وہ رنگ اتر ہی گئے جو اْترنے والے تھے : ناصر علی سیّد

(ایک کالم آغازِ زمستاں کی بارشوں کے لیے)

آغاز زمستان کی بارشوں کابہت انتظار کیا جاتا ہے کیونکہ بارش سے پہلے کی سردی، خشک ہونے کی وجہ سے طبیعتوں میں ایک بے نام سی بے کیفی پیدا کر رہی ہوتی ہے اور کبھی کبھی جب دیر تک بارش نہیں ہوتی تو جیسے سردی رینگ رینگ کر آگے بڑھ رہی ہوتی ہے گزشتہ کچھ برسوں میں دسمبر کے وسط تک موسم کی شدت دیکھنے میں نہیں آئی تھی، موسموں کے اپنے اوقات اور اپنا ایک مزاج ہوتا ہے اور ہم آپ اس کے اس لئے بھی تابع ہوتے ہیں کہ باہر کے موسم اندر کے موسموں کو بھی گد گداتے رہتے ہیں لاکھ کہا جائے کہ دل کے موسم اپنی چال چلتے ہیں اور ہندکو روزمرہ کے مطابق ”باغ دی بہار اے کہ دل دی بہاراے“ مگر یہ بھی سچ ہے کہ باغ کی بہار دل کو بھی ساتھ لے کر چلنے لگتی ہے، اس لئے شاعر لوگ بھی ہجر کے موسموں کو وصل کی سرشاریوں سے زیادہ معتبر گردانتے ہیں، بہزاد لکھنوی نے کہا ہے کہ
اے رہبر ِ کامل، چلنے کو تیار تو ہوں بس یاد رہے
اْس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے
گویا جو مزہ تلاش اور جستجو میں ہے بھلا وہ کچھ پانے میں کب ہے، منزل پر پہنچنے کے بعد اسی بے کیفی کا سامنا ہوتا ہے جو بے کیفی آ غاز زمستان میں بارش نہ ہونے سے طبیعتوں میں در آتی ہے، اب کے برس قدرے دیر سے سہی مگر بارشوں کا ایک سلسلہ شروع تو ہوا پشاور کے حصّے کے آسمان نے بھی بادلوں کو مہمان بنائے رکھا اور وقفے وقفے سے بارش کبھی بوندا باندی اور کبھی ہلکے شاور کی سی برسی تاہم وہ جو ایک بھرپور برسات کا سا سماں ہوتا ہے نہیں ہوا، یہ اور بات کہ پشاور کے نشیبی علاقے اس کے بھی متحمل نہیں ہو سکے تھے، کہا جاتا ہے کہ اس موسم کی بارشیں گرد و غبار کی آلودگی کو ختم کر دیتی ہیں سو بہت سی موسمی بیما ریاں بھی اڑنچھو ہو جاتی ہیں، لیکن اب کے برس سردی گزشتہ برس کی طرح بلکہ اس بھی دو ہاتھ آ گے بڑہ کر ایسی وبائی مرض کو ساتھ لے کر آئی ہے کہ طبیعت میں ہلکی سی گرانی میں بھی ذہن سب سے پہلے اسی کی طرف جاتا ہے اور جسمانی بیماری رفتہ رفتہ نفسیاتی بیماری میں بدل چکی ہے، سردی کے موسم میں ہمیشہ سے بزرگ یہی کہا کرتے تھے کہ کم از کم سینے کو گرم رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے اب سوچتا ہوں کہ واقعی اس موسم کی بہت سی موسمی بیماریوں کاآغاز چیسٹ اور تھروٹ کے انفیکشن سے ہو تا ہے، اب تو خیر سردی سے بچاؤ کے لئے سو سو چیزیں دستیاب ہیں،مگر ہمارے بچپن میں یہ سب کم کم ہمیں میسر تھا لے دے کے بس ایک آدھ اونی سویٹر ہوتا جس میں پورا سیزن گزارا جاتا البتہ سردی زیادہ پڑنے کی صورت میں سکول یونیفارم کے نیچے ایک اورگرم جوڑا پہن کر سکول جانا پڑتا تھا اور بارش کے دنوں میں اناج کی بوریوں سے برقعہ نما بنا کر سر کو ڈھک لیا جاتا تھا بوری کتنی دیر بارش روک سکتی تھی بس اتنا تھا کہ پانی براہ راست جسم تک پہنچنے نہیں دیتی تھی، برساتی اور چھاتے کا رواج تو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہی شروع ہوا اور مجھے یاد ہے کہ میں نے خود پہلی چھتری اس زمانے میں غیر ملکی سامان کی معروف لنڈی کوتل مارکیٹ سے اس وقت خریدی تھی جب میں گورنمنٹ کالج نو شہرہ میں سال اول کا طالب علم تھا اور ہمیں لنڈی کوتل سیر کے لئے لے جایا گیا تھا، لنڈی کوتل مارکیٹ کا اپنا ایک دور تھا مگر دور ہونے کی وجہ سے پشاور نے اسے اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا چنانچہ پہلے باڑہ اور پھر انڈسٹریل سٹیٹ(کارخانو) تک اسے لے آئے مزید سہولت کی خاطر ایک منی مارکیٹ پشاور