بابامَنّاں اورلاک ڈاون : یونس خیال

عجیب موسم ہے ساری بستی کا۔کسی کو کسی کی کوئی خبرنہیں۔خوف مرنے کا بھی اورجینے کا بھی۔سوشل میڈیامیں چھُپنے کی کوشش اور زیادہ خوف کی سَمت لے جاتی ہے۔نظمیں ،غزلیں ،افسانے اورتبصرے سب خوف میں لپٹےہوئے۔کوئی ایسا کردارکہاں جوبے دھیانی میں گھومتاہواگلیوں میں آنکلے اور دستک دے دروازے پر۔سوچ رہاہوں کاش میں آج اُسی بستی میں ہوتاجہاں ’’ بابامَنّاں ‘‘ تھا۔بے خوف اورمحبتوں کی بستی۔انسانوں کی جُڑت کااحساس دلاتی بستی۔
اُس کا اصل نام کیا تھا، مجھے نہیں معلوم ۔اور شایدہی بستی میں بسنے والوں میں سے کسی کواُس کااصل نام معلوم تھا۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ ’’ بابامَنّاں ‘‘ بھی اپنااصل نام بھول گیاہو۔یہ تعلق بھی عجیب چیزہوتاہے اگر لوگوں سے اچھاہوتواپنانام کیا،اپنی ذات بھی بھلا دیتاہے اور پھرچاہنے والوں کی آنکھوں کے آئینے میں جونظرآئے وہی نام ۔۔۔ وہی ذات۔
سَدونی مینوں دَھیدورانجھاہیرنہ آکھے کوئی
یہ نصف صدی پہلےکی بات ہے جب ناموں سے زیادہ کردار اور شخصی حوالے زیادہ معتبر ہواکرتے تھےاور بستیوں کی بنیادمحبت پررکھی جاتی تھی۔ایک دوسرے کا اِحترام لفظوں میں نہیں دِلوں میں ہواکرتا تھا۔دولت کی ہوس نے گاوںکی پاکیزہ فضاکوابھی بہت زیادہ آلودہ نہیں کیا تھا ۔دُکھ سکھ میں سانجھ دیکھی اور سُنی جاسکتی تھی ۔ویسے بھی غموں اورخوشیوں میں اگرسانجھ نہ ہوتوپھربستیاں، بستیاں نہیں ہوتیں ۔محض باڑے ہوتے ہیں ۔۔۔ جانوروں کے باڑے ۔
میں نے جب اُسے دیکھاتواُس وقت اس کی عمرسترسال سے زیادہ تھی۔سفیدمگرمیلے تہبندپرسادہ کُرتااورسرپرکپڑوں سے زیادہ مَیلی پگڑی باندھے، لاٹھی پکڑےیہ نابیناکردار گلیوں کا اصل حُسن تھا۔نابینالیکن بستی والوں کومحبت کی روشنی دکھاتازندہ انسان ۔اس کا معمول تھاکہ اپنے کچے مکان سے دن میں دومرتبہ نکل کر گاوں کی گلیوں کا ضرور چکر لگاتااور پوری بستی کو اپنے ہونے کااِحساس دلاتا۔اس کی کوئی اولاد نہ تھی لیکن ساری بستی اُس کی تھی۔جب بھوک پیاس لگتی توکسی بھی دروازے پرآوازلگاتااور کچھ نہ کچھ مل جاتا۔نابیناہونے کے باوجود اسےگلی میں گزرتے ہوئے اندازہ ہوتاتھاکہ اب وہ کس گلی اور کس کے گھرکے سامنے سے گزررہاہےاور وہ پھر نام لےلےکر سب کو متوجہ کرتا۔
لوگوں کا اُس سے اور اُس کا لوگوں کے ساتھ تعلق کے اظہار کااندازبھی عجیب اور منفرد تھا۔بابے مَنّے کوآتادیکھ کربچے گلیوں اور چھتوں پر سے پتھرکنکر تلاش کرنے لگتے اورکنکرمار کرکسی دوسرے کانام لگادیتے۔ بڑے بوڑھے بھی اس عمل میں شریک ہوجاتے۔کوئی اس کے کُرتے کاکَوناکھینچ کربھاگ جاتا۔گرمیوں میں چھتوں سے اس پرپانی گراکر محبت کا اظہارکیاجاتااورخیال کیاجاتاکہ اس کو بھگونے سے بارش ہوگی۔۔۔ نتیجے میں گالیوں کاایک ایساطوفان بابے کے منہ سے نکلتاکہ بس نہ پوچھیں۔اس طرزکی گالیاں میں اپنی پوری زندگی میں اس کے بعدنہیں سنیں ۔۔۔ بڑی اور گندی۔۔۔لیکن محبت میں لِپٹی ۔

