اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے : ناصرعلی سید

(ذکر وبا کے د وسرے پھیرے کی شدت کا)

تقریبات کے مؤخر ہونے کا۔ڈاکٹر شفیق،عتیق صدیقی،اشرف عدیل،انوار احمد شام،لعل زادہ لعل۔راحل بخاری،ڈاکٹر امجد حسین، ڈاکٹر اویس قرنی کا گوہر نوید گوہر کا ،عزیز عادل کا،مشتاق احمد کا،اقبال سکندر کا،ڈاکٹر ہمایوں ہما،ڈاکٹر اسرارکا اور دو کتب شب ریز اور زندگی کا۔۔ لنڈی ارباب کے قلم قبیلہ کا ذکر بھی ھے۔۔دوستوں کے لئے۔ناصر علی سیّد

کسی شام کو کسی موڑ پر ترے ساتھ میں بھی ہوں ہمسفر
۔۔۔۔۔
پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

ایک بار پھر احتیاط اور پہلے سے زیادہ احتیاط کی ہدایات سارے میں گونجنے لگی ہیں۔ایک طویل عرصہ کی مجلسی زندگی سے دورگھروں میں ممکنہ نظر بندی کے بعد آہستہ آہستہ ڈرے اور سہمے ہوئے لوگ گھروں سے باہر نکلنا شروع ہوئے کہ بارے وبا کے موسم کا کچھ زور تو ٹوٹا، کار ادب کے لئے تو خیر گھروں میں رہنے سے بھی فائدہ ہوا، اور احباب نے عدیم الفرصتی کی وجہ سے مؤخر کئے ہوئے کام پائپ لائن سے نکالنا شروع کر دیئے، ہر چند کہ ادبی سرگرمیوں کا زیادہ دارو مدار تقریبات پر اس لئے بھی ہوتاہے کہ اس سے تحریک کی ایک صورت پیدا ہوتی ہے،مکالمہ جنم لیتا ہے،مکالمہ جو ان دنوں چاروں اور چھائے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں خود سے بھی ممکن نہیں رہا،خود کلامی کے لئے بھی بہت سی گہری خاموشی،تنہائی اور اداسی کی ضرورت ہوتی ہے اور کار دنیا کے جان لیوا مراحل میں ان کا میسر آنا مشکل ہوتا چلا جارہا ہے، باہر جتنا شور بڑھتا جاتا ہے اندر اتنی ہی ویرانی اور اکتاہٹ پھیلتی جاتی ہے، جس سے شور کی ایک اور صورت پیدا ہوتی ہے
میرے اندر شور مچائے
چپ کا ایک سمندر سائیں
پشاوری روزمرہ کے مطابق اب جو ذرا کسی طرف سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا اور وبا کا شور کم ہوا تو ایک بار پھر مجلسی زندگی نے بھی انگڑائی لی اور سماجی تقریبات کے پروگرام بننے لگے خصوصا گلابی سردیوں کے زمانے کو شادیوں کا موسم کہا جاتا ہے سو میز پر شادی کارڈز بہار دکھانے لگے، اسی طرح ادبی تقریبات بھی آغاز ہوئیں پہلے ماہانہ نشستوں والی تنظیمیں فعال ہوئیں پھر ہفت روزہ اور پندرہ روزہ حلقے کھل گئے، اسی طرح کچھ بڑی تقریبات بھی ہوئیں اورکچھ ابھی ہونے والی تھیں کیونکہ ہر ایک کے ذہن میں
عبد الاحد ساز کا سا ا حساس جگہ پانے لگا تھا
ساز ؔہے دل زدہ اب بھی ترے شعروں کے طفیل
ہم تو سمجھے تھے کہ اے میر ! ؔ یہ آزار گیا
