غروب کا وقت تھا مقرر سو چل پڑا میں:ناصر علی سید

سلیم راز کے بارے میں بار ہا لکھا بھی ہے اور ان کی موجودگی میں محافل میں بھی کہا ہے کہ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ سلیم راز جی اپنے گاؤں یا گھر میں ہیں تو یہ بات آج کے میڈیائی دور میں ”بریکنگ نیوز“ کہلائے گی۔ پشاور،کراچی، کوئٹہ،لاہور اور اسلام آباد تو خیر وہ سال بھر آتے جاتے رہتے مگر ان بڑے ادبی مراکز کے علاوہ بھی چھوٹے مراکز اور مضافاتی ادبی مراکزمیں بھی وہ اتنی ہی محبت اور شوق سے حاضری لگاتے رہتے،حیدر آباد، ملتان،ژوب سے لے کر اپنے صوبے کی تمام ادبی تنظیموں کے چھوٹے بڑے اجلاسوں،کانفرنسوں اور مشاعروں میں دل و جان سے شریک ہوتے، سو یہ بلا کا محبتی شخص سال کے بارہ مہینے بلکہ باون ہفتے بلکہ ساڑے تین سو سے زیادہ دن ادبی دورے پر رہتا، کون جانے کہ ان کو شعر کہنے، تنقید لکھنے یا کالم بننے کے لئے کون سا25 واں گھنٹہ میسر تھا، پھر وہ پشتو اور اردو میں یکساں رواں تھے، اس لئے دونوں زبانوں کے شعر و ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ پھر پشتو عالمی کانفرنس کے انعقاد سے انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔ فلمی کہانیوں کے کوچہ میں بھی کچھ وقت گزارا۔ محفل ساز بھی اور محفل باز بھی تھے، ایک نہ ختم ہونے والی دھیمی سی مسکراہٹ ان کے ہوٹوں پر ہمیشہ رقصاں رہتی۔ سیانے کہتے ہیں کہ سفر میں انسان کی شخصیت کھل کر سامنے آتی ہے،مجھے ان کے ساتھ کئی بار سفر کے مواقع بھی میسر آئے،سفر میں بھی ان کا انداز اور رکھ رکھاؤ سب سے الگ تھا۔ اور بے تکلف دوستی کے با وجود وہ ہم سفر کا بہت زیادہ خیال رکھتے، کراچی کی عالمی کانفرنس میں ہمیں اکٹھا جانے اور کچھ دن رہنے کا موقع ملا،اچانک ان پر بزرگی کا غلبہ ہو جاتا اور بلا کی سنجیدگی کے ساتھ زندگی برتنے کے حوالے سے سمجھانے لگتے۔ اس کانفرنس میں کوئٹہ کے فاروق سرور بھی ساتھ تھے، رات گئے تک ہم سلیم راز کو جگائے رکھتے، جس دن صبح کے سیشن میں ان کا مقالہ تھا میں نے کہا آج رات کی محفل میں آپ کو چھٹی دیں گے، تا کہ تیاری کرسکیں، ہنس کر کہنے لگے جی نہیں،آپ دونوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، آپ نے ہوٹل سر پر اْٹھا لینا ہے، ہاں آپ سو جائیں تو میں لکھ لوں گا، میں نے کہا اس کا مطلب ہے کہ یا تو آپ لکھنا نہیں چاہتے یا پھر آپ پہلے سے لکھ کر لائے ہو ئے ہیں، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ہم بھلا روشنیوں کی شہر کی یہ راتیں سو کر کیوں گزاریں گے۔، جس رات ہم کراچی پہنچے تھے تو ائیر پورٹ سے سیدھا منتظمین کی طرف سے ترتیب دئیے گئے عشائیے میں پہنچے، جہاں سے مزیدرات گئے ہوٹل پہنچے ہم دونوں کو کمرہ شئیر کر نا تھا،وہ سب ٹھیک تھا مگر جب کمرے میں داخل ہوئے تووہاں دو سنگل بیڈ کی بجائے ایک ہی ڈبل بیڈ تھا، ہر چند وہ کنگ سائیز تھا مگر سلیم راز بیڈ شئیر کرنا نہیں چاہتے تھے، مینجر کو بلایا معلوم ہوا کہ کمرے سب لگے ہوئے ہیں، مینیجر نے کہا کہ آج رات گزارا کریں صبح انتظام ہو جائے گا، ابھی میں میٹریس بھیجوا دیتا ہوں، میں نے پہلی بار سلیم راز کے چہرے پر غصّے اور کڑھنے کے آثار دیکھے تھے۔ پھر میرے لاکھ اصرار کے باوجود وہ رات انہوں نے صوفہ پر سو کر گزاری تھی۔ اس تجربہ کے بعد میرے سارے دوست جانتے ہیں کہ میں پہلے ہی سے الگ کمرے کی ڈیمانڈ کرتا ہوں،حالانکہ اس سے قبل میں اپنے ہم عمر دوستوں کے علاوہ فضل دین مجبور خٹک،خاطر غزنوی اور مرتضی شاہین کے ساتھ کئی بار اکٹھا رہ چکا ہوں، فضل دین مجبور خٹک بھی سفر میں بہت خیال رکھنے والے بزرگ دوست تھے۔ خاطر غزنوی کے ساتھ تو ملکی اور بیرون ملک کئی دورے کئے لیکن مرتضی شاہین کے ساتھ یہ تجربہ صرف ایک بار ہوا اور مجھے ان سے سیکھنے کا بہت موقع ملا، سلیم راز تو خیر اردو پشتو کے شعر و ادب سے جڑے ہوئے ایک نابغہ تھے مگر مرتضی شاہین سے اگر چہ محافل میں بہت ملاقاتیں رہیں اور ان کی دوستی، بھلے منسی اور بلا کی محبت کا میں ہمیشہ سے قائل اور مقروض تو رہا مگر جس وقت اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے پاکستان بھر سے کوئی دس کے لگ بھگ ادیبوں کے وفد کا پنجاب کے چھوٹے بڑے ادبی مراکز کے طویل دورہ کا اہتمام کیا گیا تو خیبر پختونخوا سے اس وفد میں میں اور مرتضی خان شاہین شامل تھے۔ اورہر شہر میں ہمیں اپنے تاثرات بھی پیش کرنا تھا، مجھے پہلی بار علم ہوا کہ پشتو شعر و ادب پر ان کی جتنی گہری نظر ہے اس سے کہیں زیادہ و ہ اردو شعر و ادب پر دسترس رکھتے تھے ان دنوں میرے دل کے بہت قریب دوست صاحب شاہ صابر جو گورنمنٹ کالج پشاورمیں میرے کولیگ تھے اور بہت محبت کرتے تھے ان کے کہنے پر میں نے ممتاز و معروف سیاست دان خان عبدالولی خان کی پشتو کتاب کااردو ترجمہ کر نا شروع کیا تھا، مجھے اس کتاب کے حوالے سے مرتضی خان شاہین نے بہت بریف کیا تھا،جس سے میرے اندر ایک جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا تھا مگر وہ بیل مونڈھے نہ چڑھ سکی اور میں نے ابھی کچھ صفحات ہی ترجمہ کر کے بھیجنا شروع کئے تھے کہ عزیز از جان دوست صاحب شاہ صابر کی اچانک رحلت کا سانحہ پیش آگیا تھا، ان کی وجہ سے کئی بار نہ صرف باچا خان مرکز کی یاترا کا موقع میسر آ یا بلکہ بعض اہم میٹنگز میں بھی شریک ہوا،پھر صاحب شاہ صابر کے ادبی ریفرنس میں بھی شریک تھا اور ان کے فن و شخصیت پر ایک مضموں بھی پڑھا ”باغی مڑ شو“ (باغی کی موت) یہ عنوان ان کے ایک پشتو افسانے سے لیا تھا، وہیں کسی دوست نے وہ مضمون مجھ سے پشتون میں اشاعت کی غرض سے لیا، اور میرے پاس اس کی کوئی کاپی نہیں ہے۔ خیر بات سلیم راز کے پاؤں میں چکر سے چلی تھی کہ وہ بہت کم وقت گھرمیں گزارتے تھے، مگر کچھ عرصہ پہلے جب وہ بیمار ہوئے اور مانسہرہ ہسپتال میں تھے اور ان سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا،فون پر بھی ان کے برخوردار سے بات ہوئی تو میں نے بہت ہی مؤدب دوست معروف شاعر و جرنلسٹ امجد علی خادم سے ذکر کیا تو اس نے کہا کہ آپ بے فکر رہیں (یہ ان کا تکیہ کلام تو نہیں مگر مخصوص جملہ ہے) میں کل جا رہا ہوں میں آپ کی طرف سے عیادت کر لوں گا، میں نے کہا، عیادت سے زیادہ ان سے یہ پوچھنا ہے کہ سفرکی یاد تنگ تو نہیں کرتی، پھر وہ بڑی حد تک جلدی ٹھیک بھی ہو گئے تھے،مگر اب کے جب ان کو تشویش ناک حالت میں پشاور لایا گیا تو احباب کا اضطراب بڑھ گیا تھا، گزشتہ شمارے میں انہی کالموں میں دوست مہرباں میجر عامر کا ذکر کیا تھا کہ وہ ان کو راولپنڈی شفٹ کر نا چاہتے تھے مگر ان کی حالت کے پیش نظر ممکن نہ تھا، پھر اطلاعات یہ بھی تھیں کہ بہتری کے آ ثار نظر آنے لگے ہیں، مجھے میجر عامر کا فون آیا کہ دوستان ِ عزیز ممتاز و معروف تجزیہ وکالم نگار رؤف کلاسرا، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور ناول و کالم نگار شاہد صدیقی اور ممتاز صحافی و کالمسٹ اور دوستوں کے دوست قیصر بٹ دو دن بعد بعد نیسا پور آ رہے ہیں مگر ان کی فرمائش یہ ہے کہ عزیز دوست اور کالم نگار جمیل مرغز اور ناصر علی سیّد کو بھی بلایا جائے، سو موجودہ حالات کے پیش نظر یہ ایک محدود نشست ہو گی، آپ بھی آئیں اور آصف نثار غیاثی کو بھی دیکھتا ہوں کہ اگر فارغ ہوں تو مل بیٹھیں گے، گھروں میں رہنے کے اس موسم میں اس خبر نے جیسے پھر سے تازہ دم کر دیا۔ رؤف کلاسرا کے ساتھ جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں میجر عامر کی وساطت سے ہوئیں مگر جب بھی ملے محبت اور احترام سے بھیگے ہوئے ملے، یہی حال شاہد صدیقی کا ہے بہت دھیمے لہجے میں شعر و ادب پر بات کرتے ہوئے ماضی کی پگڈینڈیوں پر جا نکلتے ہیں، یہی کمزوری رؤف کلاسرا، میجر عامر اور میری بھی ہے، سو ایک اچھی نشست کی توقع تھی اور ایسا ہی ہوا، ڈرامیٹک ریلیف کے طور پر جمیل مرغز اور قیصر بٹ کی نوک جھونک بھی میلہ گرم کرنے کا باعث بنتی رہی، رؤف کلاسرا کو اپنا کالم لکھنا اور بھیجنا تھا سو انہیں تنہا چھوڑ کرشاہد صدیقی اور میجر عامر سیر گل و گلشن کو چلے تو پہلے ہی قدم پر میں بھی پہنچ گیا، اور ہم ننھے منے انگور کے خوشوں سے لدی بھری بیلوں کی چھاؤں میں کھڑے ہو گئے، جلد ہی یہ خوشے جوبن پر ہوں گے، ابتسام نے کیمرہ سنبھال لیا، نیسا پور میں کون سا پھل ہے جو نہیں ہے مگر ابھی پکنے کی فصل میں کچھ دن ہیں، میجر عامر کو محمد اظہار الحق یاد آئے۔تو بہ آواز بلند کہا۔۔
شہتوت کا رس تھا نہ غزالوں کے پرے تھے
اس بار بھی میں جشن میں تا خیر سے پہنچا
لیکن اب کے تو ہم جشن شروع ہونے سے پہلے پہنچ گئے تھے۔ نیسا پور کا خاص تحفہ جامنی رنگ (پرپل مینگو) کے آموں کو بھی ابھی بور سے انگلی چھڑائے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی، میرے ہونٹوں پر اپنا کبھی کا کہا ہواشعر رواں ہو گیا
اب جو آباد ِ محبت ہوں کہاں تھا پہلے
بور آتا ہے شجر پر بھی ثمر سے پہلے
پتہ پتہ بوٹا بوٹا جب ہمیں سرشار کر چکا تو ہم حنّا باغ واپس آ گئے جہاں رؤف کلاسرا کالم کالم کھیل چکا تھا، تو سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک ملے اور خوب ملے۔ جلد ہی قیصر بٹ اور جمیل مرغز بھی آ گئے اور اس بار میری بجائے،آصف نثار غیاثی تا خیر سے پہنچے، پھر تو منڈلی جمنی تھی سو انواع و اقسام کھانوں کے سنگ خوب جمی، یہ کہانی پھر سہی مگر مجھے میجر عامر نے سلیم راز کے علاج کے لئے ایک لفافہ دیا کہ سلیم راز کے بچوں کو دے دینا کہ ان کے علاج کے ضمن میں میں بھی اپنا حصہ ڈال سکوں، میں نے واپس آ کر امجد علی خادم سے رابطہ کیا وہ گاؤں میں تھے انہوں نے کہا کہ وہ منگل کو آ کر لیجائیں گے، منگل کو ظہر کی نماز کے آس پاس وہ اور سلیم راز کے برخوردار وسیم میرے گھر آئے امانت سپرد کی جو ایک خطیر رقم تھی، سلیم راز کی صحت کے حوالے سے لمبی بات چیت ہوئی وہ مطمئن تھے کہ بہتری کی طرف آ رہے ہیں، وسیم کو اس دوران فون آیا، وسیم نے میرا بتایا کہ ان کے پاس ہیں کچھ دیر میں آ تے ہیں۔ پھر دونوں اٹھ کر چلے گئے جس کے دس منٹ بعد میجر عامر کا فون آیا، کہ دعائیں الاٹ ہوتی ہیں، مجھے آخری خدمت کا موقعنصیب ہوا۔۔آپ کو معلوم ہے خیبر ٹی وی پر ابھی ٹکر چلا۔سلیم راز بچھڑ گئے۔۔ پھر کہنے سننے کو کیا رہ گیا تھا، وسیم کی آواز کان میں گونجنے لگی ۔۔ ”بس آ رہے ہیں“۔۔۔ساتھ ہی اظہار الحق کا شعر بھی۔۔۔۔ غروب کا وقت تھا مقرر سو چل پڑا میں
کسی کا پھر انتظار میں نے نہیں کیا تھا۔

(بشکریہ ادب سرائے)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post