لوگوں کی منشا بھی یہی ہوتی تھی ۔گالیاں ۔۔۔ محبت میں بھیگی گالیاں ۔ وہ گالیاں دینے کے لیے گھر سے نکلتااور لوگ اس کاانتظارگالیاں سننے کے لیے کرتے۔حیرت ہے کہ ا س سارے عمل میں نہ کسی کو غصہ آتااورنہ کوئی اپنی عزت میں کمی محسوس کرتا۔
گرمیوں کی ایک سخت سہ پہرمیں لوگ ابھی گلیوں، چھتوں پرنہیں نکلے تھے ۔کیادیکھتاہوں کہ بابامَنّاں گلی کی دیواروں پراپنی چھڑی زورزور سے مارتااونچی آوازمیں گالیوں بھراگیت گاتاگزر رہاتھا۔بہت اُداس اوردُکھی معلوم ہورہاتھا۔شاید اُسے وقت کااحساس نہیں رہاتھااور وہ لوگوں میں محبتیں بانٹنے ذراجلدی نکل پڑاتھا۔ایک عجیب کرب تھااس کی آوازمیں ۔کہے جارہاتھا
’’ کِتھے مر گئے او تُسی اَج سارے ۔۔۔ کوئی واج نئیں دیندا ۔۔۔ باہر نکلو تہاڈی بھین دی ۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘
اور پھرمیں نےہنستے ہوئے دائیں بائیں زمین پر دیکھاکہ کچھ مل پائے اوراسے بتاوں کہ میں زندہ ہوں۔۔۔۔زندہ تومیں آج بھی ہوں مگرایک قیدی کی طرح ۔پہلے اپنی ذات کاقیدی تھا اوراب کورونا کاقیدی ۔پوری دنیاقیدخانے ہی میں توتبدیل ہوگئی ہے ، اس میں میری کیااوقات کہ رہائی کا سوچوں ۔
عرصہ بیت گیااس بات کولیکن ’’ بابے مَنّے ‘‘ کامحبت بھراکردارآج بھی میرے اندرزندہ ہے ۔ویسے بھی جب بستیاں اپنے اوپرموت اوڑھ لیں تواندر بسنے والے زندہ لوگ زیادہ یاد آتے ہیں۔ آج پھرگرم اور سُنسان سہ پہرمیں کھڑکی کھول کراپنے اردگرد کچھ تلاش کرنے کی کوشش میں ہوں لیکن پھربیٹھ جاتاہوں کہ اب ’’ بابامَنّاں ‘‘ کہاں سے لاسکتاہوں۔اپنے آپ سے سوال کیے جارہاہوں کہ ہم نے پڑھ لکھ کر ان بابوں کے کلچر سے جان توچھڑالی لیکن کیایہ لوگ ہم سے بہترنہیں تھے؟
ہاں یہ لوگ قیدی نہیں تھے ہماری طرح ۔ محبتیں بانٹنے والےیہ ’’ بابے‘‘ ۔۔۔ دھرتی پرنفرتیں اور اذیتیں بکھیرنے والے’’ بابووں‘‘ سے کئی درجہ بہترلوگ تھے ۔۔۔ دھرتی کے اصل وارث!

You might also like
  1. Ijaz Haider says

    بہت عمدہ تحریر ہے ڈاکٹر صاحب

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post