مگر اس آزار نے شاید تھوڑے دنوں میں بہت کام کر لیا تھا اس لئے سانس بحال کرنے تھوڑا سستانے بیٹھ گیا تھا،اِدھر اس کا شور کم ہوا اْدھر یہاں وہاں لوگوں کی مجلسی زندگی میں بے تکلفی در آئی، اور شب و روز پھر اسی ہنگامے کی نذر ہو نے لگے، صورت حال یکسر تبدیل ہوئی تو وبا نے پھر سے آنکھیں دکھانا شروع کر دیں اور اب ’ ایک بار پھر احتیاط اور پہلے سے زیادہ احتیاط کی ہدایات سارے میں گونجنے لگی ہیں‘گھروں میں بجنے والے شادیانے مدھم پڑنے لگے کہ شادی ہال کی بندش کی خبر نے انہیں ’گویم مشکل و گر نہ گویم مشکل کی کیفیت کا شکار بنا دیا۔ ادبی تقریبات جو کسی حد تک محدود تھیں سر دست وہ تو جاری ہیں تاہم بڑی تقریبات اور خصوصا بعض شہروں میں تازہ ترین صورت حال کے تحت سرکاری اداروں کی جلد ہونے والی نشستیں بھی مؤخر کر دی گئیں، خود مجھے آج جمعرات کو الحمرا کے ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے لاہور جانا تھا،مگر گزشتہ شام پنجاب آرٹس کونسل کے ابرار جی نے معذرت کے ساتھ مشاعرے کے ملتوی ہونے کی اطلاع دی کہ صوبائی حکومت نے مشاعرے روک دئیے، کل پاکستان مشاعرے ہوں یا عالمی مشاعرے اس میں احباب کی ایک دوسرے سے ملاقاتوں کا اپنا ایک لطف ہے، دو دن پہلے ہی کوئٹہ سے افضل مراد اور سکھرکے ایاز گل سے بات ہوئی، ان کو بھی آنا تھا،یہاں سے ہم سفر تھے اسیر منگل مگر پھر وہی ہوا جس کا کچھ کچھ اندازہ ہم سب کو ہو گیا تھا
کسی کے وعدے پہ گزری ہے میری شام تمام
دھرا ہی رہ گیا اب کے بھی اہتمام تمام
اسی طرح ایک طویل گفتگو ٹیلی فون پر معروف شاعر ڈاکٹر شفیق سے پاکستان اور نیو یارک کی رفتار ِ ادب پر ہوئی ، خصوصا دوست ِ مہربان عتیق احمد صدیقی کی ادبی خدمات کے حوالے سے گھنٹہ بھر گفتگو ہوئی ، ڈاکٹر شفیق کہہ رہے تھے کہ عتیق صدیقی کی طبیعت کی ناسازی کا سن کر جب عیادت کے لئے میں نیو یارک سے بنگ ہیمٹن (اپ سٹیٹ نیو یارک) قریب قریب ساڑھے چار پانچ گھنٹے کی ڈرائیو سے پہنچا تو سارا راستہ سوچتا رہا اور عتیق صدیقی کی ادب دوستی کو خراج پیش کرتا رہا اتنی طویل ڈرائیو کہ ایک بار بھی آنے جانے کے لئے سو بار سوچنا
پڑتا ہے عتیق صدیقی مہینے میں کم و بیش دو دو تین تین بار دوستوں کی دعوت پرنیویارک آتے ہیں،کیونکہ وہ شریف النفس اور یاروں کے یار کسی دوست کو“ نا“ نہیں کہہ سکتے، میں نے اس پر یہ اضافہ کیا کہ عارف افضال عثمانی کے ٹی وی چینل کے پروگرام کے لئے انہیں ہر ہفتے بھی آنا پڑتا تھا، اس وقت وہ اردو اور پشتودو پروگراموں کے اینکر اور ماڈریٹرتھے،اسی طرح جب بھی کوئی دوست امریکہ آتا تو اتنی ہی طویل ڈرائیو سے ائیر پورٹ دوست کے خیرمقدم کو پہنچتے۔ سراپا محبت عتیق صدیقی کے بارے میں گفتگوکے ساتھ ساتھ ڈاکٹر شفیق نے موسم کے کھلنے تک امریکہ پہنچنے کا سندیسہ بھی دیا، میں نے کہا کہ اب تو ایک بار پھر وبا سر اٹھانے لگی ہے، دیکھئے کب موسم بدلتا ہے پھر سوچتا ہوں، ادھر ڈاکٹر اشرف عدیل کی بھی خواہش ہے کہ ایک بھر پور نشست عتیق احمد صدیقی کے اعزاز میں ترتیب دیتے ہیں، آپ کا ہونا بھی لازمی ہے، سر دست تو یہی سوچا کہ آن لائن ہو جائے تو زیادہ احباب شریک ہو سکیں گے اور یار ِ طرحدار کے حوالے سے گفتگو ہو