چراغ ڈھونڈ نے نکلوں تو صبح ہو جا ئے : ناصرعلی سید

اب تو جیسے ہماری مجلسی زندگی کو خیال و خواب ہوئے ایک یگ بیت گیا ہے،کیفی اعظمی نے کہا ہے کہ
آج سو چا تو آنسو بھر آئے
مدّ تیں ہو گئیں مسکرائے
بے تکلف دوستوں کے ساتھ گزرا ہوا وقت ہمیشہ توانائی بحال کرنے کا بہانہ ہوا کرتا ہے لیکن اب کے ہم سب اپنے آپ میں سمٹ کر اپنے اپنے گھروندں میں بند ہو کر تنہائی کا کوہ ِ بے ستوں کاٹنے پر مامور کر دئیے گئے ہیں، حلقہ ارباب ذوق میں اب کے اسد محمود خان کا افسانہ تنقید کے لئے پیش ہو نا تھا،کار ادب کے لئے اپنے فرائض منصبی کے مصروف شب و روز میں سے پچیسواں گھنٹہ نکالنے والے افسانہ نگار اسد محمود خان بلا تکان لکھتے ہیں،لکھتے چلے جاتے ہیں، ناول و خاکہ و افسانہ کی کتا بوں کی تعداد دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بھی زیادہ ہو چکی ہے مگر توجہ، محبت اور تائید ِ غیبی کی وجہ سے کہیں بھی ان کے ہاتھ سے معیار کا دامن چھوٹتا دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ، لکھتے ہوئے وہ جس دھندلی دھندلی فضا میں اور جس ز خود رفتگی کی کیفیت میں ادب تخلیق کر تے ہیں ان کے پڑھنے والے بھی خود کو اسی خواب ناک فضا میں محسوس کرنے لگتے ہیں، لکھنا خصوصا ناول لکھنا ان کے لئے ایک ادبی سرگرمی سے کہیں زیادہ یک روحانی تجربہ بن جاتا ہے اور جسے وہ بلا کی چابکدستی سے اپنے پڑھنے والوں کے لئے بھی ایک ذہنی و قلبی واردات بنا دیتے ہیں، مجھے اسد محمود خان کی کتاب ”میں ماں اور خدا“ کے ساتھ وقت گزار کر اس بات کا شدت سے احساس ہوا اور اب ان کے ناول ”پیشی“ پڑھتے ہوئے بھی ہو رہا ہے، ان کا فون آ یا کہ ٹیکسلا سے معروف شاعر اور ہمدم دیرینہ حفیظ اللہ بادل پشاور آ رہے ہیں،تو کیا یہ ممکن ہے کہ میں ان کو لے کر آپ کی طرف آ جاؤں اور پھر مل کر حلقہ کے اجلاس میں چلے جائیں، میں نے کہا کہ پشاور میں یوں تو ہر وقت بادل کی ضرورت رہتی ہے اور ان دنوں تو جاڑے کے خشک موسموں میں بادل کی بہت ضرورت ہے سو چلے آئیے جی۔ مجھے یاد آیا کہ یہ حفیظ اللہ بادل ہی تھے جب چند برس اْدھر ایک دن ان کا فون آیا تھا کہ میرے بہت ہی دل کے قریب دوست افسانہ نگار اسد محمود خان کی تعیناتی پشاور میں ہو گئی ہے،پہلی ہی فرصت میں اس سے رابطہ کر کے پشاور کے قلم قبیلہ سے اسے ملا دو، سو یہی کیا،پہلی ہی ملاقات میں ہی لگا جیسے صدیوں کی آشنائی ہے یا جیسا کہ فراز نے کہا ”وہ خوش مزاج اگر تھا تو میرؔ میں بھی نہ تھا اس لئے حلقہ کی نشستوں سے نجی نشستوں اور پریس کلب سے لے کر اباسین آرٹس کونسل تک کے احباب سے ملاقاتوں اور محبتوں کے رشتے بنتے اور بڑھتے گئے بلکہ مصروفیت کا یہ عالم ہو گیا کہ ہمارے آپس کی ملاقاتیں سمٹ گئیں، اور ہر بار فون پر گفتگو ملاقات کے وعدے پر ختم ہوتی، کچھ ہی دن پہلے اس ملاقات کے وعدے کو ایفا کرنے پر متفق ہوئے تو میں مبتلا شخص پانچ بجے عصر کی بجائے عشا کے بعد پہنچا، ہماری تو پھر بھی بات ہو جاتی تھی مگر فیمیلز کو ملے ایک زمانہ ہو چکا تھا، دیر سے جانے کی وجہ سے واپسی بھی بہت دیر سے اس وقت ہوئی جب گھڑیوں میں تاریخ کو بدلے ہوئے بھی گھنٹہ ڈیڑھ بیت چلا تھا، اسی ملاقات میں یہ بھی طے ہوا کہ حلقے کے سیکریٹری سید شکیل نایاب سے کہہ کر اسد محمود خان کا افسانہ دوستوں کے نقد و نظر کے لئے رکھا جائے،اور یہ وہی دن تھا کہ حلقہ کی نشست سے کچھ پہلے میرے ہاں دوستوں کی خوب منڈلی جمی، اسد محمود اور حفیظ اللہ بادل کے ساتھ ان کے ایک اور دوست محمد ذاکر بھی تھے، جن سے یہ میری پہلی ملاقات تھی مگر حرام ہو جو محمد ذاکر نے پہلی ملاقات کے جملہ آداب میں سے کسی ایک ایک بھی خیال کیا ہو کیونکہ ہم بے تکلف دوستوں نے ملتے ہی جن تیز و تند جملوں اور بلند آہنگ قہقہوں کا طوفان بپا کیا تو ان میں سب سے نمایاں اور بلند بانگ قہقہے محمد ذاکر کے تھے۔ میں نے کہا ہے نا کہ ” اور اب تو جیسے ہماری مجلسی زندگی کو خیال و خواب ہوئے ایک یگ بیت گیا“ لیکن دوستوں کے آتے ہی گزشتہ کل کے سارے ہنگامے لوٹ آئے بہت دنوں بعد بہت انجوائے کیا،مغرب پڑھ کر حلقہ کی نشست میں پہنچے،راستے میں سے مشتاق شباب کو بھی ساتھ لے لیا، نشست بہت بہت بھرپور رہی، تنقیدی نشست کے بعد احباب نے ”اردو سائنس بورڈ،پشاور“ کے سبکدوش ہونے والے ایک دوست کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور تحائف دئیے، نیک محمد گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ادارے سے وابستہ رہا ہے اور چونکہ یہ شہر کے قلب میں واقع ہے اس لئے پشاور قلم قبیلہ کی اسّی فی صد نشستیں اس ادارے کے ریڈنگ روم میں ہوتی ہیں، معلوم نہیں یہ سلسلہ کب سے جاری ہے مگر جب میں ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں پشاور آیا تو تب سے اردو،پشتو اور ہندکو ادبی نشستیں ایک تواتر سے یہاں ہو رہی ہیں، گزشتہ شام کتنے ہی مہربان، شفیق اور روشن چہرے آنکھوں میں پھرتے رہے، جو اس ادارے کی سیڑھیاں اترتے چڑھتے رہے، رضا ہمدانی استاد تو جب تک لوک ورثہ میں تھے وہ بھی یہیں ہوتے تھے یہ ادارہ پہلے پہل مرکزی بورڈ برائے اردو ترقی کہلایا یہ ساٹھ کی دہائی کے اوائل کی بات ہے مگر پھر بیس برس بعد اس کا نام ”اردو سائنس بورڈ“ رکھ دیا گیا، اب اسی نام سے کام کر رہا ہے، ستر کی دہائی میں ایک بہت ہی ملنسار،وضعدار اور بہت ہی علم اور ادب دوست شخصیت فضل معبود یہاں کے مدارالمہام تھی ،شاید انہی کے دور میں ادبی نشستوں کا آغاز ہوا ہو گا، جس طرح