وبا کے دنوں میں لکھا گیا ایک کالم : ناصر علی سید

آباد کروں گا میں یہی دہر دو بارہ
مان لیجئے کہ یہ وہی دن ہیں جن کے لئے’ ہم ہوئے،تم ہوئے کہ میر ہوئے‘ ہمیشہ ترستے رہے ہیں بلکہ ہمارے گرو غالب آج ہو تے تو شاید زیادہ خوش ہو تے یہ اور بات کہ ہم ان کے بہت سے ایسے اشعار سے محروم ہو جاتے جس میں فرصت کے اْن شب و روز کی آرزو کی گئی ہے جو ہمیں ان دنوں میسر ہیں جیسے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے
ہر چند یہ فرصت اس طرح کی تو نہیں ہے جس کی آرزو کی گئی تھی، گویا فرصت کے یہ رات دن غیر مشروط نہیں ہیں کیونکہ اس فرصت کے ساتھ احتیاط کی پخ بھی لگی ہوئے ہے جسے بد قسمتی سے خبر گردی کے ماحول نے ایک خوف میں بدل کر رکھ دیا ہے۔غالب نے جب یار کے آنے کی دعا مانگی تھی توبڑی تاکید کے ساتھ کہا تھا کہ
رات کے وقت مے پئے، ساتھ رقیب کو لئے
آئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یوں
سو میری طرح کے مبتلا لوگوں نے فرصت کے جن دنوں کے میسر آنے کی دعائیں مانگی ہوں گی وہ دن آ تو گئے مگر دل میں ایک دھڑکا سا بھی لگا رہتا ہے، کتاب پڑھتے ہوئے اچانک کسی لفظ کے پیچھے سے ایک انجانے خوف کا چہرہ سر اٹھانے لگتا ہے کانوں میں کسی انہونی کے ہونے کی چاپ سنائی دینے لگتی ہے، گرد وپیش سے لپٹی ہوئی بے یقینی کی امر بیل سانس لینا شروع کر دیتی ہے، کبھی کا کہا ہوا اپنا شعر آنکھوں میں بے بسی کے سائے گہرے کر دیتا ہے
ایک انہونی کا ڈر ہے اور میں
دشت کا اندھا سفر ہے اور میں
یہ سب کیفیات خود ساختہ نہیں ہیں یہ کیفیات ”خبر ساختہ ہیں ۔چھوٹی سکرین کے ہاتھ پر بیعت کئے ہوئے جانے انجانے میں ہم اتنا آگے آ چکے ہیں کہ اس حوالے سے شاید ہی ہم سے زیادہ راسخ العقیدہ نسل ماضی میں کبھی رہی ہو۔ دور کیوں جائیے ذرا زلزلے کا خفیف سا جھٹکا محسوس ہوا اور یار لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے یا کنفرم کرنے کی بجائے پہلے سے آن ٹی وی سکرین کے آگے کھڑے ہو جاتے ہیں (کیونکہ ٹی وی کم کم گھروں میں کسی وقت بند ہوتا ہے،رات گئے بہ امر مجبوری بند بھی کیا جائے تو کتنی ہی دیر سکریں کو دیکھنا پڑتا ہے کہ کہیں کوئی خبررہ نہ جائے) ا ور جونہی زلزلہ کی خبر کا ٹکر چلتا ہے تو خوش ہو کر کہتے ہیں،”میں نے کہا نا کہ مجھے جھٹکا محسوس ہوا تھا“ اور جن کو محسوس نہیں ہوا تھا وہ خبر پڑھنے یا سننے کے بعد استغفار پڑھنا شروع کر تے ہیں، اس صورت حال میں موجودہ تکلیف دہ اور کٹھن دنوں میں خبر گردی پورے عروج پر ہے، اور چھوٹی سکرین پرمعلومات سے زیادہ اطلاعات کی ’میراتھن ریس‘ لگی ہوئی ہے، کل تک فلاں ملک اس وبا کی وجہ سے اموات کے لحاظ سے سب سے آ گے تھے آج فلاں ملک اتنے سکور کے ساتھ اس سے آ گے نکل گیا، فلاں دوسرے نمبر پر ہے آپ کے اعصاب کتنے بھی مضبوط کیوں نہ ہوں یہ افسوسناک صورت حال آپ کو زیر کر دیتی ہے، مایوسی بے بسی اور بے کسی،مان لیجئے، آپ کو زیادہ دیر ہیرو بننے نہیں دیتی، یہ خوف یا پریشانی دنیا سے جانے کی نہیں کہ وہ تو ایک اٹل حقیقت ہے، ساری عمر موت کی راہ تکنے والے اور ’موت کا اک دن معین ہے‘ کہنے والے غالب نے جس سال کو اپنے بچھڑنے کا سال قرار دیتے ہوئے اپنی تاریخ وفات تک کہہ دی تھی،جو غلط ثابت ہوئی حالانکہ اس برس وبا کی وجہ سے بہت سے لوگ جان ہار گئے تھے، اس حیوان ظریف نے کہا، کہ وبا کے دنوں میں مرنا گوارا نہ تھا۔ اسی طرح جب پروین شاکر ایک المناک ٹریفک حادثے میں دنیا سے رخصت ہوئیں تو ایک معاصر اخبار میں اس دن ان کا کالم شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ کراچی کے حالات کے پیش نظر میں نے وہاں سے ملنے والی ایک دعوت کے جواب میں دوستوں سے اس لئے معذرت کر دی،کہ میں ایسی کسی گولی سے مرنا نہیں چاہتی جس پر میرا نام نہ ہو۔ مگر وہی دن ان کا آخری دن ثابت ہوا سو خوف دنیا سے جانے کا نہیں انسان کی اس بے بسی کا ہے کہ آسمان پر کمندیں ڈالنے، دوسرے سیاروں کو زیر تسلط لانے اور سائنس،تکنالوجی اور طب کے میدان میں بڑ ے بڑے دعوے کرنے والوں نے ہتھیار پھینک دیئے، اپنی بے بسی کا اعلان کر دیا، اپنے عجز کا اظہار کر دیا اور اپنے خالق سے جتنے دور ہو ئے تھا اس کا اعتراف بھی کیا اس پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا اور معبد تو ایک کھلی سڑکوں اور بازاروں میں سجدہ ریز ہو کر معافی کے خواستگار بھی ہوئے، اور کچھ مایوس لوگ بے کسی اور مایوسی کے عالم میں بیک زبان ، زبان حال سے کہنے لگے
آسماں کو دیکھ کر کہتی ہے ہر اٹھتی نظر
دیکھ لی بس تیری دنیا، آخری سیٹی سنا
مایوسی کو کفر کہا گیا،اس مسئلہ کا حل مایوسی میں نہیں رجوع میں ہے،اور یہ جو فرصت کے شب و روز میسر آئے ہیں اسے غنیمت سمجھنا چاہیئے اور دوڑ بھاگ کے دنوں سے ان دنوں جو سانس لینے کا موقع ملا ہے اس میں خالق سے ٹوٹا رابطہ بحال کرنے کی کوشش کیجئے، خود سے مکالمہ کیجئے اور جس کام کے لئے خالق نے آپ کو چنا ہے،اس کو پوری توانائی ہی سے نہیں پوری دیانتداری سے بھی کرنے کی سعی کیجئے، چند مہینے پیشتر میں جب نیویارک میں تھا تو دوست ِ عزیز کامریڈ شاہد سے مختلف مو ضوعات پر گفتگو ہو تی رہتی، بلا کے صاحب مطالعہ،محبتی اور انسان دوست شخص ہیں اور ادب کے ساتھ ساتھ میری طرح موسیقی کے رسیا بھی ہیں ایک بار موسیقی کے حوالے سے بات چیت کے دوران ایک ایسے گلو کار کا ذکر آیا جس کے بارے ہم دونوں کی ایک ہی رائے تھی کہ سْر کے لحاظ سے وہ زیادہ بڑا فنکار نہیں ہے،تو میں نے کامریڈ شاہد سے کہا،مگر میں اسے ایک اور حوالے سے بہت پسند کرتا ہوں،پوچھنے لگے، وہ کیا حوالہ ہے میں نے کہا اسے جو عزّت،مقبولیت اور شہرت پاکستان اور ہمسایہ ملک میں حاصل ہے،اور جو ’ اب تک اس کی بات بنی ہو ئی ہے‘ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خالق ایسا ہی چاہتا ہے،کوئی بات ایسی اس فنکار میں ہے جسے ہم جیسے کوتاہ نظر نہیں دیکھ سکتے، اس کا ادراک نہیں کر سکتے، اس لئے جس کام کے لئے ہمیں چنا گیا ہے،ہمیں اپنے حصّہ کا کام دوسروں کی ستائش و صلہ سے بے نیاز ہوکر کرنا چاہیئے، کار ادب سے جڑے دوست یقیناََ فرصت کے ان لمحات میں اچھی کتب اور جرائد کے مطالعے کی سان پر اپنی تخلیقی اور فکری استعداد کو صیقل کر رہے ہوں گے، شیخ ایاز نے حسرت موہانی کے معروف شعر
