بدلتی قدریں اورخالدرؤف قریشی کی محبتیں ۔۔۔۔ ناصر علی سیّد

آج وہ دیکھ رہے ہیں جو  سنا کرتے تھے
ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کیا کچھ بدل گیا،قصبے شہر گلیاں گھر تو ایک طرف یار لوگوں کے طرز زندگی اور رؤیوں میں بھی ایک واضح بدلاؤ آ گیا،زمانہ بدلتا نہیں ہاں آگے ضرور بڑھتا ہے،اور اس عمل میں ضرور تھوڑی بہت توڑ پھوڑ شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑتا ہے،لیکن اس سب کچھ کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے،بہت سی چیزیں اور زندگی برتنے کے حوالے یقیناََ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہیئت بدل دیتے ہیں مگر اس سے زچ ہو کر اپنے رویوں میں بدلاو کی بجائے بگاڑ پیدا کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ ہماری سماجی زندگی میں گزشتہ کل کی طرح کے ہنگامے نہ ہونے کی وجہ یہ قطعاََ نہیں کہ ہم تھڑ دلے ہو گئے ہیں،یا ہم خوشی کے موقع پر خوشی کے اظہار کے طریقے بھول گئے ہیں، کل غالب نے بھی کہا تھا
کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے
کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
گویا وہ جانتے تھے کہ کھیل کا فلسفہ یہی ہے کہ یا اسے ترک کردیا جاتا ہے یا امتدادا ِ زمانہ کے ساتھ نت نئی سرگرمیوں میں پڑ کر اسے بھلا دیا جاتا ہے۔کیا کھیل تھے جنہیں کھیلتے ہوئے نہ کھانے پینے کا ہوش رہتا نہ ماں باپ کی ڈانٹ کا خوف آڑے آتا۔ مگر اب تو ا ن کھیلوں کے آداب بھی یاد نہیں،مگر ایسا بھی نہیں کہ انہیں یکسر بھلا دیا گیا ہو، مگر ترک ضرور کر دیا جاتا ہے۔ اب بھی ان کی یاد آتی ہے پرانے ساتھی یاد آتے ہیں،تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے اور ہونٹوں پر اپنا ہی شعر مچلنے لگتا ہے
کھیل بچپن کے لڑکپن کے بہت دلکش تھے
اس زمانے میں کہاں بار دگر جائیں گے
ہر چند میں نے سکول ہی کے زمانے میں آنہ لائبریری سے لایا ہوا ایک دلچسپ ناول پڑھ لیا تھا جس کے لکھنے والے کا نام تو مجھے یاد نہیں مگر اس کی کہانی اور ناول کا نام اس لئے بھی یاد ہے کہ پرانے دوستوں کی یاد آتے ہی مجھے وہ ناول یاد آ جاتا ہے، اس کا ناول کا نام ”ایک گلی۔کئی راستے“ تھا، ایک ہی گلی محلے کے رہنے والے ایک ہی طرح سے شب و روز بتانے والے اور کم و بیش ایک ہی سی سوچ رکھنے والے جب بچپن سے لڑکپن اور پھر شباب کی انگلی تھامتے ہیں تو کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں، میں اکثر سوچتا ہوں کہ میرے اس زمانے کے وہ دوست جن کے بنا گھر میں دس منٹ تک رہنا بھی بوجھ لگتا تھا، ان کے دیکھے کو اب آنکھیں ترستیاں ہیں اور کون جانے وہ اب کہاں کہاں زندگی کر رہے ہیں، دو برس پہلے ایک شادی کی تقریب میں اپنے بچپن کے دوست شاعر و ناول نگار انجینئر خالدرؤف قریشی کے ساتھ ملا یہ ایک عجیب طبیعت کا دوست ہے کئی دہائیوں سے کینیڈا میں مقیم ہے،پشاور اور گاؤں آتا جاتا رہتا ہے،جب بھی آئے تو ملاقات لازمی ہو تی ہے،بلکہ ایک بار جب میں ٹولیڈو (امریکہ) میں ڈاکٹر امجد حسین (ہمسایہ کالم نگار اور دوست) کے گھر میں تھا جہاں پشاور کے معروف افسانہ نگار ارشاد صدیقی اور ممتاز شاعر و نقاد و دانشور ستیہ پال آنند بھی تھے آنا تو دانشور اور کالم و تجزیہ نگار عتیق احمد صدیقی کو بھی تھا مگر آخری لمحوں میں ناگزیر وجوہات کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں اپنا پروگرام بدلنا پڑا ، تو جب خالد رؤف کو میرے آنے کا پتا چلا تو ٹورنٹو (کینیڈا)سے وہاں پہنچ گیا تھا، سچ تو یہ ہے کہ جب بھی اور جتنے عرصہ کے بعد بھی ہماری ملاقات ہوتی ہے تو یقین جانئے کسی مرحلہ پر ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ ہم ایک دوسرے سے کہیں دور رہتے ہیں یا بہت دنوں بعد مل رہے ہیں، وہی پیار محبت، وہی دوستانہ بے تکلف گفتگو اور گاؤں کے قصے کہانیاں ہمیں اپنے بازوؤں میں بھر لیتے ہیں۔ خیردو برس پہلے اس شادی کے ہنگاموں سے ہم دونوں انگلی چھڑا کر شادی ہال کے لان میں جا بیٹھے، دو ایک دوست اور بھی آّ گئے ان میں سے ایک انگلینڈ میں مقیم ڈاکٹر صاحب بھی تھے، معلوم نہیں کہ وہ طب کے کس شعبے کے ماہر تھے، مگر انہیں چار دہائیوں سے زیادہ
عر صہ انگلینڈ میں پریکٹس کرتے ہوئے ہو چکا تھا۔(یہ ڈاکٹر اور وکیل دوست دم آخر تک پریکٹس ہی کرتے رہتے ہیں۔کام شروع کرنے کی نوبت ہی کبھی نہیں آتی) وہ آئے تو میں نے انہیں کہا کہ ڈاکٹر آپ نے میرا علاج کرنا ہے۔ کہنے لگے۔ کیا ہوا ہے۔ میں نے کہا آپ ڈاکٹر ہیں یہ تو آپ بتائیں گے۔ مگر آپ علاج بھی کریں گے اور مفت بھی کریں گے۔ موصوف پریشان ہو گئے اور بات بدل کر خاد رؤوف سے کچھ پوچھنے لگے۔ میں دوبارہ کہا ڈاکٹر یار آپ نے جواب نہیں دیا، کہنے لگے، میں آپ کی بات سمجھ نہیں رہا ہوں، خالد روؤف مجھے زیادہ جانتا ہے ہنس کر کہنے لگا، پہیلیاں مت بجھواؤ بتاؤ کیا مسئلہ ہے۔ میں نے کہا مسئلہ تو کوئی نہیں مگر اس ڈاکٹر نے خود ہی میرے مفت علاج کی حامی بھری ہے اور اب اپنے وعدے سے پھر رہا ہے،،خالد نے معنی خیز نظروں سے ہم دونوں کو دیکھا اور پو چھا، مگر آپ تو کہہ رہے ہیں کہ آج سینتالیس اڑتالیس برس بعد ہماری ملاقات ہو رہی ہے تو یہ وعدہ کب کا ہے میں نے کہا جب ہم ساتویں کلاس میں تھے،گاؤں میں دریا کنارے کی مسجد سے کچھ پہلے کے کھیل کے چھوٹے سے میدان میں کیکر کے درخت کے قریب اس نے مجھے کہا تھا۔ ”با دشاہ(گاؤں میں سادات کو اسی نام سے پکارا جاتا ہے) دعا کروکہ میں ڈاکٹر بن جاؤں اور ڈاکٹر بن گیا تو آپ کا علاج مفت کروں گا اور ساتھ ہی کھڑے مرحوم الطاف سے کہا مگر تم سے فیس لوں گا“ وہ ہنس پڑا اور میں نے آمین کہا۔ اس لئے اب میں بیمار ہوں یا نہیں ہوں یہ تو اپنا وعدہ پورا کرے سب ہنس پڑے، مگر ڈاکٹر کا چہرہ کسی قسم کے تاثرات سے خالی دیکھ کر میں نے خالد سے کہا،چلو رخصتی کا وقت ہو چلا ہے، لیکن مجھے تب بھی ناول ”ایک گلی کئی راستے“ شدت سے یاد آیا تھا، احمد مشتاق نے بھی یہی کہا ہے
اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے
لیکن کوئی بھی کہیں رہے و ہیں کا ہو کر نہ رہ جائے،اس زمین کو نہ بھولے جس نے پاؤں کو مضبوطی سے زمین پرجمنا سکھایااور ان ہواؤں ،فضاؤں کو زندگی سے منہا نہ کرے جن میں پہلی جست اور اڑان بھری تھی لیکن کیا کیا جائے کہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بدل گیا،قصبے شہر گلیاں گھر تو ایک طرف یار لوگوں کے طرز زندگی اور رؤیوں میں بھی ایک واضح بدلاؤ آ گیا۔،زمانہ آگے ضرور بڑھتا ہے، اس عمل میں تھوڑی بہت توڑ پھوڑ اورشکست و ریخت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مگر اس سے زچ ہو کر اپنے رویوں میں بدلاؤ کی بجائے بگاڑ پیدا کرنا دانشمندی نہیں ہے مگر یار لوگوں کو کون سمجھائے۔ ناصر کاظمی نے کہا ہے
اتفاقات ِ زمانہ  بھی  عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے

 

You might also like
  1. yousaf khalid says

    بہت خوب ناصر علی سید کی یاداشت کمال کی ہے اور انہیں اپنے گزرے وقت کو حال کے لمحوں سے ہم رشتہ کرنا آتا ہے دوستوں کے ساتھ ان کی یادیں اور مختلف سرگرمیاں وہ بڑی تفصیل سے بیان کرتے ہیں – ان کی تحریر میں ان کا ذاتی مشاہدہ اور باطن کی تمام کیفیات شامل ہوتی ہیں اس لیے پڑھنے والا بڑے تجسس اور توجہ سے پڑھتا چلا جاتا ہے – ناصر علی سید سے صرف ایک بار ملنے کا اتفاق ہوا ہے لیکن یوں لگتا ہے جیسے ہم اکثر ملتے رہے ہیں- شاد رہیں سلامت رہیں

  2. ناصر علی سید says

    بہت بہت بہت محبت یوسف خالد جی۔خوش رہیں۔۔سکھی رہیں سلامت رہیں آمین

  3. فیاض وردگ کویت says

    ماشاءاللہ ماشاءاللہ
    بہت خوبصورت تحریر ھے ایک خوبصورت انسان اور شاندار شاعر عصر کے لیے بہت بہت مبارک ھو سلامتی کے ساتھ

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post