دبستانِ سرگودھا ۔۔۔ چند یادیں : یوسف خالد

ہرے درخت نہ کاٹو سلگتی راہوں سے
مسافروں کے لیے سائبان رہنے دو
—–
کسی غریب کی کٹیا کو کیوں جلاتا ہے
دعائیں مانگنے والا کوئی تو رہنے دے
——-
سنہری جھلکیاں ایماں خرید لیتی ہیں
بتا اے دولتِ صبر و رضا کہاں ہے تو
——-
درج بالا اشعار سرگودھا کے ایک بہت پیارے مجلسی انسان اور عمدہ شاعر جناب ظہیر الدین ظہیر کے ہیں – جو دوستوں میں استاد ظہیر کے نام سے جانے جاتے تھے –
ظہیر صاحب انبالہ ( بھارت) سے ہجرت کر کے سرگودھا میں آباد ہو ئے تھے – ان کا انبالوی لہجہ اتنا دلکش تھا کہ دوست احباب ان کی گفتگو سے بہت لطف اندوز ہوتے تھے – وہ جتنے عمدہ شاعر تھے اتنے ہی ماہر خطاط تھے – سرگودھا میں بم چوک ہوا کرتا تھا اس کی ایک دیوار پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا – یہی ظہیر صاحب کی خطاطی کا شاہکار تھا جو ہر خاص و عام کو روک لیتا تھا اور دعا دینے پر مجبور کر دیتا تھا –
ظہیر صاحب نے بڑی بھرپور زندگی گزاری – وہ اپنی چھوٹی سی خطاطی کی دوکان پر ہر وقت رونق لگائے رکھتے تھے – شہر میں رہنے والے شعرا جن میں ممتاز عارف ، شاکر نظامی، اخلاق عاطف، آصف راز، صوفی فقیر محمد، پروانہ شاہ پوری اکثر ظہیر صاحب سے ملنے ان کی اس چھوٹی سی دوکان کا رخ کرتے تھے اور پھر خوب مجلس لگتی تھی –
ظہیر صاحب اور رشک ترابی بڑے گہرے دوست تھے مگر ایک دوسرے کو خود سے بڑا شاعر تسلیم نہیں کرتے تھے – ان کے مابین ہونے والی باتوں کو بیان کرنا آسان نہیں – ان دونوں دوستوں کی پر خلوص گفتگو کو یاد کر کے آج بھی دل کھل اٹھتا ہے – شاعری میں مخالف رخ مگر دوستی میں باہمی محبت کے عمدہ نمونے ان کی شخصیت کا حصہ تھے –
مجھے اور یونس خیال کو جب کبھی شہر جانا ہوتا تھا تو ہم ظہیر صاحب سے ضرور ملتے تھے- ظہیر صاحب بھی کبھی کبھی ممتاز عارف کے ساتھ ہمیں ملنے مختار ہوسٹل تشریف لاتے تھے – اور خوب گپ شپ ہوتی تھی
سرگودھا میں حلقہ اربابِ ذوق بہت فعال ہوا کرتا تھا – حلقے میں ڈاکٹر وزیر آغا، پروفیسر غلام جیلانی اصغر، ڈاکٹر انور سدید ، پروفیسر سجاد نقوی ، جنابِ پرویز بزمی، جنابِ رشک ترابی ،جنابِ نصرت چوہدری،جناب پروفیسر ریاض شاد ، ڈاکٹریونس خیال،جناب صوفی فقیر محمد، جناب راغب شکیب ،جناب انجم نیازی، جناب ظہیر الدین ظہیر – جناب ممتاز عارف ،جناب تنویر صہبائی، جناب ذاکرحسین آرزو، جناب افتخار فیصل، اور کئی دیگر احباب کے ساتھ خاکسار بھی شرکت کرتا تھا –
حلقہ کی تقریبات نئے لکھنے والوں کی تربیت اور تنقیدی گفتگو کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل تھیں –
اس علمی ادبی فورم کے بالکل متوازی نجی محفلوں میں شعرا اکھٹے ہوتے تھے اور خوب محفلیں سجتی تھیں – جنابِ رشک ترابی ،جناب ظہیر ،جناب صوفی فقیر اور جناب پرویز بزمی کی باہمی گفتگو اور ایک دوسرے پر یلغار انتہائی پر لطف ہوا کرتی تھی – صوفی صاحب اور پرویز بزمی رشک صاحب کی عظمت تسلیم نہیں کرتے تھے اور انہیں نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے – رشک صاحب انتہائی پر گو اور اثر انگیز بلند لہجے کے مالک تھے – وہ اپنی دھاک بٹھائے رکھتے تھے – انہیں کم و بیش اپنا پوراکلام زبانی یاد تھا اور وہ بلا شبہ گھنٹوں پڑھتے تھے – صوفی فقیر محمد علمی اور فنی لحاظ سے بہت مضبوط تھے اور کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے – جب ترنگ میں ہوتے تو کسی کو نہیں بخشتے تھے – رشک صاحب کو کہتے تھے
تیری ساری عمر کی شاعری
میرے ایک شعر کی مار ہے
انکی ایک ہجو بڑی مشہور ہوئی تھی – جس میں کچھ شعر حافظے میں ابھی تک ہیں –
پرویز بزمی کو ایک شعر میں یوں مخاطب ہوئے
شاعر تو بنا دوں اسے بندہ نہیں بنتا
میں میں کرے بزمیؔ کبھی تو تو مرے آگے
——
ایک اور مصرع دیکھیں کہ:
مصرع نہ ہوا میر سے موزوں مرے آگے –
—–
اقبال کے ہیں دجلہ و جیہوں مرے آگے
—-
صد شکر کہ شاگرد ہے میرا زمیندار
چاول مرے آگے کبھی گیہوں مرے آگے