صدر میں بھی قائم کر دی،لیکن لنڈی کوتل مارکیٹ کی جو آن بان شان تھی وہ بات بعد کے مارکیٹ میں بھیڑ بھاڑ زیادہ ہونے اور ان گنت پلازے بننے کے بعد بھی نہیں بن پائی، یا شاید یہ میرا ناسٹلجیا ہے جو ماضی کو بہت زوم کر کے بڑا اور دلچسپ بنا دیتا ہے، بات پہلی چھتری خریدنے کی تھی جس کی وجہ سے بہت دنوں تک مجھے بارش کا انتظار کر نا پڑا مگر اس برس پورا سیزن یا تو بارشیں نہیں ہوئیں یا پھر رات کے وقت ہوتیں صبح جب جاگتا تو نرم، روپیلی اور دھلی دھلی سی دھوپ سے گھر کا آنگن بھرا ہوتا۔ بہت سوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہو گا مگر میرے ساتھ تو بعد کے زمانوں میں بھی اس طرح کے واقعات بہت ہو تے رہے ہیں، وہ جو کہا جاتا ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے،یہ بات یقینا عمومی ہوگی مگربہت سے لوگوں کے ساتھ زندگی بھر یہ کھلواڑ جاری رہتا ہے، جیسے ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ ایک صاحب اپنی قسمت کو کوستے ہوئے کہہ رہے تھے کہ یار اب آپ اندازہ لگائیں کہ میں قذافی سٹیڈیم میں پاک بھارت کرکٹ میچ کا فائنل دیکھ رہا تھا سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، اتفاق سے اسی دن میں نے سر منڈایا ہوا تھا،ہزاروں کا پر جوش ہجوم تھا اچانک جیسے کوئی چیز پٹاخ سے سر پر پڑی میں نے سر پر ہاتھ پھیرا تو معلوم ہوا کسی پرندے کی بیٹ تھی (بیڈ ٹیسٹ کے لئے معذرت) اب اتنے بڑے سٹیڈیم کے ہزارہا تماشائیوں کو چھوڑ کر کو اس پرندے نے میرے تازہ منڈے ہوئے سرکو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا۔ وہ صاحب اسے اتفاق ماننے کو تیار ہی نہ تھے، خیر یہ بات آج کی نہیں کل بھی خواجہ حیدر علی آتش کو یہی شکایت تھی،
نہ پوچھ عالم ِ برگشتہ طالعی ئ آتش
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے
اور کچھ شاعر تو کبھی کبھی اس کو مکا فات عمل کا نام بھی دیتے ہیں ساٹھ کی دہائی کے وسط میں جب میں ابھی پشاور بھی نہیں آیا تھا میں نے اس وقت کے ایک روزنامہ،انجام میں پشاور میں ہونے والے کسی مشاعرہ کی روداد پڑھی تھی جس کا ایک شعر مجھے اب بھی یاد ہے مگر شاعر کا نام ذہن میں نہیں رہا،یوں بھی یہ میرے سکول کا زمانہ تھا، شعر کچھ یوں تھا کہ
میں نے توڑی جو صراحی تو گھر آئے بادل
دوستو اس کو مکا فات ِ عمل کہتے ہیں
اس کو نام کوئی بھی دیا جائے ایسا اکثر ہوتا ہے، میرے ساتھ تو لڑکپن سے لے کر اب تک ہو تا رہا ہے چھتری خریدی تو بارشیں روٹھ گئیں، پھر موٹر بائیک اکثر اس شام خراب ہوجاتا جس کے دوسرے دن میکینک کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی،بلکہ گلشن رحمان میں رہائش کے زمانے میں تو اکثر میرے ہمسائے مجھے کہتے تھے کہ ”گاڑی سروس نہیں کراتے“ ، بمشکل مصروفیت میں سے وقت نکال کر گاڑی سروس کراتا تو اس رات چھا چھوں مینہ برستا،میں بہت دیر میں سمجھا کہ میرے ہمسایوں کی یہ فرمائش دراصل بارش کو بلانے کا ایک مجرب ٹوٹکا تھا، بہرحال بارشیں ساون بھادوں کی ہوں،چیت کی یا پوہ ماگھ پھاگن کی موسم کو اپنی آمد سے خوشگوار بنا دیتی ہیں، ہر چیز جیسے دھلی دھلی سی لگتی ہے، مگر اب ضرورت ایسی بارش کی ہے جو اس وبا کی رت کو دھو ڈالے، او ر جمال احسانی کی طرح سب کہہ سکیں۔۔
تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

You might also like
  1. گمنام says

    کیا ہی خوبصورت اور دل کو کھینچنے والی تحریر ہے

  2. یوسف خالد says

    بہت خوب عمدہ تحریر ہے بہت سی جزئیات کا احاطہ کرتی ہوئی –

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post