وبا کے دن اور اکرم سعید کی دانش : اقتدار جاوید

 

پیش نوشت;
کَر شُدم تا چند شورِ حقّ و باطل بِشنَوَم
بِشْکَنَد ایں ساز ہا تا چیزے از دل بِشنَوَم
بیدل
کَر ہوا ہوں، کب تلک شورِ حق و باطل سنوں
بند ہو یہ ساز، تا کچھ تو صدائے دل سنوں
ترجمہ فانی صوابوی
الفاظ کی وضاحت:

کَر شدن: بہرا ہونا

پنجابی زبان میں گنتی کے چند ہی ناول ہیں یا اسے یوں کہنا چاہییے کہ پنجابی زبان کا ناول اہل پنجاب پر ذرا کم کم مہربان ہے۔اس بات میں بہت کچھ پوشیدہ ہے اہلِ پنجاب کی اپنی زبان سے بے اعتناٸی ہے یا کچھ اور کہ اس موضوع پر لوگ باگ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔بہت کم پنجابی ادیب ایسے ہیں جو پنجابی زبان میں اظہار کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اردو کے بڑے ادیب زیادہ تر پنجابی ہیں۔ اقبال سے لے کر ظفر اقبال تک سب پنجابی ہیں۔ہمارے صوبے کے ادیب زیادہ تر اردو زبان کو ترجیح دیتے ہیں۔یہاں تک تو درست ہے کہ اردو ہماری قومی اور رابطے کی زبان ہے پورے ملک کے کسی کونے میں چلے جاٸیے اور آپ آسانی سے اردو میں بات کر بھی سکتے ہیں اور اگلا آدمی اردو زبان کو سمجھ بھی لیتا ہے۔اب یہ معاملہ ذرا پیچیدہ ہے کہ عام بول چال کے لیے بھی اردو میں فصاحت ضروری ہے یا تھوڑی بہت غلطی کی گنجاٸش ہے۔یہ تمام باتیں اس وقت یاد آٸیں جب سعید اکرم پنجابی ناول کے بارے میں بات کر رہے تھے۔سوال یہ تھا کہ پنجابی میں کم ناول کیوں لکھے گٸے ہیں یا کیا واقعی پنجابی زبان میں گنتی کے ہی چند ناول ہیں جن کا ذکر ہونا چاہییے۔پنجابی میں ناول کا ہی کیا ذکر اس زبان کو کبھی اہمیت کے قابل سمجھا ہی نہیں گیا۔یہ صورتِ حال مشرقی یا بھارتی پنجاب میں نہیں ہے۔وہاں کثیر تعداد میں پنجابی ادب پر کام ہو رہا ہے اور دوٸم ان کا ذریعہ تعلیم مادری زبان ہے جس کہ وجہ سے بچپن میں نہ صرف بچوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے بلکہ ان کو کسی بدیسی زبان کا سہارا لینا نہیں پڑتا اور نصاب کی کتب سمجھنے میں کسی کا محتاج بھی نہیں ہونا پڑتا۔شرحِ خواندگی میں وہ ہم سے کہیں آگے ہیں۔مقامِ افسوس ہے کہ بھوٹان کی شرحِ خواندگی یہاں پنجاب سے زیادہ ہے۔
ہماری ذہنی پسماندگی کی ایک وجہ مادری زبان سے دوری ہے اس پر مستزاد جب ہم اپنی مادری زبان میں گفتگو نہیں کرتے تو خود پر عدم اعتمادی بڑھتی ہے اور یوں ہم نہ ہیوں میں رہتے ہیں نہ شیوں میں۔یہ ضروری ہے کہ بچوں کی شخصیت سازی کے لیے اس کی ماں بولی میں ہی بات چیت کی جاٸے اور وہی زبان ذریعہ تعلیم بھی ہو۔ہمارے پنجاب کا ایک عام سکول میں پڑھتے بچے اور مشرقی پنجاب کے کسی سکھ بچے سے موازنہ کیجیے تو معلوم ہو جاٸے گا ان دونوں کی خود اعتمادی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔سید ضمیر جعفری کے نواسے حامد شاہ کا کہنا ہے کہ کسی انگلش میڈیم سکول کے بچے کو عام سرکاری سکول میں داخل کریں وہ کبھی اس ذہانت کا مظاہرہ نہیں کر سکے گا جو وہ انگلش میڈیم سکول میں کر سکتا ہے اور کر رہا ہے۔سکھ کمیونٹی تعلیم میں کسی دوسری ہندوستانی قوم سے پیچھے نہیں ہے نہ ذہانت میں نہ خود اعتمادی میں۔