پائے گی، ایسی ہی ایک آن لائن ادبی محفل رواں ماہ کی پندر ہ تاریخ کو ٹولیڈو(اوہائیو) سے ڈاکٹر امجد حسینکی بھی اب فائنل ہو چکی ہے، جس میں فینکس میں مقیم پشاور کے افسانہ و انشائیہ نگار مشتاق احمد کی شرکت بھی متوقع ہے، یادش بخیر مشتاق احمد نے میری ہندکو کتاب زندگی کا اردو ترجمہ کر کے کتابی صورت میں شائع کیا ہے جس میں ایک مبسوط اور عمدہ مقدمہ صوفی دانشور اقبال سکندر نے بھی لکھا ہے،اس مقدمہ کا قصہ بھی سن لیجئے، مقدمہ میں اقبال سکندر نے جہاں ڈرامہ،ترجمہ اور ڈرامہ نگار کے بارے میں لکھا وہاں کچھ اشارے مذکورہ ڈرامہ کی کہانی کے بھی دئیے،اب یہ مقدمہ جو پیش لفظ کے طور پر کتاب میں شامل ہو نا تھامشتاق احمد اس کے لئے تیار نہ تھے کیونکہ اس طرح کہانی کھل جانی تھی اور وہ ڈرامہ کا سسپنس برقرار رکھنا چاہتے تھے، لیکن بیک وقت ان کی خواہش تھی کہ اتنا عمدہ مضمون کتاب میں شامل بھی ہو جس کا حل یہ نکالا گیاکہ مقدمہ کتاب میں ”پس ِ لفظ “ کے طور پر شامل ہوجائے، ایسا ہی کرنا پڑا، ادب کی پندرہ روزہ نشستوں کی جب میں بات کر رہا تھا تو میرے پیش نظر پشاور کے مضافات میں لنڈی ارباب کے دوستوں کی محفلیں تھیں جو ایک زمانے سے باقاعدگی سے ان ادبی مجلسوں کا اہتمام کرتے ہیں،کررہے ہیں کبھی ان محافل کے روح و رواں ارباب صابر حیات اور داد محمد دلسوز سمیت کچھ اور دوست بھی تھے جو آخری سانسوں تک کار ادب میں جتے رہے ، کتابیں شائع کرتے اور محافل سجاتے رہے، ان کے ساتھ چلنے والے اور ان کے بعد آنے والے اس علاقہ کے قلم قبیلہ سے جڑے ہوئے قلمکار اتنی ہی باقاعدگی اور جوش کے ساتھ اب بھی ہر پندرواڑے محفل جماتے ہیں، اور گرد و نواح سے بہت احباب اس میں شریک ہوتے ہیں، مجھے بھی ان نشستوں میں شریک ہونے کا موقع ملا جب منور ایڈوکیٹ کی کوئی تخلیق پیش ہوتی تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے، سچی بات یہ ہے کہ مضافات میں کار ادب جس محبت اور خلوص کے ساتھ ’نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا‘ کے جذبے کے ساتھ ہو رہا ہے وہ چپ کرا دیتا ہے، خصوصا لنڈی ارباب کی جن نشستوں میں مختلف اصناف پر لیکچر اور سوال جواب کا ڈول جاتا ہے،بہت خوشی ہوتی ہے،شہروں میں چونکہ نشستوں میں حاضری بھی کم ہوتی ہے اور وقت بھی کم ہو تا ہے اچھی جگہیں بھی کم کم دستیاب ہو تی ہیں پھر شام ڈھلے سے پہلے کوئی وقت بھی نہیں دے سکتا اس لئے کار ادب کی طرف توجہ بھی چند سر پھروں کے علاوہ کم کم دی جاتی ہے، پھر جو ایک سیکھنے سکھانے کا عمل ہے وہ رک سا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی تخلیق کوپورا وقت نہیں دے پاتا اوپھر ہماری تخلیقات ہماری کم توجہی کی چغلی کھاتی نظر آتی ہیں، زبان و بیان کی عدالت میں الگ سے کھڑا ہونا پڑتا ہے اس لئے ہر دور میں تنقیدی نشستوں کی ضرورت رہی ہے، اس سے دوسروں سے زیادہ اپنی تخلیقات