شام اتری ، گاؤں کی پگڈنڈیا ں جلنے لگیں : ناصر علی سیّد

رئیس فروغ نے کہا ہے کہ
عشق و ہ کار ِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لئے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے
بس یہی حال کار ِ ادب کا بھی ہے کہ جب ”فاصلہ“ ہی وبا کے دنوں کا دستور ٹھہرا تو یار لوگوں نے ملاقاتوں اور قلبی وارداتوں کے لئے اپنا ٹھکانہ ”آن لائن“ بنا لیا کیونکہ شو کو کسی طور چلنا ہوتا ہے اور اسے چلنا ہی چاہئے، سو مشاعرے اور مذاکرے اب آن لائن ہوتے ہیں اور اس میں دنیا بھر کے قلمکار شریک ہو رہے ہیں،پہلے پہل اس کا آغاز امریکہ سے ہوا جب حلقہ ارباب ِ ذوق نیو یارک کی تنقیدی نشستیں کسی تعطل کا شکار ہو ئے بغیر آن لائن ہونے لگیں، میں نے پشاور کی ادبی تنظیموں کے ارباب ِ اختیار دوستوں سے آن لائن نشستوں کے لئے استدعا بھی کی، مگر وہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی،ایک آدھ ماہ کے بعد دوبارہ کسی دوست نے توجہ دلائی تو بھی اسے در خور ِ اعتنا نہ سمجھا گیا، اس لئے ابھی تک کہیں سے بھی ایسی کوئی خوش خبری نہیں مل رہی، البتہ بعض احباب اپنے طور پر محدود ملاقاتیں کر رہے ہیں، میرے پاس بھی گاہے گاہے ڈاکٹر نور حکیم جیلانی اور حسام حر سمیت کچھ دوست آ جاتے ہیں اور ایک اچھا ادبی مکالمہ ترتیب پا جاتا ہے کچھ دن پہلے بھی ہم نے پشاور کے قلم قبیلہ کے حوالے سے طویل گفتگوکی، جس میں کچھ بچھڑے ہوئے دوستوں کا بھی تفصیل ذکر ہوا، خاطر غزنوی،احمد فراز، شوکت واسطی،یوسف رجا چشتی، سجاد بابراور محسن احسان کی صحبتیوں کے ذکر سے آنکھوں میں دھواں پھیلتا رہا، انہی محفلوں میں ہماری ادبی تربیت ہوئی ہے، مگر یہ تسلسل تو کورونا کی وبا سے بہت پہلے ٹوٹ چکا تھا، اس سے ہم سب کا کتنا نقصان ہوا شاید کبھی اس موضوع پر کسی مجلس میں بات چل نکلے تو اندازہ ہو کہ قلم قبیلہ نے کیا کھویا اور کیا پایا،آن لائن اجلاس اور خصوصاََ مشاعروں پر عزیزدوست اعجاز روشن نے فیس بک پرایک پوسٹ میں پھبتی کسی ہے کہ یار لوگ ” آن لائن مشاعرے کی مبارکباد بھی ایک دوسرے کو ایسے دیتے ہیں جیسے بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ نکل آیا ہو“ چلئے یہ اعجاز روشن کا ایک چٹکلہ تھا لیکن مجھے یہ خوشی ہے کہ کار ادب رکا نہیں، بہت سے دوست میل ملاقات کے بہانے ڈھونڈ تے رہتے ہیں، گزشہ شب مجھے برخوردار افراز علی سید نے فون پر بتایا کہ ”پاپا! آصف ملک نے سوشل میڈیا پراپنی ایک پکچر شئیر کی ہے،جس میں وہ چپل کباب کھا رہے ہیں“ میں نے سنا ہے کہ وہ پاکستان میں ہیں چپل کباب سے یہ بھی گمان گزرا کہ کہیں وہ پشاور یاقریب کے کسی شہر میں نہ ہوں،میں بات کر کے آپ کو بتاتا ہوں، اسلام آباد تک بھی اگر ہوں توپھر ملاقات کی کوئی سبیل نکال لیں، آصف ملک بلا کے محبتی،خوش ذوق اور شعر و ادب کا وسیع مطالعہ رکھنے والے دوست ہیں، شعر اگر کہتے بھی تو بتاتے نہیں مگر ان کو بہت سے شعرا کا اتنا کلام یاد ہے جتنا ان شعرا کو خودبھی یاد نہیں ہو گا، خصوصاََ امجد اسلام امجد اور انور مسعود کانہ صرف کلام یاد ہے بلکہ ان کے ساتھ زمانہ طالب علمی سے لے کر قریب کے زمانوں تک کی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ بہت پر جوش ہوتے ہیں، چند برس پیشتر جب ڈینور(امریکہ) میں