – احباب سے گزارش ہے کہ میری اس نا مکمل سی تحریر کو اپنی آراء سے نوازیں اور تجاویز پیش کریں کہ کیسے ہم اپنے فکری انحطاط سے نکل سکتے ہیں

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

کالم

ترقی یا پروموشن ۔۔۔۔ خوش قسمتی یا کچھ اور

  • جولائی 11, 2019
ترجمہ : حمیداللہ خٹک کون ہے جوزندگی میں ترقی نہ چاہتاہو؟ تقریباًہرفرد ترقی کی زینے پر چڑھنے کا خواب دیکھتا
کالم

کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی

  • اگست 6, 2019
از : یوسف خالد کشمیر جل رہا ہے اور دنیا بے حسی کی تصویر بنی ہوئی ہے — دنیا کی