ہے مشق ِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی
پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حسرت نے قید بامشقت کو آسان بنانے کا کیا عمدہ حل تلا ش کیا ہے، دوستو! بس اسی مشق سخن اور فکر سخن میں فرصت کے یہ شب و روز بتائیے، آپ کی طرح مجھے بھی احباب کی محبتیں میسر آ رہی ہیں، لاہور سے ملنے والے ماہنامہ تخلیق کا تازہ شمارہ ملا ہے،یہ در اصل اس جریدے کا سپیشل ایڈیشن ہے مجھے اس شمارے نے سرشار بھی کیا کہ اس میں معاصر ادب کا بہت عمدہ انتخاب یک جا کر دیا گیا ہے مگر اس شمارے نے میرے اس دکھ اور قلق میں اضافہ بھی کیا کہ اس میں ”تخلیق ایوارڈ 2019 کی مکمل روداد بھی ہے،جس میں شرکت کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل ہو نے کے باوجود میں لاہورنہیں جاسکا تھا،اس کی وجہ ایک نجی بس سروس کی آخری بس کی بکنگ تھی جس نے ایک گھنٹہ پہلے مجھے کینسلیشن کا میسج بھیج دیا تھا، جانے کو میں صبح نکلنے والی پہلی بس میں بھی جا سکتا تھا مگر تقریب کا وقت ظہر کا تھا، اور اس صورت میں ٹرمینل سے بھاگم بھاگ تقریب میں پہنچنا تھا، اکیلا ہوتا توضرور چلا جاتا کہ میں عادی ہوں مگر رفعت بھی ساتھ تھیں سونان اظہر اور ان کی آفس سیکریٹری سے جب چودہ فروری کی وجہ سے میں نے معذرت کرنا چاہی تو کہا گیا اب کے یوم محبت لاہور منا کر دیکھیں، اور ان کی محبت کہ کلب میں رہائش کا اہتمام بھی کر دیا تھا۔ اور اب اس عمدہ تقریب کی روداد اور تصاویر دیکھ کر تقریب میں شرکت نہ کرنے کا از حد افسوس ہوا اس لئے سب سے پہلے اپنے افسوس پر پھاہے رکھنے کے لئے افسانوں پر توجہ دی،ڈاکٹر رشید امجد،آغا گل،عطیہ سید، سلمی اعوان کے دل موہ لینے والے افسانوں سے نوین روما کے مختصر، سادہ مگر پر اثرافسانے ویلٹائن ڈے تک سارے افسانے پڑھ ڈالے، نوین روما کے افسانے کی آخری سطروں میں یوم محبت کی ننھی سرخ کلی کے ساتھ جیسے دل بھی کسی نے مسل کر رکھ دیا۔ شاعری کا انتخاب بھی عمدہ ہے۔یہ شمارہ ماہنامہ تخلیق کے مدیر سونان اظہر جاوید سے 0321 88 99 007 پر رابطہ کر کے منگوایا جاسکتا ہے، جو ادب دوستوں کے لئے کسی تحفہ سے کم نہ ہو گا جس میں گوشہئ اظہر جاوید،گوشہ بشریٰ رحمن کے ساتھ ساتھ یونس جاوید، بشری رحمن، مسلم شمیم۔خالد عبداللہ اور کامران رفیق کے مضامین بھی شامل ہیں اور بہت خوبصورت شعر بھی تخلیق کے اس شمارے میں آپ کے منتظر ہیں۔ اس شمارے سے خالد اقبال یاسرکا یہ شعر دیکھئے، اور سوچئے،کہ کہیں موجودہ حالات سے مطابقت تو نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔۔
اک بار فنا ہو کے رہے گا میرے ہاتھوں
آباد کروں گا میں یہی دہر دو بارہ

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post