میں نے انہی میزوں پر فارغ بخاری، شوکت واسطی،اشرف بخاری،شرر نعمانی، قلند مومند،خاطر غزنوی ڈاکٹر اعظم اعظم اور محسن احسان ساتھ ساتھ زیتون بانو، قاسم حسرت، ماجد سرحدی، غلام محمد قاصر اور سجاد بابر سے لے کر آج کے نوو اردان ِ ادب تک بہت سے لوگوں کو دیکھا بات کی،سیکھا اور سیکھ رہا ہوں اسی طرح پچھلی چند دہائیوں سے ہنس مکھ نیک محمد نے بھی ادبی شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں،ان کی ذمہ داری اور ڈیوٹی باقی تنظیموں کی نسبت حلقہ ارباب ذوق کے احباب سے قدرے کٹھن یوں تھی کہ باقی تنظیمیں اپنی نشستیں مغرب سے پہلے ختم کر لیتی ہیں جب کہ حلقہ کی نشست تو شروع ہی مغرب کی نماز کے فوراََ بعد ہو تی ہے، یوں دیر تک جاری رہتی ہے جس کی وجہ سے نیک محمد کو بھی دیر تک ڈیوٹی انجام دینا پڑتی،مگر کبھی اس نے اس کا گلہ شکوہ نہیں کیا، وہ چپ کر کے بیٹھے رہتے،چائے قہوہ سرو کرتے جو ان کی ذمہ داری بھی نہ تھی مگر محض اپنی محبت اور بھلے منسی میں یہ خدمات انجام دیتے رہے ہیں، اب وہ واپس اپنے علاقے تھانہ درگئی لوٹ جائیں گے،مگر گلے ملتے ہوئے انہوں نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ وہاں کب دل لگے گا،میں اکثر ملنے آیا کروں گا جی۔،اردو سائنس بورڈ کی سیڑھیاں اترتے ہو ئے میرا دل بھی بھر آیا تھا، اس لئے گھر لوٹنے کی بجائے اسد محمود خان سے میں نے کہا ٹیکسلا سے بطور خاص حلقہ کی اس نشست کے لئے آنے والے دوستوں کو عشائیے کے لئے روک لیتے ہیں، اسی بہانے، ملاقات کچھ اور طول کھینچ لے گی، اور یہ خوب ہوا کہ اس طرح ہم نے کچھ بچھڑنے والوں دوستوں کو بھی یاد کر لیا،بادلؔ کہہ رہا تھا کہ جب سجاد بابر بحریہ کے ہسپتال میں تھے تو میں حلیم قریشی کے ساتھ ان کی عیادت کو گیا تھا، یہ اچھا ہوا ورنہ یہ قلق بہت تنگ کرتا،سجاد بابر کی بیماری کا ذکر چلا تو میں نے پھر تفصیل سے میجر عامر کی ادب دوستی اور بے کراں محبتوں کا ذکر کیا کہ کس طرح کالم میں ان کی بیماری کا ذکر پڑھتے ہی وہ اپنی بیماری بھول کر ان کے علاج کے لئے سارے انتظامات کرنے نکل پڑے تھے،۔پھر کتنی ہی دیر تک سجاد بابر کے شعر ہم ایک دوسرے کو سناتے رہے، جب ہم ریستوران سے باہر نکلے تو رات کی زلفیں بھیگ چلی تھی ماحول میں ایک اداسی اور خاموشی سی رچی ہوئی تھی سامنے ہی آسمان کے مغربی کنارے کی طرف قدرے جھکتا ہوا رجب کی ا بتدائی راتوں کا چاند ٹانکا ہوا تھا، ہم سب دوست سجاد بابر کے شعر وں کی اوس میں بھیگتے ہوئے ایک دوسرے سے الگ ہو گئے،۔ ۔وہ رات آنکھوں میں کٹی
اندھیرے گھر کی نئی آ ہٹوں سے گھبر ا کر
چراغ ڈھونڈنے نکلوں تو صبح ہو جائے

(بشکریہ ادب سرائے)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post