میرے ساتھ منائی گئی ایک شام میں وہ نہیں پہنچ سکے تو دو دن بعد ہی تلافی کے طور پر ایک ہوٹل میں عشائیہ پر ایک خوبصورت شعری نشست کا اہتمام کیا تھا، ان سے بات ہوئی تو افراز علی سید کا اندازہ درست نکلا وہ ٹیکسلا میں ایک دوست کے پاس تھے، دیکھتے ہیں اگر وہ نہیں آتے تو میں چلا جاؤں گا ٹیکسلا میں میرے بھی کچھ دل کے قریب احباب رہتے ہیں، جن میں عامر آزاد اور شکور احسن کے ساتھ ساتھ سراپا محبت حفیظ اللہ بادل اور سعید سادھو بھی شامل ہیں، اس طرح کی محدود ملاقاتوں میں کار ادب پر بات چیت ایک عمدہ سرگرمی ہے جس سے کار ادب کو فروغ ملتا ہے۔ مجھے اس ہفتے بھی احباب کی محبتیں کتابوں کی صورت میں موصول ہوئی ہیں، معروف افسانہ نگار اور فرنتئیر کالج پشاور کی بے حد نفیس اور مقبول پروفیسر فہمیدہ اختر مرحومہ کی محبتوں،ٹیچنگ اور ادبی نشستوں سے فیضیاب ان کی شاگرد خاص نصرت نسیم کی خوبصورت اور کومل کومل یادداشتوں پر مبنی کتاب ”کہکشاں ہے یہ مرے خوبوں کی“ بھی ان دنوں ملی ہے، ہر چند کتاب میں شاملدو تین رودادیں میں نے پہلے نہیں پڑھیں تھیں مگر زیادہ تر مضامین اور یاد داشتیں میں شائع ہونے سے پہلے پڑھ چکا تھا۔ جب مجھے اس کا مسودہ دیکھنے کا موقع ملا تھا ا ور میرے تاثرات تھے کہ ”یہ خواب جو اس کہکشاں میں جگر جگر کر رہے ہیں مانو یہ مضامین نہیں تصویریں ہیں اور یہ مجموعہ ایک ایسا دلبر و دلربا البم ہے جس میں تصویریں ہی نہیں نصرت نسیم کے بہت سے پورے ادھورے خوابوں کی تعبیریں بھی ہیں اور ایسی کہ ورق ورق ” کرشمہ دامن ِ دل می کشد کہ جا اینجا است“ کی صورت روک روک لیتا ہے۔ میں جو ایک بار اس کہکشاں کے مدار میں داخل ہوا تو پھر جیسے سحر زدہ سا گھومتا رہا، مجھے وہ لکھاری بہت متاثر کرتا ہے جو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کرتا،سیدھے سبھاو من کی بتیوں کو کاغذ کاہمراز بنا لیتا ہے،اور اسی طرح پھروہ تحریر وجود میں آتی ہے جو پڑھنے والوں سے سرگوشیاں کرتی ہو ئی آ گے بڑھتی ہے اور آپ جانیں کہ سر گو شیاں محبتوں کی دین ہوتی ہیں محب اور محبوب کی ملاقاتوں کا نصیبہ ہوا کرتی ہیں۔ اور یہ سرگوشیاں غیر محسوس طریقے سے دلوں کے مابین رشتے استوا رکر لیتی ہیں،من تو شدم تو من شدی کا ذائقہ چکھا دیتی ہیں،سو نصرت نسیم جی کے ان خوابوں کی اس کہکشاں سے رومینس کئے بغیر میں بھی نہ رہ سکا،جس خلوص اور محبت سے نصرت نسیم کا قلم جادو جگاتا ہے اس کے سحر سے ویسے بھی بچ نکلنا ممکن ہی نہیں اس لئے میں بھی سحرہ زدہ سا خواب نگر کی گلیوں میں ان کے ہمراہ ان کے ہمزاد کی طرح پھرنے لگا یعنی جہاں جہاں وہ ہنستی ہیں،میں بھی ساتھ ہنستا چلا جاتا ہوں،جہاں جہاں وہ افسردہ ہو تی ہیں اپنی اداسی کو پکارنے لگتا ہوں،اور جب ان کی آنکھوں میں بیتے ہوئے زمانے دھواں بھر نے لگتے ہیں تو میری ہچکیاں بندھ جاتی ہیں کہ ایسی ہی جان لیوا یادوں سے میرادل بھی بھرا ہوا ہے،کھوئے ہو ئے لمحوں اور بچھڑے ہوئے چہروں کی یادوں سے میرا حلق بھی نمکین ہوتا رہتا ہے اور میرے دل میں بھی کھارے پانی کا سمندر میری آنکھوں کی سمت اپنی لہریں اچھالنے لگتا ہے۔