الغرض یہ دور اتنا بھرپور دور تھا کہ شہر کی فضا علمی و ادبی تقریبات سے معطر رہتی تھی – بہت سی یادیں ذہن میں نقش ہیں لیکن انہیں ترتیب دینا بہت مشکل ہے – بس یاد کرتے ہیں اور سر دھنتے ہیں – آج بھی جب دوست اکھٹے ہوتے ہیں تو ان خوبصورت دنوں کا ذکر ہوتا ہے اور اکثر ممتاز عارف سے یہ فرمائش ہوتی ہے کہ وہ استاد ظہیر کے لہجے میں ان کی باتیں سنائیں – ممتاز صاحب ان کے لہجے کی اتنی عمدہ نقل کرتے ہیں کہ ان کی باتیں سن کر نشہ طاری ہو جاتا ہے –
گورنمٹ کالج آف ٹیکنالوجی سرگودھا ( پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ) اور اس کا مختار ہوسٹل جس کے وارڈن جناب ڈاکٹر یونس خیال ہوا کرتے تھے – ایک دوسرا اہم ترین ادبی مرکز تھا – کالج اور ہوسٹل کی تقریبات میں ملک کے ہر حصے سے نامور شعرا حصہ لیتے تھے – یہ تقاریب اپنی ثانی نہیں رکھتی تھیں – اور اکثر رات گئے تک جاری رہتی تھیں – اس ادارے کے طلبا آج بھی جہاں کہیں ہیں ان تقریبات کو یاد کرکے فخر کرتے ہیں – مختار ہوسٹل کی تقریبات کا احوال ہی اگر بیان کرنا ہوں تو بہت مشکل ہو جائے – اسی ہوسٹل کی ادبی فضا میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر اور صفدر رضا صفی پروان چڑھے اور علم و ادب میں اپنا مقام پیدا کیا –
اس ہوسٹل کے ختم ہونے کے بعد سر سید ہوسٹل نے ان روایات کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ مزید مستحکم کیا اور ان گنت یاد گار تقاریب اور مجالس منعقد کیں – جس سے نوجوان طلبا بہت مستفید ہوئے – ایک ہونہار طالب علم قمر ریاض جو ایک بہت عمدہ شاعر ہے ان دنوں عمان میں ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہے – اس کی علمی اور سماجی خدمات عمان اور پاکستان دونوں ملکوں میں تسلیم کی جاتی ہیں اور قمر ریاض کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے – اس ہوسٹل کی انتظامیہ میں میرے ساتھ جناب محمد شفیع علوی نے بھرپور کردار ادا کیا اور ہوسٹل کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا –
یہ ایک مختصر سی روداد ہے مکمل احوال بیان کرنے کی اگر کبھی توفیق ملی تو اس شاندار دور کو ضبطِ تحریر میں لاؤں گا

You might also like
  1. گمنام says

    بہت خوب

  2. گمنام says

    بہت عمدہ

  3. گمنام says

    بہت عمدہ تحریر ہے پرانی یادوں کے در وا کرتی ہوئی اسے جاری رکھیں

  4. محمد حسین ملک مسقط says

    بہت عمدہ تحریر ہے سر….. یہ جھلکیاں اس لئے بھی بہت دلکش لگتی ہیں کہ ان دنوں ہم زمانہ طالبعلمی میں تھے جوہر آباد اور اکا دکا محفلیں اٹینڈ کرنے کا موقع ملا…. آپکی تحریر میں تشنگی رہ گئ… کیا آپ ان یادوں کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں… اگر ایسا ہو تو کیا مزہ ہو….

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post