یہ تمام اور اس طرح کی اور کٸی دکھ بھری باتیں سعید اکرم سے مکالمے کے دوران یاد آتی رہیں جن کا کہنا تھا کہ پنجابی زبان میں بہت کم ناول لکھے گٸے ہیں اور اگر ان کے معیار کے حوالے سے گنتی کی جاٸے تو ان ناولوں کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ان کا پنجابی ناول پر بہت وقیع کام ہے کہ انہوں نے اب تک لکھے گٸے تمام پنجابی ناول پڑھے بھی ہیں اور ان پر لکھا بھی ہے۔ان گنتی کے چند ناولوں کو معیار کے حساب سے ترتیب دیں تو اسی مشرقی پنجاب کے گردیال سنگھ کا مڑھی دا دیوا سر فہرست ہے۔افضل احسن رندھاوا کے دونوں ناول دیوا تے دریا اور دوآبہ اور موخرالذکر رندھاوا کا ماسٹر پیس ہے۔منشا یاد کا ٹانواں ٹانواں تارے پر تنقيد کی ان کی پوری کتاب ہے اس میں صرف اسی ناول کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ سعید اکرم کا تھیسز یہ ہے کہ مذکورہ ناول واقعاتی طور پر کمزور بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔دونوں کا موضوع طبقاتی تقسیم ہے۔اُدھر کا دلت اور یہاں کا کمی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ٹانواں ٹانواں تارے کا ہیرو اپنی بیٹی کا رشتہ گاٶں کے ایک کمہار سے کرتا ہے، چوہدریوں کے مقابلے میں انتخاب لڑتا ہے اور بعد میں اسی ہیرو کو پاگل بنا دیتا ہے۔اس کا اظہار انہوں نے منشا یاد سے بھی کیا۔افضل رندھاوا کا ناول متحدہ پنجاب سے متعلق ہے اور زیادہ تر کردار سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی ناول پر اور ناول میں بیان کردہ متحدہ پنجاب پر شہباز ملک سوال و جواب میں ناراض ہوٸے اور سعید اکرم کا پی ایچ ڈی کھوہ کھاتے میں ڈال دیا۔مجھے اس طرح سعید اکرم کا کیریر بھی کھوہ کھاتے جانے پر بہت تکلیف ہوٸی کہ علمی اختلاف علمی بنیادوں پر کرنا چاہییے ذاتی عناد پر نہیں۔ پنجابی ناول کی تاریخ ایک سو سال سے کچھ کم ہے اور پہلا ناول جٹ دی کرتوت ہے جس کے مصنف میراں بخش منہاس ہیں (جو ہمارے دوست سلمان باسط کے دادا کے سگے بھاٸی تھے)۔یہ ایک اصلاحی ناول ہے۔ہٹ از ڈاکٹر محمد باقر کا ناول پتوکی کے ایک جاگیردار کے بارے میں ہے جس کی بیٹی کی شادی کینیڈا میں ایک ڈاکٹر سے ہو جاتی ہے جو اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا ہے تو گھر سے فرار ہو جاتی ہے مگر مصنف سے ناول سنبھالا نہیں گیا۔نذیر کہوٹ کے دو ناول ہیں ایک دریا برد جو انتہاٸی فضول اور دوسرا واہگہ ایک اعلیٰ درجے کا ناول ہے۔یہ اس پنجاب کا ذکر اذکار ہے جہاں دھاڑیں پڑتی ہیں حملہ آور آتے ہیں۔ یہ ناول پاکستان کی تخلیق سے پہلے کے پنجاب سے متعلق ہے۔اب شہباز ملک کا یہ کہنا کہ مشرقی پنجاب بھارت میں ہے اس کا پنجابی زبان سے کیا تعلق؟علمی طور پر نامناسب بات ہے کیونکہ پنجابی تو پانی پت اور دہلی تک بولی جاتی تھی اور 1911 سے پہلے تک دہلی بھی پنجاب میں شامل تھا۔اب اگر کسی ناول تقسیم سے پہلے پنجاب کو ڈسکس کیا جاتا ہے تو اس میں کیا براٸی ہے۔ جب انگریزوں نے دہلی پایہ تخت بنایا تو اور اسباب کے ساتھ یہ بھی ایک بڑا سبب تھا کہ پنجاب اور پنجابی کو کیسے قابو کیا جاٸے۔جنوب تو ان کے قبضے میں تھا کہ بنگال اور کرناٹک اٹھارہویں صدی میں ہی انہوں نے فتح کر لیے تھے۔
پس نوشت;
ادب سے محبت بھی وبا کے دنوں میں محبت کی طرح مہلک ہوتی ہے جس میں جان کی بازی لگتی ہے۔ادب بھی پوری محبت مانگتا ہے مانگے کی محبت سے اسے ازلی اور ابدی بیر ہے۔ہر دفعہ سعید اکرم سے ملنا ان کی باتیں سننا ان سے باتیں کرنا ایک خوش گوار کیفیت میں مبتلا کرتا ہے اور ایک تہذیب میں ڈھلے خرم ورک ساتھ ہوں تو وقت کے گزرنے کا احساس نہیں ہوتا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post