میں نصرت نسیم کے خوابوں کی کہکشاں سے گزرتے ہوئے مسلسل سوچتا رہا ہوں کہ نہ جانے نصرت نسیم جی کو کس کی دعا سے یہ معجزاتی فن عطا ہوا ہے کہ قاری ایک لمحہ کو بھی ان سے اپنی انگلی نہیں چھڑا سکتا،بلا کی رواں دواں تحریرکہیں بھی کسی بات واقعہ یا کسی زبردستی سے کھپائے ہوئے لفظ سے بو جھل نہیں ہوتی۔ یوں تو ساری کہکشاں دل کے علاقے کو گنگناتی ندی کی طرح سیراب کرتی جاتی ہے مگر اس وقت دل کو کہیں بہت اندر سے چھوتی اور شرابور کر دیتی ہے جب ان کے ترسے ہوئے خوابوں کو حجاز مقدس کی اور اذن سفر کی صورت تعبیر مل جاتی ہے۔ جہاں پہنچ کروہ جس تقد س بھری فضا میں خود کو پاتی اور اپنی قسمت پر عجز کے ساتھ ناز کرتی ہے اوان لمحوں کے دوران اپنی ذہنی اور قلبی کیفیات کی روداد جب نصرت نسیم جی پوری روحانی پاکیزگی کے ساتھ اور آنسوؤں سے دھلے ہوئے شفاف اور منز ّہ لفظوں کے زریعے کاغذ کے سپرد کرتی ہے تو سچ کہتا ہوں مجھ پر تو ایک رقّت سی طاری ہو گئی تھی اور ایسے میں دل سے اٹھنے والی ہوک نے عبد الرحمن جامی علیہ رحمتہ کی اس دعا کا روپ دھار لیاتھا۔۔۔۔
توئی سلطان ِ عالم یا محمد ﷺ
ز روئے لطف سوئے من نظر کن
مشرف گر چہ شد جامی ؔ ز لطفت
خدایا ایں کرم بار ِ دگر کن
اسی ہفتے مجھے کراچی سے دوست ِ مہرباں اکرم کنجاہی کی بہت اہم موضوعات پرتنقیدی اور تحقیقی کتب موصول ہوئیں جن میں ”لفظ زبان اور ادب“ (تحقیق و تنقید)، راغب مراد آبادی (چند جہتیں)، دامن صد چاک (شعری مجموعہ) اور ”نسائی ادب اور تانیث“ کم وبیش پانچ سو صفحات پر محیط اس تحقیقی اور تنقیدی میں پہلی بار تفصیل سے نسائی فکشن پر بحث کی گئی ہے ورہ جب بھی تانیثی ادب پر کوئی نقادبات کرتا ہے تو بیشتر اوقات وہ محض شاعری ہی کے اطراف میں رہتا ہے۔ لیکن اکرم کنجاہی نے نہ صرف نسائی فکشن اور شاعری بلکہ مقالات اور خواتین قلمکاروں کے لکھے مضامین پر بھی بات کی ہے یوں یہ ایک اہم دستاویز بن گئی ہے،کھاریاں سے حاجی گل بخشالوی کے اسفار کا مجموعہ ہے جو بہت دلچسپ اور دلنشیں انداز تحریر کی وجہ سے بہت پسند کیا جارہا ہے،اور کوہاٹ کے دوست ِ مہرباں اسلم فیضی کا تازہ شعر ی مجموعہ ”شام جاگ اٹھی ہے“ بھی ملاہے جو ترتیب کے لحاظ سے ان کا چھٹا شعری مجموعہ ہے، تازہ شعری مجموعہ میں نظمیں،غزلیں اور ہائیکوہیں،اسلم فیضی کا شعری منظری نامہ پرندوں کے گیتوں، بارش کی رم جھم ، شام کے قدموں کی پر اسرار چاپ،، سانولے سلونے رنگوں اور کھٹے میٹھے موسموں سے ترتیب پاتا ہے، اس لئے تازہ شعری مجموعہ میں یہ ساری رتیں سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں، ”شام جاگ اٹھی ہے کے بیک ٹائٹل پر پروفیسر محمد اقبال کے اسلم فیضی کے شعر کے عمدہ تجزیہ کے ساتھ ساتھ کتاب میں ڈاکٹر ریاض مجید کا تبصر ہ ”شام جاگ اٹھی ہے“ اور دوست عزیز نثار ترابی کا تفصیلی جائزہ ”کلام فیضی میں اظہار کے قرینے“ بھی شامل ہے جو اسلم فیضی کے فکری نظام کو سمجھنے میں ممد ثابت ہو تے ہیں، اسلم فیضی سے اس فون نمبر 0333 17 555 40 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ”شام جاگ اٹھی ہے سے چند اشعار
شام اتری گاؤں کی پگڈنڈیا ں جلنے لگیں
کھیتیوں میں جگنوؤں کی ٹولیاں جلنے لگیں
ہولے ہولے آ کے پلکوں پر ستارے جم گئے
دھیرے دھیرے رات کی تنہائیاں جلنے لگیں
خوشنما چڑیا کو اڑنے کا سندیسہ مل گیا
برق چمکی اور قفس کی تیلیاں جلنے لگیں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post