معاملہ ظفر اقبال کا اور جھگڑا حاشیہ برداروں کا : سعید سادھو

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں انسان کم اور فرشتے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں علم کی بجائے تقدس اور عقلیت کی بجائے عقیدت کا رجحان زیادہ ہے.یہی وجہ ہے کہ ہم سب اپنے پیاروں کو محبت کی بجائے تقدس و عقیدت کی سیڑھی پر لا چڑھاتے ہیں.
یہ بات ممتاز مفتی نے بہت پہلے کر رکھی ہے کہ عقیدت محبت کی دیوار ہے.یہ بات انہوں نے باپ بیٹے کے تعلق میں بتائی تھی.
جو بیٹے باپ سے محبت کی بجائے عقیدت رکھتے ہیں وہ میری طرح ان کے جانے کے بعد اس بات کو ترستے ہیں کہ کاش ان کے مردہ ماتھے کی بجائے ان کے زندہ ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لیا جاتا.
لیکن ہمارے ہاں 90 فیصد افراد ایسے ہیں جو آج بھی والدین کا بوسہ لیتے ہوئے ہچکچاتے ہیں. ہم پردیسی تو پھر بھی مہینوں بعد گھر واپسی کے موقعے پر جپھا پریڈ یا بوسہ بازی کر لیا کرتے ہیں کہ موقع مل جاتا ہے مگر اپنے ہی شہر میں مزدوری کرنے والے ہمارے بھائی بہنوں کی محبت کے آڑھے یہ عقیدت آتی ہی رہتی ہے. دو سال پہلے کی بات ہے میں نے Waheed Ahmad سے نہایت محبت کا اظہار کرتے ہوئے کچھ جملے کہے.
وہ خاموش ہو گئے اور ہم دونوں سگریٹ لیے باہر بنے بہت خاموش و پرسکون باغیچے میں سگریٹ سلگانے لگے تو انہوں نے اس درجہ محبت کی وجہ پوچھی.
عرض کیا کہ میں نے ہوش میں ابا کے ماتھے کا پہلا بوسہ انہیں پہلا غسل دینے کے بعد لیا تھا.اور تب مجھے احساس ہوا کہ یہ موا تقدس یا مصیبت ماری عقیدت میری محبت کی راہ میں شدید حائل رہی. سو اس کے بعد سے مجھے منہ پھٹ کہہ لیجیے، یا جلد رسپانس کرنے والا مگر میں کسی بھی دوسرے جذبے کے زیر اثر محبت کا اظہار کرنے سے کبھی نہیں کترایا.
سو یہ تو ایک ضمنی بات ہے
ان دنوں معاملہ ہے ظفر اقبال صاحب کے ایک بیان، اس پر شدت پسندوں کے نیزہ دار جملے اور دال دلیے کی دیگ میں پکنے والی دالوں کی حاشیہ برادریاں ہیں.
آپ دیکھیں گے کہ ظفر صاحب کے دفاع میں پوسٹیں لگانے والے اکثر دوست ان کی دال دلیاتی دیگ کے دانے ہیں، کئی ایسے بھی ہیں جو واقعتاً ظفر اقبال صاحب کی تنقید کا ہدف رہے ہیں لیکن وہ اس معاملے میں خاموش ہیں(وہ نہ صرف سیانے ہیں بلکہ بالکل بجا عمل اختیار کیے ہوئے ہیں)
سچویشن یہ ہے کہ یہ کوئی مقدسیت، تقدسیت کا مسئلہ نہیں بلکہ گھرانے کے ایک بزرگ کا ایک واقعہ ہے.
فعلن فعلن کے وزن پہ نیا نیا تھرکنے والے نوٹنکیوں کے تو خیر سے کیا کہنے کہ انہیں جدید مشاعراتی فیس بکی نے جو سکھایا وہی کر رہے ہیں
…………..
“حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ ان کے حاشیہ بردار یہ کہہ رہے ہیں کہ ظفر اقبال صاحب نے غلط تو کیا ہے مگر فلاں کو ایسا نہی کہنا چاہیے تھا…….. “…………وغیرہ وغیرہ
کس قدر غلط بات ہے کہ ایک شان دار شاعر بابت ایسا کہا جائے.
نہ جانے کیوں مجھے Qayyum Nasir ناصر صاحب کا شعر یاد آ رہا ہے کہ
…..
دال دلیے کے دیگ کے اندر
دال خوش ہے کہ پک رہی ہوں میں
………
ہاں میں تو اسے ابن الوقتی کہوں گا، موقع پرستی کہوں گا اور دیگ میں مزید پکنے کی خواہش کہوں گا کہ آپ حاشیہ بردار ہو کر بھی یہ جملہ کہہ رہے ہیں کہ ظفر صاحب نے غلط کیا ہے لیکن بچونگڑوں کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا
…..
دوسری بات سے تو خیر کوئی اختلاف نہیں کہ کچھ بچوں کی زبان واقعی بدتمیزی و بدتہذیبی پر اتر آئی، یہ بدتمیز لوگ اگر جیالے ہوتے جیسا کہ Salah Ud Din Derwesh ہیں(گو کہ درویش نے ایسا کوئی جملہ نہ کہا)، تو بھی مجھے مسئلہ نہ ہوتا مگر یہ بچے خود کو نوجوان شعراء کا نمائندہ بھی سمجھتے ہیں سو نہایت غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں.
اب آتے ہیں اردو ادب کے چہرے کی طرف۔ اس میں کیا شک ہے کہ ظفر اقبال اس وقت اردو غزل کا چہرہ ہیں.گو کہ وہ ہیں مگر ایک لحاظ یہ دیکھا جائے تو وہ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ہم ایتھلیٹ جو لوگوں کے کندھوں پہ ہر میچ کے بعد سوار ہوتے رہتے ہیں، ہمارا تذکرہ، ہر میڈل شاپ، ہر ایتھلیٹ کورٹ اور ہر چیمپین شپ میں ہوتا ہے یہ جانتے ہیں کہ اگر کوئی جسمانی معذوری آ گئی تو اس دوڑ سے باہر ہو جائیں گے
ظفر اقبال صاحب کا کام ایسا شان دار ہے کہ وہ لاکھ جسمانی و فکری معذوری کے باوجود اس میدان سے باہر نہیں کیے جا سکتے۔لیکن بات جو میں کہنا چاہ رہا ہوں وہ جانے کہنے کے قابل بھی ہے کہ نہیں.
میرا خیال یہ ہے کہ ظفر اقبال صاحب اب بزرگ ہیں اور آپ سب جانتے ہیں کہ وہ ہمارے اس ادبی قبیلے(گھر) کے نہایت بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں. اور بزرگ کااحترام کیا جانا ہی ہماری روایت ہے۔

You might also like
  1. نوید صادق says

    بہت عمدہ لکھا ہے.

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post