کو پرکھنے کی عادت پڑ جاتی ہے، خیبر پختونخوا کا ایک بڑا ادبی مرکز مردان کا بھی ہے جہاں ہر دور میں معتبر قلمکاروں کا مستند کام سامنے آتا رہا اور یہ صرف پشتو زبان کے ادب کی بات نہیں اردو میں بھی اس شہر کی بڑی کنٹری بیوشن ہے، ایک قند کو لے لیں جو دونوں زبانوں کو اعتبار دلاتا رہا ہے، اس وقت بھی ڈاکٹر ہمایوں ہما اور ڈاکٹر اسرار سمیت تین نسلوں کے کئی معروف قلمکار مردان اور اس کے مضافات کے اپنے حصے کا اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جواں سال و جواں فکر دوست جن کا نام اور کام دنیائے اردو میں توجہ حاصل کر چکا ہے ان میں ڈاکٹر اویس قرنی اور گوہر رحمان نویدبھی شامل ہیں ڈاکٹر اویس قرنی تو مردان اب مہمانوں کی طرح جاتے آتے ہیں کہ پشاور کی تقریبات سے اگر ذرا فراغت ملتی ہے تو لاہور اور کراچی کا رخ کرتے ہیں، البتہ گوہر نوید کا دل مردان ہی میں اٹکا ہوا ہے اور وہاں چراغ ادب کو بجھنے نہیں دیتے، پشاور سے اسلام آباد تک ان کی بھی مانگ ہے مگر وہ تقریب کے اختتام پر واپس دوڑتے ہیں، ان دنوں اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ ’ محبان اردو مردان‘کی تنقیدی نشستوں کو بھی باقاعدہ بنا رہے ہیں اور کتابوں کی رونمائی کاڈول بھی ڈال رہے ہیں کل جمعہ13نومبرکی سہ پہر کو ’محبان اردو مردان ڈ‘ اکٹر ہمایون ہما کی صدارت میں دو کتابوں کی تقریب رونمائی کا اہتمام کر رہا ہے جس میں ایک کتاب ’اکرام اللہ گران‘ کے فن و شخصیت پر ہے جبکہ دوسری کتاب مردان کے خوبصورت لب و لہجے کے شاعر عزیز عادل کا پہلا شعری مجوعہ ”شب ریز“ ہے شب ریز مجھے دیکھنے کا موقع ملا ہے جدید حسیات سے مملو اس عمدہ شعری مجموعہ نے مجھے اس لئے بھی سرشار کیا کہ ہر چند بیک ٹائٹل پر رحیم یار خان کے اظہر ادیب کی رائے دی گئی ہے مگر عزیز عادل کے شعر کے فکری نظام کو سمجھنے میں مدد دینے والے جو بہت ہی اہم، دلکش اور نئے پیرایہ اظہار کے مضامین شامل ہیں وہ لکی مروت کے راحل بخاری، مردان کالج کے پروفیسر لعل زادہ لعل اور مردان ہی کے انوار احمد شام کے ہیں جو بہت توانائی بخشتے ہیں اور یہ اس بات کاثبوت ہے کہ اردو کے بڑے مراکز سے دور عمدہ شعر و ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ سچ یہی ہے کہ ہر دور اپنے ستارے اپنے ہمراہ لاتا ہے اور ان ستاروں کی روشنی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے، شب ریز سے ایک شعر کے ساتھ بشرط زندگی اگلی نشست تک اجازت چاہوں گا
کسی شام کو کسی موڑ پر ترے ساتھ میں بھی ہوں ہمسفر
بڑی عمر میں نے گزار دی اسی آس میں اسی خواب میں

You might also like
  1. گمنام says

    وااااااااہ، کیا کہنے، شاندار، اور ساتھ ساتھ دل گرفتہ ہونے کا احساس بھی، قدرت سے بھرپور دعا ہے کہ اب کرونا سے دنیا کی نجات ممکن ہو۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post